تازہ ترین

مالاکنڈ ڈویژن, فارمیسی سی پاس امیدواروں کا کیٹیگری بی میں شمولیت کا مطالبہ، چترال کے کئی افراد بھی متاثر

چترال ( فتح اللہ) مالاکنڈ ڈویژن میں 2013ء کے دوران میڈیکل سٹور چلانے والوں کے لیے فارمیسی کونسل آف پاکستان کی جانب سے فارمیسی (C) کا خصوصی امتحان منعقد کیا گیا تھا۔ اس موقع پر امیدواروں کو یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ فارمیسی سی پاس کرنے والے افراد مستقبل میں کیٹیگری بی کے امتحان میں شرکت کے اہل ہوں گے۔
متاثرہ افراد کے مطابق انہوں نے باقاعدہ امتحان دے کر فارمیسی سی کا سرٹیفکیٹ حاصل کیا، تاہم 2026ء تک تیرہ سال گزر جانے کے باوجود کیٹیگری بی کے امتحانات منعقد نہیں کیے گئے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس تاخیر سے نہ صرف ان کا قیمتی وقت ضائع ہوا بلکہ مالی وسائل بھی خرچ ہوئے۔
چترال سے تعلق رکھنے والے متعدد افراد نے اس حوالے سے بتایا کہ وہ بھی اس پالیسی سے متاثر ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے سرکاری یقین دہانی پر امتحان دیا، فیسیں جمع کروائیں اور برسوں انتظار کیا، مگر اب انہیں بتایا جا رہا ہے کہ فارمیسی سی کا سرٹیفکیٹ میڈیکل سٹور کے لیے قابلِ قبول نہیں۔
متاثرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ سرٹیفکیٹ غیر قانونی یا ناقابلِ قبول تھا تو اسے جاری کیوں کیا گیا اور امیدواروں کو مستقبل میں کیٹیگری بی میں شامل کرنے کی یقین دہانی کیوں کرائی گئی؟ ان کے مطابق طویل عرصہ گزر جانے کے باعث ان کی عمر بھی بڑھ چکی ہے، جس کی وجہ سے اب وہ نہ کسی تعلیمی ادارے میں داخلہ لے سکتے ہیں اور نہ ہی نئے امتحانات دینے کی پوزیشن میں ہیں۔
متاثرین نے سیاسی جماعتوں کے قائدین اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ فارمیسی کونسل آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ فارمیسی سی پاس امیدواروں کے سرٹیفکیٹس کو کیٹیگری بی کے مساوی تسلیم کیا جائے یا خصوصی بنیادوں پر انہیں کیٹیگری بی میں شامل کرنے کا واضح اور فوری فیصلہ کیا جائے۔
انہوں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ اس دیرینہ مسئلے کا سنجیدگی سے نوٹس لے کر فوری اور منصفانہ حل نکالا جائے تاکہ چترال سمیت پورے مالاکنڈ ڈویژن کے متاثرہ خاندانوں کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button