56

ایک سال گزرگیا۔۔۔۔۔۔۔پروفیسررفعت مظہر

16دسمبر اور 9مئی تاریخِ پاکستان کے 2 ایسے سانحات ہیں جنہیں بھولنا چاہیں بھی تو نہیں بھلائے جاسکتے۔ 16دسمبر کو آرمی پبلک سکول پشاور پر تحریکِ طالبان پاکستان کے دہشتگردوں نے حملہ کیا اور سکول کے 150سے زائد معصوم بچوں کے خون سے ہولی کھیلی۔ 9مئی 2023ء کو ایک سیاسی جماعت کے شَرپسندوں نے پورے پاکستان میں فوجی تنصیبات پرتاک تاک کرحملے کیے اور یوں محسوس ہوتا تھاکہ جیسے منصوبہ سازوں نے پہلے ہی ٹارگٹ مقرر کررکھے ہوں۔ پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل احمدشریف چوہدری نے اُنہیں سیاسی انتشاری ٹولہ کہالیکن پتہ نہیں اُنہوں نے کِس مصلحت کے تحت نرم الفاظ استعمال کیے۔ حقیقت یہ کہ ٹی ٹی پی اور اِن شرپسندوں میں کوئی فرق نہیں۔ اِس لیے مناسب ترین الفاظ میں اِنہیں دہشت گردہی کہا جاسکتا ہے۔ تحریکِ طالبان بھی مذہب کی آڑمیں دہشت گردی کرتی رہی اور کررہی ہے جبکہ اِس سیاسی جماعت کا منصوبہ سازبھی ”ریاستِ مدینہ“ کی تشکیل کا دعویٰ کرتا رہا۔ تحریکِ طالبان نے جی ایچ کیو کی پریڈلین مسجد پرحملہ کیا اور 9مئی کے دہشت گردنہ صرف جی ایچ کیوپر حملہ آور ہوئے بلکہ لاہور کینٹ میں کورکمانڈر ہاؤس کو جلایا، میانوالی میں 1965ء کی یادگار فائٹر طیارے کو نذرِآتش کیا، گجرانوالہ کینٹ پرحملہ آور ہوئے، کرنل شیرخاں کا مجسمہ توڑا، شُہداء کی یادگاروں کی بے حُرمتی کی اور پورے پاکستان میں جہاں کہیں بھی فورسز کی تنصیبات ملیں اُن پرحملہ آور ہوئے۔ تحریکِ طالبان کا ہمیشہ ٹارگٹ پاکستان کی فورسز رہیں اور سانحہ 9مئی کے دہشت گردوں کا ٹارگِٹ بھی یہی تھااِس لیے ہم یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ سانحہ 9مئی کے منصوبہ ساز اور حواری مسلمہ دہشت گرد ہیں لیکن پتہ نہیں کس مصلحت کے تحت ایک سال گزرنے کے باوجود بھی اُن کا فیصلہ نہیں ہوسکا۔ یہ سنتے سنتے کان پک چکے کہ قانون اپنا راستہ خودلے گالیکن وہ قانون ہے کہاں؟۔ کیا وہی قانون جو ماسٹر مائینڈ کو اُن مقدمات میں بھی ضمانت دے دیتا ہے جو ابھی درج بھی نہیں ہوئے۔ کیا وہی قانون جو ماسٹرمائنڈ کی خاطر آئین ہی بدل دیتا ہے؟۔ یاپھر وہی قانون جو دیدہ ودِل فرشِ راہ کیے ہوئے ماسٹرمائنڈ کو Good to see you کہتا ہے۔ وہ قانون بھلا اُسے کیا سزادے گاجو مجرم ہے لیکن اُس کی خاطر اڈیالا جیل کی بیرکیں توڑکر اُس کی رہائش، چہل قدمی اور ورزش کا وسیع انتظام کیا جاتا ہے۔ جودیسی گھی میں پکی ہوئی دیسی مرغی کھاتے کھاتے قوم کا 36لاکھ کھا گیا۔ جس کی صحت کا دھیان رکھنے کے لیے ڈاکٹروں کی ایک ٹیم ہمہ وقت مستعداور سکیورٹی کے لیے شاہانہ پروٹوکول۔ اب بشریٰ بی بی کوبھی بنی گالاسے اڈیالا جیل منتقل کردیا گیا ہے۔ دیکھتے ہیں کہ اُس کی رہائش کے لیے کتنی بیرکیں توڑی جاتی ہیں۔
7مئی کو پاک فوج کے ترجمان میجرجنرل احمدشریف نے ایک دھواں دار پریس کانفرنس کی۔ اُنہوں نے فرمایا ”9مئی کرنے اور کروانے والوں کو آئین کے مطابق سزا دینا ہوگی۔ وہ کردار جنہوں نے 9مئی کی منصوبہ بندی کی اگراِن کو کیفرِکردار تک نہ پہنچایا گیاتو ہمیں ایک اور 9مئی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ اگر کوئی سیاسی سوچ، لیڈر یاٹولہ اپنی ہی فوج پر حملہ آورہو اور شہداء کی تضحیک کرے تو اُس سے کوئی بات چیت نہیں کرے گا“۔ اُنہوں نے یہ بھی فرمایا ”ایسے سیاسی انتشاری ٹولے کے لیے صرف ایک ہی راستہ ہے کہ وہ قوم کے سامنے صدقِ دِل سے معافی مانگے جبکہ بات چیت سیاسی جماعتوں کوآپس میں زیب دیتی ہے۔ اِس میں فوج یاادارے کا ہونا مناسب نہیں“۔ بجا ارشاد مگر تحریکِ انصاف کے سابق سپیکر اسدقیصر نے معافی مانگنے پر ردِعمل دیتے ہوئے کہاکہ معافی مانگنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، ہم تو اپنے باپ سے بھی معافی نہیں مانگتے“۔ یہی تووہ سوچ ہے جو عمران خاں نے پروان چڑھائی ہے۔ اللہ تعالیٰ کاحکم ہے کہ اللہ کاشکر اداکرو اور والدین کا شکر اداکرو لیکن بانی پی ٹی آئی کے اسدقیصر جیسے حواری والدین کاشکر ادا کرنے کی بجائے اپنی کسی غلطی پر اُن سے معافی مانگنے کے روادار بھی نہیں۔ ویسے بھی چیف آف آرمی سٹاف حافظ سیدعاصم منیرنے 9مئی کو کور ہیڈکوارٹر لاہورمیں آرمی آفیسرز سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ سانحہ 9مئی کے ذمہ داروں کوکسی بھی صورت میں معاف نہیں کیا جائے گا۔ اُنہوں نے فرمایا ”جو لوگ مجرمانہ عناصر کے مضموم سیاسی مقاصد نہیں سمجھ سکے، اُنہیں منصوبہ سازوں نے اپنی خواہشات کا ایندھن بنایا۔ اِن ورغلائے ہوئے افراد کوسپریم کورٹ کی ہدایت پرپہلے سے شک کا فائدہ دیا جاچکا ہے۔ اِس گھناؤنے منصوبے کے اصل رَہنماء خودکو معصوم ظاہر کرتے ہیں، اِنہیں اب اپنے جرائم کاحساب دینا پڑے گا، خصوصاََ جب اُن کے ملوث ہونے کے واضح ثبوت ہیں“۔ جنرل صاحب کے اِس واضح مؤقف کے بعدشک وشبے کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ وزیرِاعظم میاں شہبازشریف نے بھی 9مئی کے حوالے سے فرمایاہے کہ سانحہ 9مئی چیف آف آرمی سٹاف کے خلاف بغاوت تھی۔ جہاں تک ہمارے علم کاتعلق ہے باغی کی سزاتو پھانسی ہوتی ہے۔ توکیا بانی پی ٹی آئی کایہی انجام ہونے والا ہے؟۔ جہاں تک سیاسی جماعتوں کے مزاکرات کاسوال ہے تو جو شخص سیاسی جماعتوں سے ہاتھ ملانے کوبھی تیار نہیں وہ بھلا مذاکرات کی میزپر کیوں بیٹھے گا۔ انتہائے خودپسندی کا شکار مغرورومتکبر بانی پی ٹی آئی اپنے آپ کو عقلِ کُل سمجھتا ہے۔ اُس کی روزِ اوّل سے شدیدترین خواہش ہے کہ کسی نہ کسی طریقے سے دیگرسیاسی جماعتوں کو جَڑسے اُکھاڑ پھینکے۔ حصولِ مقصد کے لیے اُسے ایک دفعہ پھر فوج کی ”گود“ درکار ہے جس کے لیے وہ خوداور اُس کے حواری ہمہ وقت کوشاں رہتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ اب اُس پرکوئی بھی اعتبار کرنے کو تیار نہیں۔ ظاہر ہے جو شخص پاک فوج کوایک سے زائد مرتبہ ”جانور“ کہہ چکا ہو، اُس پر کیسے اعتبار کیاجا سکتا ہے؟۔ یہ بھی تلخ حقیقت ہے کہ بانی پی ٹی آئی کا انتخاب پاک فوج ہی نے کیااور پھر اُس کے عشق میں ہرحد عبور کرلی۔
ترجمان پاک فوج نے فرمایا ”ہم عدالتی کمیشن کے لیے تیار ہیں، کمیشن اِس بات کابھی احاطہ کرے کہ کس طرح لوگوں کویہ ہمت دی گئی کہ آپ ریاست کے خلاف کھڑے ہوں، پاسپورٹ جلائیں، سول نافرمانی کریں، بجلی کے بِل جلائیں، کس طرح 2016ء میں خیبرپختونخوا کے سرکاری وسائل سے دارالخلافہ پردھاوا بولیں اور 2022ء میں دوبارہ دھاوا بولیں۔ کمیشن یہ بھی دیکھے کہ کیسے آئی ایم ایف کوخطوط لکھے گئے، باہر فرمزکے ذریعے لابنگ کی گئی کہ پاکستان کو دیوالیہ ہونے دیا جائے، اِس کوقرضہ نہ دیا جائے۔ پاک فوج کے ترجمان نے جوکچھ فرمایا وہ بالکل سچ اور ناقابلِ تردید۔ 2014ء کے دھرنوں میں پوری قوم اِس کا مشاہدہ بھی کرچکی۔ 2016ء اور 2022ء میں اسلام آبادپر یلغار کا بھی پورا پاکستان گواہ مگر اِس میں کچھ پردہ نشینوں کے بھی نام آتے ہیں۔ سابق آئی ایس آئی چیفس جنرل پاشا اورجنرل ظہرالاسلام اِس میں ملوث۔ ظہیرالاسلام تواِس کابرملا اقرار بھی کرچکے اور سابق آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ نے بھی عمران خاں کو آگے لانے کی غلطی کا اعتراف کیا۔ اب اگر بات 2014ء کے دھرنوں سے شروع ہوتی ہے توکیا اِن اصحاب کوبھی کٹہرے میں لایا جائے گا؟۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں