تازہ ترین

آیون کے وفد کی ڈپٹی کمشنر چترال سے ملاقات ، دریائی کٹاؤ اور آیون گرلز ہائی سکول کے مسائل سے ڈی سی چترال کو آگاہ کیا

چترال ( محکم الدین ) ڈپٹی کمشنر آفس چترال میں گذشتہ روز آیون میں دریائے چترال کی طغیانی اور سیلاب کی وجہ سے مکانات و زمینات اور کھڑی فصلوں کو پہنچنے والے نقصانات کا جائزہ لینے اور مستقبل میں علاقے کو دریائی کٹاؤ اور نقصانات سے بچانے کے حوالے سے ایک غیر معمولی اجلاس ہوا ۔ جس میں چیرمین وی سی 1 وجیہ الدین، کی سربراہی میں آیون کے معروف سیاسی ورکر خیرالاعظم ، شھزادہ مقصود المک ، بابو الیاس، صوبیدار ریٹائرڈ رحمت اکرم نے اس اجلاس میں شرکت کی ، اس موقع پر نیسپاک کے ریجنل ریزیڈنٹ انجینیر ،اور ایکسین ایریگیشن چترال ایس ڈی او عظیم اور ٹھیکدار کے ذمہ دار افراد بھی موجود تھے ۔ وفد نے آیون گول کے دہانے پر ملبہ ہٹانے اور دریا چترال کے ساتھ ساتھ حفاظتی پشتوں پر تعمیر کے کام کو دریا کم ہونے کے سییزن میں شروع کرانے کے لیے ڈی سی لوئیر سے ملاقات کی ،اور اس بات پر زور دیا ۔ کہ علاقہ آیون سیاحتی اور زرعی لحاظ سے انتہائی اہمیت کا حامل علاقہ ہے ۔ جو دریا چترال کی سطح بلند ہونے سے مسلسل کٹاؤ اور زیر آب آنے کے مسئلے سے دو چار ہے ،دریاء کے ساتھ سینکڑوں ایکڑ زمین فصلوں سمیت دریا برد ہوچکے ہیں اور کٹاؤ کا عمل جاری ہے ۔ اس کی بنیادی وجہ حکومتی عدم توجہی اور بے وقت حفاظتی پشتوں کی تعمیر ہے ۔ جبکہ حفاظتی پشتے اس وقت کامیاب ہو سکتے ہیں ۔ جب دریاء کا پانی سردیوں میں کم ترین سطح پر آجائے ۔ اور حفاظتی پشتوں کی بنیاد کیلئے صحیح کھدائی کی جا سکے ۔ اور کام معیار کے مطابق مکمل ہوں ۔ لیکن افسوس کا مقام ہے ۔ کہ ادارے ان چیزوں کو نہیں دیکھتے ۔ اور دریاء کی طغیانی کے دوران حفاظتی پشتوں کی تعمیر کیلئے میدان میں اتر آتے ہیں ۔ اور نمائشی کام کرکے فنڈ ضائع کرتے ہیں ۔ جس سے علاقے کو کوئی فایدہ نہیں پہنچ رہا ۔ لہذا فنڈ ضائع کرنے کی بجائے اسے وقت پراور صحیح طور پر استعمال میں لا کر آیون کو بچایا جائے ۔
اجلاس میں گورنمنٹ گرلز ھائی سکول کے لان کے بارے میں بھی محکمہ ایجوکیشن کی غفلت اور حکومتی عدم توجہ پر افسوس کا اظہار کیا گیا ۔ اور کہا گیا ۔ کہ ادارہ ایس آر ایس پی نے پاترپ پراجیکٹ کے تحت ایک شاندار سکول تعمیر کی ہے ۔ لیکن یہ سکول صحن سے محروم ہے ۔ بار بار کی درخواستوں کے باوجود اس سکول کے صحن ( لان ) کیلئے زمین نہیں خریدی گئی، جبکہ اس سکول میں طالبات کی تعداد 400سے زیادہ ہے ۔ اور اسمبلی کیلئے جگہ موجود نہیں ہے ۔ چترال سب سے زیادہ قدرتی آفات سے دو چار علاقہ ہے ۔ خصوصا زلزلے کے حوالے سے ریڈ زون میں واقع ہے ۔ اس لئے بڑی تعداد کے حامل گورنمنٹ گرلز ھائی سکول کی طالبات کو ہنگامی حالات میں کھلی جگہے کی طرف آنا فطری امر ہے ۔ لیکن اس سکول میں وہ کھلی جگہ موجود ہی نہیں ہے ۔ اس لئے ضلعی انتظامیہ سکول ہذا کیلئے ہنگامی بنیادوں پر زمین خرید کر حوالہ کرے ۔ تاکہ طالبات خدانخواستہ کسی ہنگامی صورت حال میں اس کھلی جگہ میں خود کو محفوظ کر سکیں ۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button