151

موضوع: واپڈا اور متاثرین گولین گول ……..تحریر: ثناء شہاب برغوزی

گولین گول ہائیڈرو پاور پراجیکٹ جو تقریبا سو میگاواٹ بجلی پیدا کر رہا ہے اور گزشتہ سالوں سے ملک عزیز کے دوسرے علاقوں کے ساتھ ساتھ چترال کا بھی چپہ چپہ اس کی روشنیوں سے دمک رہا ہے۔ کیا آپ کو معلوم ہے کہ یہ مفت میں نہیں بنا ہے۔ اس کے پیچھے اہل چترال اور خصوصا اہل کوغذی کی لازوال قربانیاں ہیں۔۔
اس بجلی گھر کی تعمیر کے لئے کوغذی کی زمینات کو مٹی کے بھاؤ پر خریدی گئی۔ یہاں کے باسی بے گھر ہوگئے۔ اپنے جنت نظیر گاؤں کو چھوڑ کر دور دراز علاقوں میں بیگانے لوگوں جیسے زندگی گزارنے پر مجبور ہو گئے۔ اپنوں سے ،اپنوں کی محبتوں سے دور نکل گئے۔۔ ہماری چھتوں، ہماری آنگنوں کے وسط میں بجلی کے بڑے بڑے کھمبے نصب کیے گئے۔ لہلہاتی فصلوں کے اوپر سے ہائی وولٹیج تاریں گزاری گیئں۔ یہ علاقہ اپنا حسن کھو بیٹھا ہے۔ ملک کے طول وعرض سے لوگوں کو بھرتی کی گئی ۔ وعدہ کیا گیا تھا کہ درجہ چہارم کے ملازمین چترال کے متاثرین کو دیں گے۔ مگر ان کی جگہ پنجاب کے وڈیروں اور چودھری برادریوں کے متاثریں کو دیئے گئے۔ خیر یہ باتیں ماضی کی ہیں۔ یہ باتیں قصہ پارینہ ہیں۔ ان کی دہرائی سے اگرچہ کوئی خاص فائدہ نہیں۔ پر دل کا بوجھ ہلکا ضرور ہوتا ہے۔
اس وقت واپڈا کالونی میں واپڈا کی نگرانی ایک نیم سرکاری سکول کی بنیاد رکھی گئی ہے۔ اہل چترال کے لئے یہ بڑی خبر ہے مگر ستم بالائے ستم یہ ہے کہ سکول کے لئے تدریسی سٹاف اب پنجاب سے آنا شروع ہو گئے۔ اہل واپڈا اس مرتبہ بھی ہمارے زخموں کے اوپر نمک چھڑکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ چترال پاکستان کے تعلیم یافتہ اضلاع میں سے ایک ہے۔ یہاں تعلیم کی شرح سو فیصد ہے۔ ان کے ہوتے ہوئے باہر سے اساتذہ کو بھرتی کرنا اہل علاقہ کے ساتھ مذاق بھی ہے اور دشمنی بھی۔ ہم کم ازکم یہ برداشت کرنے سے قاصر ہیں۔
میں چترال کے لکھاریوں سے اپیل کرتی ہوں کہ اس موضوع پر لکھیں تاکہ ارباب اختیار تک ہماری آواز پہنج جائے۔ چترال سے اس وقت چھ ایم این اے اور ایم پی اے خواتین و حضرات اسمبلیوں میں موجود ہیں ، میں ان سے پوچھنا چاہتی یوں کہ آخر آپ کس مرض کی دوا ہیں۔۔اگر آپ چترال کے تعلیم یافتہ بچوں کو یہ حق نہیں دے سکتے تو ازراہ کرم واپس آئیں۔ ادھر حکومت پر بوجھ نہ بنیں۔۔مگر میری امید ہے کہ آپ تمام اختلافات کو بھلا کر اس معاملے میں ایک ہو جایئں گے۔۔ میں واپڈا کے چیئرمین سے درخواست گزار ہوں کہ ہماری قربانیوں کا صلہ اس صورت میں ہمیں عطا کرے۔۔میری امید ہے کہ کوئی اللہ کا نیک بندہ اس سلسلے میں سنجیدہ قدم اور قلم اٹھائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں