افغان مہاجرین کی وطن واپسی پران کی مجبوریوں سے ناجائز فائدہ اٹھانے سے گریز کیا جائے

چترال (بشیرحسین آزاد) سماجی حلقوں نے اس بات پر غم اور غصے کا اظہار کیا ہے کہ افغان مہاجرین کی وطن واپسی کے وقت مقامی لوگ ان کی مجبوری سے فائدہ اٹھا کر ان کی منقولہ اور غیر منقولہ املاک کو نیلام اور کباڑ کی قیمت پر خریدنے کی کوشش کرتے ہیں یہ رویہ اسلامی اخوت اور کا روباری اخلاقیات کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے چالیس سالوں میں افغان مہاجرین نے یہاں شادیاں کی، اپنے مکانات تعمیر کیے ان کے بچے ہماری گلیوں میں کھیل کر جوان ہوئے انہوں نے ہمارے سکولوں میں تعلیم حاصل کی ہماری زبان سیکھی ہمارے ساتھ ان کا معاشرتی رشتہ ان سالوں میں گہرا ہوتا گیا یہاں تک کہ ہم نے افغان مہاجرین کو کبھی اپنے سے الگ نہیں سمجھا اب وہ لوگ سرکاری حکم پر اپنے وطن کو واپس جارہے ہیں تو ان کی مجبوری کا ناجائز فائدہ اٹھا کر چار ہزار روپے کی چیز500 روپے میں خریدنا یا دس لاکھ روپے کا گھر دولاکھ روپے میں خریدنے کی کوشش کرنا کاروباری اخلاقیات اور اسلامی تعلیمات کی صریح خلاف ورزی ہے



