تازہ ترین
چترال کے نوجوانوں کیلئے اعلی تعلیم تک رسائی ایک خواب تھا ۔ جو کہ تحریک انصاف کی صوبائی حکومت نے حقیقت کر دیکھایا،آفتاب ایم طاہر


جو خدمات سرانجام دیں ہم اُن کی خدمات کے معترف ہیں ۔ خصوصا اس سلسلے میں ایم پی اے چترال فوزیہ بی بی کی کوششیں باعث تحسین و آفرین ہیں ۔ جنہوں نے بار بار اسے وزیر اعلی خیبر پختونخوا اور قائد تحریک انصاف کے سامنے مثبت طریقے سے پیش کیا ۔ جس کے نتیجے میں یونیورسٹی کا قیام حقیقی معنوں میں ممکن ہوا ۔ آفتاب احمد نے کہا ، کہ چترال میں صرف سال 2015کے دوران مجموعی طور پر 34885طلباء و طالبات اعلی تعلیم کے حصول کیلئے سرگرم عمل رہے ۔ جبکہ 140کالجز فروغ تعلیم میں مصروف ہیں ۔ اس اعداد و شمار سے یہ واضح ہے ۔ کہ چترال کے لوگ تعلیم میں کتنی دلچسپی لیتے ہیں ۔ اور مکمل یونیورسٹی کا قیام چترالی عوام کی خواہشات کے مطابق تحریک انصاف کی قیادت کا اہم فیصلہ ہے ۔ جس سے چترال میں علم کی شمعیں کہکشاں کی صورت اختیار کریں گی ۔ عبداللطیف نے کہا ۔ کہ بعض لوگ انگلی کٹا کے شہدوں میں نام لکھنے اورتیار چیز وں پر اپنا سیاسی لیبل لگانے کے عادی ہیں ۔ لیکن چترال کے عوام ایسے رہنماوں کو بہتر طور پر جانتے ہیں ۔ جو دوسروں کے کریڈٹ پر ہمیشہ ڈاکہ ڈالتے ہیں ۔ ہمیں یونیورسٹی کی ضرورت تھی ۔ جسے ہمیں قائد تحریک انصاف عمران خان اور وزیر اعلی پرویز خٹک نے دے دیا ہے ۔ ہم اُن کے مشکور ہیں ۔