دھڑکنوں کی زبان۔۔۔۔۔۔”غیرت ہے بڑی چیز”۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔محمد جاوید حیات

اکثر مذہبی علماء ،مبلغین اور مذہبی لوگوں کو یہ کہتے سنا ہے کہ مومن کا مقصد آخرت ہے دنیا نہیں..بے شک یہ قران و سنت میں بھی واضح ہے لیکن اگر اسلامی تعلیمات اور قران کی روح پر غور کیا جائے تو اسلام مسلمانوں کو شیر(Tiger) بنانا چاہتا ہے .اللہ کے سوا کسی سے سوال کرنے کی ممانعت ،حلال کمائی ، محنت میں عظمت ، غلامی سے نجات ،ظلم کے خلاف جہاد ،ظالم سے پوری قوت سے ٹکرانا ،اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈرنے کی شناخت ، صادق امین ، بے باک ،قناعت کی دولت سے مالامال ،سادہ زندگی ہوس زرو مال سے پاک ، لالچ ،کنجوسی سے بچاہوا یہ سب شیر کی صلاحیتیں ہیں .اسلام نے دنیا چھوڑنے کی کبھی تعلیم نہیں دی البتہ دنیا سے تعلق اللہ کے احکامات سے متعلق ہو .فخر موجودات صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سنت پر عمل ہو اگر اسلام کا مقصد مسلمانوں کو ٹایگر بنانے کا نہ ہوتا تو جہاد قتال فرض نہ ہوتا .الکاسب کو اللہ کا دوست نہ کہا جاتا ..اوپر والے ہاتھ کو نیچے والے ہاتھ سے بہتر نہ کہا جاتا .حرکت کو اسلام کی روح نہ کہا جاتا .کم سونے ،کم بولنے، کم کھانے کو صفت قرار نہ دیا جاتا .رات کے پچھلے پہر اٹھنے اور اللہ کے حضورحاضری (نماز فجر)کو فرض قرار نہ دیا جاتا .قران اپنے گھوڑوں کو موٹا کرنے اپنی تلواریں تیز کرنے اپنی طاقت بڑھانے اپنے آپ کو تیار رکھنے اور دشمن کو خوف زدہ کرنے کا حکم نہ ہوتا .جنگ اور دہشت تباہی ہے نام نہاد دانشور یہ مسلمانوں کو نصیحت کرتے ہیں اگر غیر مسلم یہ سب کچھ کریں تو جائز ہے .پاکستان ایران اٹم بم نہیں سنبھال سکتے اسرائیل کتا سنبھال سکتا ہے .اسلام میں جہاد کو بقا کہا گیا اگر یہ ضروری نہیں تو ٹرمپ کتا برملا کیوں کہتا ہے کہ ہرچیز طاقت سے حاصل کی جاتی ہے طاقت کے مقابلے میں طاقت اسلام کی روح ہے مگر مسلماں امن اور انصاف کا عالم ںردار ہیں اسلام کے نزدیک ہرانسان کو انصاف کے ساتھ جینے کاپورا حق ہے .رہبانیت اسلام میں حرام ہے بے اب گیاہ صحرا کے وہ شیر جو بظاہر دنیا کی سہولیات اور عیاشیوں سے محروم تھے مگر ظلم کی ہر چٹان سے دیوانہ وار ٹکراتے تھے ..اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دنیا کو یک سر رد نہیں کیا اگر کرتے تو اپنے اہل و عیال سے محبت نہ فرماتے کدو جانور کے شانے کا گوشت اور کچھ کھانوں کو پسند نہ فرماتے .اپنے صحابہ رض کو محنت کی ترغیب نہ دیتے حلال رزق کمانے کو فرض نہ کہتے ..اقبال نے مسلمان کا کیا خوب تعارف پیش کیا ہے ..
قہاری و غفاری و قدوسی و جبروت …
یہ چار عناصر ہوں تو بنتا ہے مسلمان..
آج مسلمانوں کوجتنی دنیا کی ضرورت ہے کبھی ایسا نہیں تھا .دنیا سائنس اور ٹیکنالوجی میں بہت آگے گئی ہے مسلمانوں کو اس دوڑ میں شامل ہونا ہے .دنیا مقصد نہیں ہے دنیا ضرورت ہے دنیا میں جینا ہے زندہ رہنا ہے اس لیے دنیائی اسباب کو کام میں لانا ہے ہمارے سامنے عراق ، شام ، یمن، فلسطین لیبیا کی مثالیں ہیں .دوسری طرف ایران اور پاکستان کی بھی مثالیں ہیں ..اگر یہ دو ملک میدان کارزار میں اترنے کی جرات کرتے ہیں تو کس بنا پر.. کیا صرف دعاؤں کی بنا پر یا دنیاوی طاقت کی بنا پر ..آج ہمارے مذہبی لوگوں کو مسلم امہ کو شیر بننے کا وہ بنیادی اور پرانا سبق پڑھانا چاہیے جس کو یاد کرکے اس امت نےدنیا پر حکمرانی کی تھی .شہادت کی موت مومن کا تخفہ ہے اور شیروں جیسی زندگی اس کی پہچان ہے

