مضامین

اپریل فول ایک فکری و اخلاقی المیہ…… تحریر: ابوسلمان

یہ امر نہایت قابلِ غور ہے کہ آج کا مسلمان مغربی افکار و نظریات سے اس قدر مرعوب ہوچکا ہے کہ اسے ترقی کی ہر منزل مغرب کی اندھی تقلید میں ہی نظر آتی ہے۔ جو کچھ وہاں رائج ہو، اسے بلا سوچے سمجھے اپنانا گویا جدیدیت کی علامت سمجھ لیا گیا ہے، خواہ وہ اسلامی تعلیمات کے موافق ہو یا سراسر ان کے خلاف۔ اسی اندھی تقلید کا ایک نمایاں مظہر ’’اپریل فول‘‘ کی رسم ہے، جو بظاہر ایک ہنسی مذاق کا دن معلوم ہوتا ہے، مگر حقیقت میں یہ بے شمار اخلاقی و دینی خرابیوں کا مجموعہ ہے۔
اپریل فول کے دن جھوٹ بولنا ایک عام اور گویا جائز عمل سمجھ لیا جاتا ہے، حالانکہ شریعتِ اسلامیہ میں جھوٹ کو سختی سے ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ قرآن کریم میں ارشاد ہوتا ہے: لَعْنَتُ اللّٰهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ یعنی جھوٹوں پر اللہ کی لعنت ہے۔ اس سے بڑھ کر جھوٹ کی قباحت اور کیا ہوسکتی ہے؟ مزید برآں، نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
إِنَّ الصِّدْقَ بِرٌّ، وَإِنَّ الْبِرَّ يَهْدِي إِلَى الْجَنَّةِ، وَإِنَّ الْكَذِبَ فُجُورٌ، وَإِنَّ الْفُجُورَ يَهْدِي إِلَى النَّارِ
(صحیح مسلم)
یعنی سچ نیکی ہے اور نیکی جنت کی طرف لے جاتی ہے، جبکہ جھوٹ گناہ ہے اور گناہ جہنم کی طرف لے جاتا ہے۔
یہ دن صرف جھوٹ تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس میں دھوکہ دہی، خیانت اور دوسروں کو اذیت پہنچانے جیسے کبیرہ گناہ بھی شامل ہوجاتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے:
مَنْ غَشَّنَا فَلَيْسَ مِنَّا(صحیح مسلم)
یعنی جو ہمیں دھوکہ دے وہ ہم میں سے نہیں۔
اسی طرح ایک اور حدیث میں ہے:
"کَبُرَتْ خِيَانَةً أَنْ تُحَدِّثَ أَخَاكَ حَدِيثًا هُوَ لَكَ مُصَدِّقٌ وَأَنْتَ لَهُ كَاذِبٌ
(سنن ابی داؤد)
کہ یہ بہت بڑی خیانت ہے کہ تم اپنے بھائی سے جھوٹ بولو اور وہ تمہیں سچا سمجھے۔
اپریل فول کے موقع پر بعض اوقات جھوٹی خبریں پھیلائی جاتی ہیں جن سے لوگوں کی عزت، مال حتیٰ کہ جان کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ قرآن کریم میں واضح طور پر فرمایا گیا:
"وَالَّذِينَ يُؤْذُونَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ… فَقَدِ احْتَمَلُوا بُهْتَانًا وَإِثْمًا مُّبِينًا” (الاحزاب: 58)
یعنی جو لوگ مومن مردوں اور عورتوں کو ناحق اذیت دیتے ہیں، وہ بہتان اور کھلے گناہ کے مرتکب ہوتے ہیں۔
مزید برآں، اس دن غیر مسلم اقوام کی مشابہت بھی اختیار کی جاتی ہے، جس سے اسلام نے منع کیا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ”
(سنن ابی داؤد)
یعنی جو جس قوم کی مشابہت اختیار کرے گا، وہ انہی میں سے شمار ہوگا۔
جہاں تک اپریل فول کی تاریخی حقیقت کا تعلق ہے، بعض روایات کے مطابق اس کا تعلق اندلس (اسپین) میں مسلمانوں کے ساتھ ہونے والے ایک المناک سانحے سے جوڑا جاتا ہے، جہاں دھوکے کے ذریعے مسلمانوں کو نقصان پہنچایا گیا۔ اگرچہ اس روایت کی تاریخی حیثیت محلِ تحقیق ہے، مگر اس میں کوئی شک نہیں کہ اس رسم کی بنیاد دھوکہ، فریب اور جھوٹ جیسے افعال پر قائم ہے، جو اسلام اور انسانیت دونوں کے خلاف ہیں۔
اخلاقی اعتبار سے بھی یہ رسم نہایت مذموم ہے۔ اس میں لوگوں کو ڈرانا، جھوٹی افواہیں پھیلانا اور کسی کی عزت کو مجروح کرنا عام بات ہے۔ حالانکہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"إِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ وَأَعْرَاضَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ”
(صحیح بخاری)
یعنی تمہارے خون، مال اور عزتیں ایک دوسرے پر حرام ہیں۔
لہٰذا اپریل فول محض ایک تفریحی دن نہیں بلکہ یہ جھوٹ، دھوکہ، خیانت، ایذا رسانی اور غیر مسلموں کی اندھی تقلید جیسے کئی سنگین گناہوں کا مجموعہ ہے۔ ایک باشعور مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ وہ نہ صرف خود اس قبیح رسم سے اجتناب کرے بلکہ اپنے اہل و عیال اور معاشرے کو بھی اس سے بچانے کی کوشش کرے۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ عزت و کامیابی اسی میں ہے کہ ہم اپنی اسلامی تعلیمات کو مضبوطی سے تھامیں اور ہر اس رسم و رواج سے دور رہیں جو ہمارے دین، اخلاق اور معاشرتی اقدار کے خلاف ہو۔
اللّہ تعالیٰ ہمیں ہر برے رسم ورواج سےبچنےکی توفیق عطا فرمائے آمین یارب العالمین

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button