اپنی کارکردگی کو مکمل کیسے بناٸیں۔۔۔ کاوشات اقبال سے ایک ورق۔۔۔۔۔۔محمد اقبال شاکر

انسان کی سیکھی ہوٸی قابلیت کا ہی دوسرا نام فن ہے جو انسان زندگی میں ناکام ہوتے ہیں ان میں سے اکثر یہ نہیں جانتے کہ اپنی کمزوریوں کو کیسے دور کریں اور اپنی کارکردگی کو کیسے مکمل بناٸیں۔اپنی کمیوں یا کمزوریوں کو دور کرو غلطیوں کو سنواور اپنے ذہین کو مطمئن کر کے خیال اور کام میں مسلسل لگاو پیدا کرو تاکہ اپ کے کام پر آپ کی مکمل صلاحیت ظاہر ہو اور مستقبل میں آپ کے ہاتھ سے جو چیز تخلیق ہو وہ فن کا نادر نمونہ ہو آپ کا آغاز نا قابل یقین،خوبصورت ہو اور جس سے آپ کی ذہنی پاکیزگی دکھائی دے۔جب انسان کے ذہین میں خیالات نکمے پن سے بھر جاتے ہیں، جب لگن کی کمی ہو جاتی ہے جوش مدھم پڑ جاتا ہے،خود اعتمادی ختم ہو جاتی ہے اس وقت انسان کی شخصیت کمزور اور غیر موثر ہونے لگتی ہے ٹھیک انداز سے رہنے والے انسان پر دوسروں کے مشوروں کا کچھ بھی اثر نہیں ہوتا ہے۔لوگ تو اپنے مشورے دیتے رہتے ہیں اور اگر آپ کا ذہین کچا ہے تو اس کو نشانے پر لگتے دیر نہیں لگتی۔اگر آپ غلط مشوروں کا اپنے ذہین پر اثر نہ ہونے دینے کے لٸے مظبوط ارادہ رکھتے ہیں تو آلودہ ماحول میں رہتے ہوۓ بھی ان غلط مشوروں سے اپنی حفاظت بہت اچھے طریقے سے کر سکتے ہیں اس کے برعکس آپ غلط مشوروں کو دھیان سے سنتے ہیں براٸی کو قبول کرنے کیلے تیار رہتے ہیں اپنے ذہین کو چنچل بناۓ رکھے ہیں اور دوسروں کے کہنے پر اپنا مقصد چھوڑنے کیلے تیار ہو جاتے ہیں تو آپ اپنی زندگی کا ستیاناس کر لیتے ہیں ۔غلط مشوروں کو سننے والا اس طرح کے مشوروں کو ہلا شیری دینے والا ان مشوروں کا استقبال کرنے والا انسان ضرور ہی راستہ بھٹک جاتا ہے۔
ہمارے جذبات کا دوسروں پر بھی اثر پڑتا ہے اگر ہم پُر امید ہیں تو دوسروں میں بھی امیدیں پیدا کر سکتے ہیں اگر ہم کامیاب ہیں تو دوسروں کو بھی کامیاب ہونے کی درس دے سکتے ہیں دوسرے لوگ اگر ہم پر یقین نہیں کرتے اگر وہ ہمیں نکما اور بزدل سمجھتے ہیں تو ہمیں یہ سوچنا چاہٸے کہ ہمارے ذہین میں نکمے خیالات نے گھر بنایا ہوا ہے جب تک ان خیالات کو ذہین سے نہیں نکالتے دیتے اس وقت تک ہم کسی ذمہ دار عہدے پر تعینات ہونے کی ضروری صلاحیت نہیں رکھتے ۔خود اعتمادی،ہمت، بے خوفی کا جذبہ ختم نہ کرنے کا مطلب ہے جیت۔ اگر ہماری ایسی شخصیت ظاہر ہوتی ہے تو لوگوں کو ہم پر اعتماد ہو جاۓ گا کہ مستقبل میں ہم ضرور کامیاب ہو جاٸیں گے جتنی خود اعتمادی ضروری ہے اتنا دوسروں کو اپنے اوپر دوسروں کا اعتماد بٹھانا ضروری ہے اس لٸے ہمیں اپنی خواہشات،گفتگو،رکھ رکھاو سے خود اعتمادی کی،کامیابی کی بھی امید ظاہر کرنا چاٸیے جو آدمی کامیاب لوگوں کی طرح جیتا ہے ، اس پر لوگوں کا مظبوط اعتماد بن جاتا ہے کہ وہ ضرور بڑے کام کو پورا کرے گا



