بشر کی حقیقت …………………..تحریر اکمل بھٹو
بشر انسان کو کہتے ہیں، اس کے معنی انسان کی ظاہری کھال کے ہیں۔ قرآنی شہادت کے مطابق بشر کی تخلیق کے وقت کارکنان قضا و قدر یعنی فرشتوں نے یہ کہہ کر شدید احتجاج نما اعتراض کیا کہ یہ مخلوق بہت سفاک ہوگی، سر کش و نا فرمان نکلے گی مگر خدائے لم یزال کی مشیت و حکمت کچھ اور دیکھ رہی تھی، جو فرشتوں کے فہم و ادراک سے ماورا تھا، چنانچہ قدرت خداوندی فرشتوں کے اعتراض پہ مسکرائی اور انہیں آگاہ کیا کہ "اِنّی اعلم ما لا تعلمون” تمہارے محدود علم و ادراک کے پیمانے میں میرے لا محدود علم و مشیت کے نتائج نہیں سما سکتے۔ بس دیکھتے جاؤ میں کیا کرنے لگا ہوں۔۔۔
فرشتوں کے اس اعتراض کے بر خلاف خدا نے نہ صرف بشر کو خلق فرما دیا بلکہ اسے اشرف المخلوقات کی خلعت فاخرہ بھی پہنا دی، مگر کیا بشر کی کھال کا مالک ہر انسان اس شرف و امتیاز کا حامل ہے؟ جی نہیں، پھر بشر کو اشرف کا درجہ کیسے ملتا ہے، یہ ملین ڈالر کا سوال ہے۔
یہ نہیں ہو سکتا کہ ہر چلتا پھرتا حرکت کرتا وجود اشرف کہلانے کا مستحق ہو۔ قدرت نے تمغہ اشرفیت کو پانے کیلئے ایک فارمولا طے کر دیا ہے، کچھ اخلاقی، کچھ آفاقی اور کچھ الہامی اصول دیے ہیں، جو فرد بشر ان سے گزر کر پورا اترے گا وہی اشرف کا تمغہ سینے پر سجانے کا حقدار ہوگا۔
خدا کے ہاں ایک معیار مقرر ہے جو بشر کو اشرف کے درجے پر فائز کرتا ہے۔ قدرت نے انسان کے خمیر میں یہ وصف ودیعت کیا ہے کہ وہ ایک دوسرے کے درد سے شناسا ہوں اور ایک دوسرے کی محرومیوں کے ازالے کا جذبہ رکھتے ہوں۔
اگر ایک بشر اس احساس، جذبہ خدمت اور انسانیت کی فلاح سے خالی و عاری ہوگا تو وہ بشر یعنی انسان نما کہلا سکتا ہےمگر وہ اشرف کے اعزاز سے محروم ہے۔ چنانچہ انسانی سوسائٹی کا امن ترقی خوشحالی اور فلاح و بہبود اشرف و ممتاز درجے کے انہی کامل انسانوں کے کردار سے منسوب ہے جو خدا کے مطلوب انسان ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس جو فردِ بشر صرف اپنی ذات کے دائرے میں کولہو کے بیل کی طرح مشقتوں میں جتا رہتا ہے، اس کا ہونا نہ ہونا برابر ہے۔ وہ جو شاعر نے کہا ہے:
مرنا بھلا ہے اس کا جو اپنے لئے جئے
جیتا ہے وہ جو مر چکا ہو غیر کیلئے
آج ہمارے زوال کی واضح وجہ بھی یہی ہے کہ اجتماعی سوچ اور انسانیت سے زیادہ اپنی ذات کی فکر کا غلبہ ہے۔ جن معاشروں میں اسلام اور انسانیت کے آفاقی اصول رایج ہیں وہاں نظام زندگی آسان ہے اور جہاں صرف اپنی خوش حالی مطمح نظر ہو وہاں چند افراد تو مطمئن ہو سکتے ہیں مگر مجموعی طور پر وہاں خوش حالی کا ماحول نہیں بن سکتا لہذا ہمیں بطور مسلمان اور انسان اپنے مقصد تخلیق کو سمجھنا چاہیے اور انسانیت کے کام آ کر ثابت کرنا چاہیے کہ انسان ہونے کا تقاضا یہی ہے۔


