امریکہ میں مقیم چترال کی بیٹی سفیرا سیف — خدمتِ انسانیت کا درخشاں باب۔۔۔۔۔۔۔۔تحریر سید اصف علی شاہ

دنیا میں کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو اپنی ذات تک محدود نہیں رہتے بلکہ اپنی زندگی دوسروں کی خوشیوں، تعلیم، صحت اور فلاح کے لیے وقف کر دیتے ہیں۔ چترال کے خوبصورت اور تاریخی علاقے اوی گاؤں سے تعلق رکھنے والی سفیرا سیف بھی انہی عظیم شخصیات میں شمار ہوتی ہیں، جو آج امریکہ میں مقیم ہونے کے باوجود اپنے وطن، اپنے علاقے اور اپنے لوگوں کو نہیں بھولیں۔ انہوں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ انسانیت کی خدمت، غریبوں کی مدد، تعلیم کے فروغ اور فلاحی سرگرمیوں کے لیے وقف کر رکھا ہے۔
سفیرا سیف معروف فلاحی و سماجی ادارے mass-edu.org سے وابستہ ہیں۔ یہ ادارہ “Meaningful Acts towards Sustainable Success” کے نام سے جانا جاتا ہے اور چترال، گلگت بلتستان اور شمالی علاقوں میں تعلیم، صحت، خواتین کی فلاح، یتیم بچوں کی مدد اور غریب خاندانوں کی معاونت کے لیے سرگرم عمل ہے۔ اس ادارے کا بنیادی مقصد معاشرے کے محروم طبقات کو سہارا دینا اور انہیں بہتر مستقبل فراہم کرنا ہے۔
سفیراسیف نے امریکہ میں رہتے ہوئے بھی اپنے علاقے کے عوام کے مسائل کو ہمیشہ محسوس کیا۔ وہ خاص طور پر تعلیم کے شعبے میں نمایاں خدمات انجام دے رہی ہیں۔ ان کی کوششوں سے کئی غریب اور مستحق طلبہ کو تعلیمی وظائف، کتابیں، فیس اور دیگر سہولیات فراہم کی گئیں تاکہ مالی مشکلات تعلیم کی راہ میں رکاوٹ نہ بن سکیں۔ شمالی علاقوں میں تعلیمی پسماندگی کو کم کرنے کے لیے مختلف ادارے سرگرم ہیں جو دور دراز علاقوں میں طلبہ کی مدد کر رہے ہیں۔
چترال اور گلگت بلتستان جیسے دشوار گزار علاقوں میں جہاں تعلیم اور صحت کی سہولیات محدود ہیں، وہاں سفیراسیف اور ان کی تنظیم نے امید کی شمع روشن کی۔ انہوں نے کئی مستحق خاندانوں کی مالی مدد کی، بیمار افراد کے علاج میں تعاون کیا، اور غریب بچوں کے لیے تعلیمی و فلاحی پروگراموں کی سرپرستی کی۔ شمالی پاکستان میں مختلف ادارے اسی نوعیت کے منصوبوں کے ذریعے غریب بچوں، یتیموں اور متاثرہ خاندانوں کی مدد کر رہے ہیں۔
قدرتی آفات، سیلاب اور دیگر مشکلات کے دوران بھی سفیرا سیف نے متاثرہ خاندانوں کی مدد کے لیے اہم کردار ادا کیا۔ وہ ان شخصیات میں شامل ہیں جو صرف باتوں تک محدود نہیں رہتیں بلکہ عملی طور پر لوگوں کے درمیان جا کر ان کے دکھ درد بانٹتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ چترال اور گلگت بلتستان کے عوام انہیں عزت، محبت اور قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
سفیراسیف خواتین کی تعلیم اور خودمختاری کی بھی مضبوط حامی ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ ایک تعلیم یافتہ عورت پورے معاشرے کو ترقی دے سکتی ہے۔ اسی سوچ کے تحت وہ نوجوان لڑکیوں کی تعلیم، تربیت اور اعتماد سازی کے لیے مختلف پروگراموں اور سرگرمیوں کی حمایت کرتی ہیں۔ شمالی علاقوں میں خواتین کی تعلیم اور ڈیجیٹل تربیت کے لیے بھی کئی تنظیمیں سرگرم عمل ہیں۔
ان کی شخصیت کا سب سے خوبصورت پہلو انسان دوستی اور عاجزی ہے۔ امریکہ جیسے ترقی یافتہ ملک میں رہتے ہوئے بھی وہ اپنی ثقافت، اپنی مٹی اور اپنے لوگوں سے جڑی ہوئی ہیں۔ وہ ہمیشہ اس کوشش میں رہتی ہیں کہ بیرون ملک مقیم افراد اپنے علاقوں کی ترقی میں حصہ ڈالیں اور نئی نسل کو مثبت راستہ دکھائیں۔
چترال اور گلگت بلتستان کے لوگ سفیرا سیف کی خدمات کو فخر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ان کی فلاحی خدمات نہ صرف مستحق لوگوں کے لیے امید کا ذریعہ ہیں بلکہ نوجوان نسل کے لیے بھی ایک بہترین مثال ہیں کہ اگر نیت نیک ہو تو دنیا کے کسی بھی کونے میں رہ کر اپنے لوگوں کی خدمت کی جا سکتی ہے۔
بلاشبہ سفیراسیف چترال کی ان قابلِ فخر خواتین میں شامل ہیں جنہوں نے خدمتِ خلق، تعلیم اور فلاحی کاموں کے ذریعے اپنے علاقے کا نام روشن کیا۔ ان جیسی شخصیات معاشرے کے لیے ایک نعمت اور انسانیت کے لیے روشن چراغ کی حیثیت رکھتی ہیں۔


