تازہ ترین

آل پارٹیز نمائندہ وفد کی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر اپر چترال سے ملاقات۔ صحت کے مسائل کے حل پر تفصیلی گفتگو مشترکہ اور با مقصد جدوجہد پر اتفاق۔

اپر چترال میں صحت کے مسائل خصوصاً کیٹیگری ڈی اسپتال بونی میں ڈاکٹروں اور طبی عملے کی کمی اور بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی کے باعث عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ ان مسائل کے حل کے لئے اپر چترال آل پارٹیز کے ایک نمائندہ وفد نے گزاشتہ روز ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر اپر چترال سے ان کے دفتر میں ملاقات میں سابق تحصیل ناظم شمس الرحمن لال سابق چرمیں فضل الرحمن، پاکستان مسلم لیگ ن کے ضلعی سینئر نائب صدر پرویز لال جمعیت علماء اسلام کے ضلعی جنرل سیکرٹری مولانا فداالرحمن تحریک انصاف کے نائب صدر و چرمین ویلج کونسل کوشٹ محمد ارشاد تحریک انصاف کے چرمین ویلج کونسل بونی ون مظہر الدین انفارمیشن سیکرٹری پاکستان مسلم لیگ (ن) ذاکر محمد زخمی پاکستان مسلم لیگ (ن) لیبر ونگ کے صدر علیم افسر خان اور عوامی نیشنل پارٹی کے صوبیدار میجر قربان على شامل تھے ملاقات کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا۔اس کے بعد ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر نے وفد کو خوش آمدید کہا اور اس طرح کی ملاقاتوں کو خوش آئند اور عوامی مفاد میں نہایت مفید قرار دیا، وفد کے اراکین نے باری باری ضلع اپر چترال میں درپیش صحت کے مسائل پر تفصیلی گفتگو کی۔خصوصی طور پر کیٹگری ڈی ہسپتال بونی میں ڈاکٹروں کی شدید کمی بالخصوص لیڈی ڈاکٹر اور گائناکالوجسٹ کی عدم دستیابی پر سخت تحفظات کا اظہار کیا گیاوفد نے بتایا کہ اس وقت خواتین کو زچگی اور دیگر طبی مسائل کے حوالے سے شدید مشکلات کا سامنا ہے جبکہ ڈیلیوری کے بیشتر کیسسز چترال ریفر کئے جاتے ہیں یا یونی میڈیکل سنٹر بیھج دے جاتے ہیں جہاں علاج کے اخراجات زیادہ ہونے کے باعث یہ سہولت ہر کسی کے لیے قابل برداشت نہیں۔ اسی طرح ڈائیلاسس مشین نہ ہونے کے باعث گردون کے مریض چترال جاکر کرائے کے مکانات میں رہنے پر مجبور ہیں جو کہ غریب مریضوں کے لیے ناقابل برداشت مالی اور ذہنی پریشانی کا سامنا ہے اس لیے مطالبہ کیا گیا کہ بونی ہسپتال میں ڈائیلاسس کی سہولت ترجیحی بنیادوں پر فراہم کی جائے وفد نے ہسپتال کےتعمیراتی کام جوکہ انتہائی سمت روی کا شکار ہے جسے تیز رفتاری سے مکمل کرنے کی ضرورت پر زور دیاڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر اپر چترال جناب ڈاکٹر فرمان ولی نے وفد کے تمام تحفظات بغور سننے کے بعد تفصیلی وضاحت دیتے ہوئے بتایا کہ وہ خود اور ڈپٹی اسپیکر صاحبہ تمام مسائل کے حل کے لئے دن رات جدوجہد میں مصروف ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان ضلع کے تمام مسائل کا ڈپٹی اسپیکر صاحبہ کو بخوبی علم ہے اور وہ ان مسائل کو حل کرنے کے لئے مسلسل کوشش کررہی ہیں جبکہ وفد کی جانب سے پیش کردہ تمام باتوں کو محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام تک پہلے ہی پہنچا چکے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ بعض فوری نوعیت کے مسائل عنقریب حل ہونے والے ہیں۔جن میں ڈاکٹروں کی کمی سرفہرست ہے جو کہ تقریباً حل ہو چکی ہے اور جلد ہی بونی ہسپتال میں ڈاکٹروں کی تعیناتی متوقع ہے۔
ڈائیلاسس مشین کے حوالے سے انہوں نے وضاحت کی کہ یہ صرف مشین کی فراہمی کا معاملہ نہیں ہے بلکہ اس کے لئے تربیت یافتہ عاملے کی بھی ضرورت ہوتی ہے جس کے لئے کوششیں جاری ہیں۔ جبکہ بونی ہسپتال کے تعمیراتی کام کے حوالے یقین دہانی کرائی گئی کہ جون یا جولائی تک کام مکمل ہونے کے قوی امکانات ہیں۔ملاقات کے اختتام پر اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ صحت کے مسائل کے حل کے لیے مشترکہ اور باہمی مشاورت سے جدوجہد جاری رکھی جائے گی اسی سلسلے میں آل پارٹیز کا ایک وفد پشاور جا کر ڈپٹی اسپیکر صاحبہ سے ملاقات کرکے مسائل کے حل مين مزيد پیش رفت ممکن بناسکے گی۔
آل پارٹیز وفد ڈپٹی اسپیکر سے درخواست کریگی کہ صوبائی اسمبلی میں ایک بل پاس کیا جائے کہ اپر چترال کے کوٹے سے منتخب ہونے والے ڈاکٹروں کو پانچ سال اپنے ضلع میں ڈیوٹی دینے پر پابند کیا جائے ۔چونکہ اپر چترال انتہائی دورافتادہ اور پسماندہ ہونے کی وجہ ڈاکٹر یہاں آنے سے احتراز کرتے ہیں اس لئے اپر چترال کے ڈاکٹروں کے لئے خصوصی پیکج دیا جائے ۔آل پارٹیز وفد ڈپٹی اسپیکر
سے یہ بھی درخواست کریگی کہ محکمہ صحت کے تمام ترقیاتی کاموں پر تیزی لائی جائے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button