تازہ ترین

کمیونٹی بیسڈ رہائش کے فروغ کے لیے 15 کروڑ روپے کے بلاسود قرضے فراہم کیے گئے ہیں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے گڈ گورننس روڈ میپ 2.0 کا باقاعدہ افتتاح کر دیا ہے، جس کے تحت 10 نئے محکموں کو شامل کرتے ہوئے 88 نئے اصلاحاتی اقدامات کا اضافہ کیا گیا ہے۔ اس طرح گڈ گورننس روڈ میپ کے تحت مجموعی اقدامات کی تعداد 362 سے بڑھ کر 450 تک پہنچ چکی ہے۔ وزیراعلیٰ نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گڈ گورننس روڈ میپ کی از خود نگرانی کی جا رہی ہے، عوامی خدمات کی فراہمی میں تاخیر کو سنگین جرم تصور کیا جائے گا، جس پر قواعد کے تحت سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے سیاحتی سیزن کے پیش نظر متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ سیاحوں کے لیے محفوظ، خوشگوار اور سہولت سے بھرپور ماحول یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ سیاحوں کو ایسا ماحول فراہم کیا جائے جہاں وہ خود کو گھر جیسا محسوس کریں اور خیبرپختونخوا کی مہمان نوازی کا بھرپور تجربہ حاصل کریں۔ مزید برآں سیاحتی مقامات کی فوری فیس لفٹنگ اور سہولیات میں بہتری کے لیے اقدامات تیز کرنے کی ہدایت بھی جاری کی گئی تاکہ صوبے میں موجود سیاحتی استعداد سے بھرپور استفادہ کیا جا سکے۔ وزیراعلیٰ نے نتھیاگلی روڈ کے پی سی ون کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرنے، سرکلر ریلوے منصوبے کو ترجیحی بنیادوں پر شروع کرنے جبکہ ضلع خیبر اور مردان تک ریلوے توسیع کے منصوبے پر ابتدائی کام آئندہ بجٹ سے قبل مکمل کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔ وزیر اعلی نے کہا کہ حکومت ای چالان سسٹم متعارف کرانے پر کام کر رہی ہے، جس سے گاڑیوں کی خرید و فروخت میں فوری ٹرانسفر ممکن ہوگا۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ ای چالان سسٹم سمیت دیگر حکومتی اصلاحات کے حوالے سے عوامی آگاہی یقینی بنائی جائے تاکہ وہ حکومت کے عوامی مفاد میں اٹھائے گئے اقدامات سے استفادہ کر سکیں۔ وزیراعلیٰ نے 23 مارچ کو 10 لاکھ پودے لگانے کی کامیاب مہم پر محکمہ جنگلات کو مبارکباد دی اور ہدایت کی کہ لگائے گئے پودوں کی موثر حفاظت اور نگہداشت یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی ایک سنگین مسئلہ ہے جس کے ماحول پر پڑنے والے منفی اثرات کو کم کرنے کے لیے جنگلات کے رقبے میں اضافہ حکومت کی اہم ترجیح ہے۔ اجلاس کو گڈ گورننس روڈ میپ 2.0 کے نئے اقدامات پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ان اصلاحات کے ذریعے سروس ڈیلیوری اور گورننس میں نمایاں بہتری آئے گی۔ ای پینشن سسٹم کے ذریعے ریٹائرڈ ملازمین کو سہل اور تیز خدمات فراہم کی جائیں گی۔ اسی طرح بورڈ آف ریونیو میں لینڈ ریکارڈ سروسز کو موبائل یونٹس کے ذریعے عوام کی دہلیز تک پہنچایا جائے گا جبکہ ڈیجیٹل لینڈ ریکارڈ سسٹم کو نادرا کے ساتھ منسلک کر کے شفافیت اور کرپشن کے خاتمے کو یقینی بنایا جائے گا۔ مزید بتایا گیا کہ ٹریفک مینجمنٹ کے لیے کیمرہ بیسڈ انفورسمنٹ سسٹم، اسکول زون سیفٹی پیکیج، ٹریفک انجینئرنگ اقدامات، اسموگ مانیٹرنگ سسٹم، کلائمیٹ آبزرویٹریز، زہریلے فضلے اور ویسٹ واٹر مانیٹرنگ سسٹم متعارف کرائے جا رہے ہیں۔ بلین ٹری پلس پروگرام کے تحت شجرکاری مہم کو مزید وسعت دی جا رہی ہے۔ علاوہ ازیں ڈرائیونگ لائسنسز کی ڈیجیٹلائزیشن کے ذریعے شہریوں کو تیز اور شفاف سہولیات فراہم کی جائیں گی جبکہ پی پی پی ماڈل کے تحت انٹر سٹی ٹرانسپورٹ سسٹم متعارف کرایا جا رہا ہے تاکہ اضلاع کے درمیان رابطہ بہتر بنایا جا سکے۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ جیلوں میں ٹیلی میڈیسن اور ہیلتھ اسکریننگ سہولیات فراہم کی جائیں گی جبکہ نوعمر قیدیوں کی بحالی کے لیے ہنر مندی پروگرامز متعارف کرائے جائیں گے۔ اسی طرح ورکنگ ویمن کے لیے میٹرنٹی بینیفٹس کے نفاذ سے مالی تحفظ یقینی بنایا جائے گا۔ایمرجنسی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ارلی وارننگ سسٹم متعارف کرایا جا رہا ہے جبکہ ایمبولینس اور ریسکیو گاڑیوں میں جی پی ایس ٹریکنگ سسٹم نصب کر کے شفافیت اور کارکردگی میں اضافہ کیا جائے گا۔ گڈ گورننس روڈ میپ کے تحت جاری اصلاحات پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ اس وقت 16 محکموں میں 362 اصلاحاتی اقدامات پر عملدرآمد جاری ہے جبکہ 2200 سے زائد ایکشن اسٹیپس تیار کیے جا چکے ہیں۔ اب تک 440 سے زائد ہفتہ وار، 70 سے زائد ماہانہ اور 5 سہ ماہی جائزہ اجلاس منعقد کیے جا چکے ہیں۔ صحت کے شعبے میں 250 میں سے 150 بی ایچ یوز 24 گھنٹے فعال ہو چکے ہیں جبکہ باقی ماندہ بی ایچ یوز بھی جون 2026 تک فعال کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ 72 صحت مراکز کی آو¿ٹ سورسنگ کا عمل جاری ہے۔ بی ایچ یوز اور آر ایچ سیز کے لیے 700 ڈاکٹرز بھرتی کیے گئے ہیں جبکہ 2400 میڈیکل آفیسرز کی منظوری دی گئی ہے۔ پولیو مہم کو 45 اضافی یونین کونسلز تک توسیع دی گئی ہے جبکہ بند علاقوں تک رسائی بحال کی گئی ہے۔ 60 سے زائد ہسپتالوں میں 150 ویکسینیٹرز تعینات کیے گئے ہیں اور شام کی شفٹ میں ویکسینیشن سروسز میں توسیع کی گئی ہے۔ حفاظتی ٹیکہ جات کی کوریج میں تقریباً 24 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ دیگر شعبوں میں اقدامات پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ بلدیاتی شعبے میں 2500 کلومیٹر نالوں اور سیوریج لائنوں کی صفائی مکمل کی گئی ہے جبکہ دیہی سطح پر ویسٹ کلیکشن سسٹم فعال ہے جہاں ماہانہ 4500 ٹن کچرا اکٹھا کیا جا رہا ہے۔ شہری علاقوں میں خوبصورتی اور انفراسٹرکچر منصوبوں پر بھی کام جاری ہے۔ تعلیم کے شعبے میں ایک لاکھ سے زائد طلبہ کو فرنیچر فراہم کیا گیا ہے جبکہ 3500 طلبہ کو وظائف دیے گئے ہیں۔ 16 ہزار سے زائد اساتذہ کے خلاف کارروائیاں کی گئی ہیں جس کے نتیجے میں حاضری بڑھ کر 91 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ اسی طرح زراعت کے شعبے میں ڈیڑھ لاکھ جنگلی زیتون کے درختوں کو پیداواری اقسام میں تبدیل کیا گیا ہے۔ کسانوں کو جدید زرعی مشینری فراہم کی جا رہی ہے اور 700 سے زائد آبی گزرگاہوں کی سیمنٹ لائننگ مکمل کی گئی ہے۔ سماجی بہبود کے تحت 3 ہزار سے زائد یتیم بچوں اور 3 ہزار سے زائد بیواو¿ں کو ماہانہ وظیفہ دیا جا رہا ہے جبکہ خصوصی افراد کے لیے وہیل چیئرز، ٹرائی سائیکلز، سلائی مشینیں اور سماعتی آلات فراہم کیے جا رہے ہیں۔ خصوصی بچوں کے لیے 14 بسیں بھی فعال کی گئی ہیں۔ آئی ٹی کے شعبے میں کیش لیس پیمنٹ اقدام شروع کیا گیا ہے اور کے پی ڈیجیٹل پیمنٹ ایکٹ 2025 کی منظوری دی گئی ہے۔ 100 سے زائد سرکاری خدمات ڈیجیٹل کی جا چکی ہیں جبکہ ای سمری اور ای آفس سسٹم کے تحت ہزاروں کیسز نمٹائے گئے ہیں۔ 25 سے زائد محکموں میں 114 خدمات آن لائن فراہم کی جا رہی ہیں اور دستک ایپ کے ذریعے 60 سے زائد خدمات عوام کو دستیاب ہیں۔ حکام نے مزید بتایا کہ سیاحت کے شعبے میں گلیات ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے لیے سالڈ ویسٹ کلیکشن آوٹ سورس کیا گیا ہے۔ کلام، کاغان، کمراٹ اور گلیات کے لیے لینڈ یوز اور ماسٹر پلانز پر کام جاری ہے جبکہ کمیونٹی بیسڈ رہائش کے فروغ کے لیے 15 کروڑ روپے کے بلاسود قرضے فراہم کیے گئے ہیں۔ پشاور میں نیا جنرل بس اسٹینڈ تکمیل کے آخری مراحل میں ہے جسے جون 2026 سے آپریشنل کیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ گڈ گورننس روڈ میپ کے تحت اصلاحات کے عمل کو مزید تیز کیا جائے گا تاکہ عوام کو بہتر، تیز اور شفاف خدمات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button