تازہ ترین
شندور کی ملکیت کے حوالے سے کوئی بھی بات لاسپور والوں کو قابل قبول نہیں ہوگی،منتخب نمائندوں کاپریس کانفرنس


صورت حال رہی تو لاسپور کے بیس ہزار عوام بھر پور مزاحمت کریں گے ۔ اور اپنی زمین کے چپے چپے کا دفاع کریں گے ۔ لاسپور کے عمائدین نے یاد دلایا ۔ کہ جون 1980میں کور کمانڈر پشاور مرزا اسلم بیگ نے چترال انتظامیہ کے ذریعے شندور فیسٹول منعقد کرواکر جنرل ضیاء الحق کو شندور آنے کی دعوت دی ۔ تو بھارتی میڈیا نے شندور کو متنازعہ علاقہ قرار دیا تھا ، گلگت انتظامیہ اور چیف منسٹر کی طرف سے شندور کی ملکیت کا دعوی بھارتی میڈیا کے پرو پگنڈے کا تسلسل ہے ۔ انہوں نے کہا کہ شندور میں لاسپور ویلی کے مختلف دیہات کے ساڑھے چھ سو گھر چار جماعت خانے اور پانچ مساجد موجود ہیں ۔ اور یہ بیس ہزار کی آبادی کا صدیوں سے گرمائی چراگاہ ہے ۔ اس پر ریاستی دور میں اور قیام پاکستان کے بعد بھی کبھی تنازعہ نہیں ہوا ۔ غذرکے لوگ ہمارے بھائی اور رشتے دار ہیں ۔ لیکن ایک سازش کے تحت بھارتی لابی ہمارے درمیان خلیج پیدا کرنے کی کوشش کرر ہا ہے ۔ درین اثنا آج ڈی آئی جی ، ضلع ناظم اور دیگر آفیسران کی ملاقات اور فیصلے کے بعد ضلعی انتظامیہ چترال کی طرف سے شندور کے انتظامات میں تیزی آگئی ہے ۔ چترال کی طرف سے پولو کے گھوڑے شندور پہنچ گئے ہیں ۔ اور سیکیورٹی سمیت دیگر ذمہ د ار افراد شندور کی تیاریوں میں مصروف ہو گئے ہیں ۔ ضلع ناظم چترال مغفرت شاہ نے نمائندے سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے کہا ۔ کہ چترال کے لوگ شندور فیسٹول میں سابقہ کی طرح شرکت کریں گے ۔ اور حسب روایت میزبانی کے فرائض انجام دیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ چترال کے شرکاء کے جذبات و احساسات کا