دنیا کے کس ملک میں پیٹرول کی کیا ریٹ ہے

دنیا بھر میں پٹرول کی قیمتیں صرف ایندھن کی لاگت نہیں بلکہ ہر ملک کی معاشی پالیسی، سبسڈی نظام، ٹیکس ڈھانچے اور توانائی کے وسائل کی عکاس ہوتی ہیں۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، 29 دسمبر 2025 کو اوکٹین 95 پٹرول کی عالمی اوسط قیمت 1.29 امریکی ڈالر فی لیٹر ریکارڈ کی گئی ہے، تاہم مختلف ممالک میں یہ قیمت انتہائی کم سے لے کر غیر معمولی حد تک زیادہ نظر آتی ہے۔
دنیا کے سستے ترین پٹرول والے ممالک میں لیبیا سرفہرست ہے، جہاں پٹرول محض 0.028 ڈالر فی لیٹر میں دستیاب ہے۔ اس کے بعد ایران، وینزویلا اور کویت جیسے ممالک آتے ہیں، جہاں تیل کے وسیع ذخائر اور بھاری حکومتی سبسڈیز عوام کو سستا ایندھن فراہم کرتی ہیں۔ الجزائر، مصر، قازقستان، نائجیریا اور سعودی عرب میں بھی قیمتیں عالمی اوسط سے خاصی کم ہیں، جو ان ممالک کی توانائی پالیسیوں اور قدرتی وسائل کی فراوانی کو ظاہر کرتی ہیں۔
خلیجی ممالک میں متحدہ عرب امارات میں پٹرول 0.702 ڈالر فی لیٹر میں مل رہا ہے، جو خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں قدرے زیادہ ہے، تاہم عالمی معیار کے لحاظ سے اب بھی کم تصور کیا جاتا ہے۔ روس اور امریکا میں پٹرول کی قیمت تقریباً برابر ہے، جو 0.83 سے 0.84 ڈالر فی لیٹر کے درمیان ہے، جبکہ پاکستان میں پٹرول 0.941 ڈالر فی لیٹر تک پہنچ چکا ہے، جو خطے کے کئی ممالک کے مقابلے میں زیادہ ہے۔
ایشیا کے دیگر ممالک جیسے جاپان، بنگلہ دیش، چین اور بھارت میں پٹرول کی قیمت ایک ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے، جس کی بنیادی وجہ زیادہ ٹیکس اور درآمدی لاگت ہے۔ لاطینی امریکا اور افریقہ کے کچھ ممالک جیسے برازیل، ترکی اور جنوبی افریقہ میں بھی قیمتیں عالمی اوسط کے قریب یا اس سے کچھ زیادہ ہیں۔
یورپ دنیا کے مہنگے ترین پٹرول والے خطوں میں شمار ہوتا ہے۔ برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی، ناروے اور فن لینڈ میں پٹرول کی قیمت 1.8 سے 2 ڈالر فی لیٹر کے درمیان ہے، جبکہ سوئٹزرلینڈ، نیدرلینڈز، ڈنمارک اور اسرائیل میں یہ 2 ڈالر سے بھی تجاوز کر چکی ہے۔ ان بلند قیمتوں کی بڑی وجہ بھاری ٹیکس، ماحولیاتی پالیسیز اور کاربن فیس ہیں۔
دنیا میں سب سے مہنگا پٹرول ہانگ کانگ میں فروخت ہو رہا ہے، جہاں ایک لیٹر پٹرول کی قیمت 3.71 امریکی ڈالر تک پہنچ گئی ہے، جو عالمی اوسط سے تقریباً تین گنا زیادہ ہے۔ یہ قیمت شہری محدودیت، زیادہ ٹیکس اور درآمدی اخراجات کا نتیجہ سمجھی جاتی ہے۔
یہ اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ پٹرول کی قیمت صرف عالمی تیل مارکیٹ سے منسلک نہیں بلکہ ہر ملک کی اندرونی پالیسیوں، سبسڈی یا ٹیکس نظام، اور توانائی کے ذرائع پر انحصار کرتی ہے۔ ترقی پذیر ممالک میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ براہ راست عوام کی روزمرہ زندگی پر اثر انداز ہوتا ہے، جبکہ ترقی یافتہ ممالک میں یہ قیمتیں ماحول دوست پالیسیوں کے تحت قبول کی جاتی ہیں۔
عالمی تناظر میں دیکھا جائے تو پٹرول کی قیمتیں نہ صرف معاشی حالات کی عکاس ہیں بلکہ آنے والے وقت میں توانائی کے متبادل ذرائع اور پائیدار پالیسیوں کی ضرورت کو بھی نمایاں کرتی ہیں۔
دنیا بھر میں پٹرول کی قیمتیں (اوکٹین 95)
فی لیٹر، امریکی ڈالر کے حساب سے
-
لیبیا — 0.028
-
ایران — 0.029
-
وینزویلا — 0.035
-
کویت — 0.341
-
الجزائر — 0.355
-
مصر — 0.440
-
قازقستان — 0.487
-
نائجیریا — 0.542
-
سعودی عرب — 0.621
-
متحدہ عرب امارات — 0.702
-
انڈونیشیا — 0.777
-
روس — 0.834
-
امریکا — 0.835
-
پاکستان — 0.941
-
جاپان — 1.010
-
بنگلہ دیش — 1.014
-
ایل سلواڈور — 1.022
-
چین — 1.032
-
کینیڈا — 1.069
-
آسٹریلیا — 1.085
-
بھارت — 1.125
-
ارجنٹائن — 1.129
-
برازیل — 1.148
-
ترکی — 1.205
-
جنوبی افریقہ — 1.265
-
جنوبی کوریا — 1.319
-
چلی — 1.363
-
یوکرین — 1.425
-
میکسیکو — 1.427
-
پولینڈ — 1.601
-
سویڈن — 1.618
-
چیک ریپبلک — 1.643
-
اسپین — 1.682
-
رومانیہ — 1.681
-
ہنگری — 1.707
-
برطانیہ — 1.835
-
فرانس — 1.918
-
موناکو — 1.915
-
جرمنی — 1.949
-
ناروے — 1.976
-
اٹلی — 1.984
-
فن لینڈ — 2.046
-
آئرلینڈ — 2.048
-
سوئٹزرلینڈ — 2.144
-
نیدرلینڈز — 2.215
-
ڈنمارک — 2.258
-
اسرائیل — 2.317
-
آئس لینڈ — 2.392
-
ہانگ کانگ — 3.713
عالمی اوسط قیمت: 1.29 امریکی ڈالر فی لیٹر
(ماخذ: Global Petrol Prices، 29 دسمبر 2025



