دادبیداد ۔۔بلدیات کے انتخابات۔۔ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

خبارات میں بڑی خبر لگی ہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے صوبوں کو بلدیاتی انتخابات کی تیاری کے لئے دو ہفتے کا نوٹس دے دیا ہے، خبر کی تفصیلات میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن 2001 کے لوکل گورنمنٹ ایکٹ کو واپس لانا چاہتی ہے ڈسٹرکٹ اور یونین کونسلوں کا احیاء ہوگا اس خبر سے سیاسی اور سماجی حلقوں میں کوئی ہلچل پیدا نہیں ہوئی آنے والے دنوں کے لئے نئی صف بندیوں کا کوئی ذکر نہیں ہوا، اخبارات میں کسی بھی حلقے سے اس خبر کے خیر مقدم کا بیان نہیں آیا گویا کچھ ہوا ہی نہیں، جیسے یہ کوئی خبر ہی نہ ہو ” پہلے آتی تھی حال دل پر ہنسی اب کسی بات پر نہیں آتی ” المیہ کچھ یوں ہے کہ حکومت کے کسی اعلان یا حکومتی ادارے کی کسی خبر پر لوگوں کو اعتماد نہیں رہا۔ نسلہ ٹاور، مونال ریسٹورنٹ، مشرف اور بھٹو کے مقدمات میں عدلیہ کے فیصلوں کے بعد عدلیہ کی طرف سے وقت گزرنے کے بعدان فیصلوں کی معطلی نے ملک کے سب سے بڑے ادارے کی ساکھ ختم کردی، الیکشن کمیشن کی طرف سے مسلسل بیسیوں بار الیکشن کے درست نتائج دینے میں ناکامی نے الیکشن کمیشن کی مٹی پلید کردی ہے۔ اس پر بھی کسی کو اعتماد نہیں رہا گزشتہ پندرہ سالوں میں بلدیاتی انتخابات کے بعد بلدیاتی اداروں کو جب اختیارات اور وسائل سے محروم رکھا گیا تو بلدیات پر بھی عوام کا اعتماد نہیں رہا سیاست سے وابستہ سنیئر لیڈروں نے بلدیاتی انتخابات کو “بد نیتی انتخابات” کا نام دیا اور الیکشن کمیشن کا نام باقاعدہ قرار داد کے ذریعے “سلیکشن کمیشن” رکھ دیا ہے ان وجوہات کی بناء پر بلدیاتی الیکشن کی خبر آنے کے بعد کسی نے اچھا ردعمل ظاہر نہیں کیا وطن عزیز پاکستان کی تاریخ میں جب فوجی آمریت آئی اُس دور میں اختیارات نچلی سطح پر منتقل ہوئے اور بلدیاتی اداروں کو انتظامی، مالیاتی اور ترقیاتی اختیارات دیے گئے مگر جوں ہی عام انتخابات کے نتیجے میں سیاسی جماعت کی سول آمریت مسلط ہوئی تو پہلا کام یہ ہوا کہ بلدیاتی اداروں کو بے دست و پا کردیا گیا ان کے اختیارات واپس لے لئے گئے ان کا ترقیاتی فنڈ روک دیا گیا وجہ یہ ہے سول آمریت میں اختیارات اور وسائل ایک شخص کے ہاتھ میں ہوتے ہیں اور شخصی اختیار میں عوامی مسائل، عوامی فلاح و بہبود اور عوامی سطح کے اختیارات کی گنجائش نہیں ہوتی چنانچہ 1960ء، 1980ء اور 2001ء کی تین دہائیوں میں بلدیاتی اداروں نے عوامی سطح پر ترقی کے بڑے کام کئے کسی اور دہائی میں ایسا کام نہیں ہوا دراصل فوجی آمریت میں حکمران دولت خرچ کرکے نہیں آتے ان کو دولت جمع کرنے کی حرص نہیں ہوتی، جبکہ سول آمریت میں صوبائی اور قومی اسمبلی کی ایک ایک نشست پر کامیاب ہونے والا پچاس کروڑسے لیکر اسی کروڑ روپیہ تک خرچ کرکے آتا ہے “ایوان بالا” یعنی سینٹ کی ایک ایک نشست جیتنے پر ڈیڑھ ارب سے لیکر دو ارب تک کا خرچہ آتا ہے یہ لوگ جب حکومت میں آتے ہیں تو پہلی فرصت میں اپنا سرمایہ بمعہ منافع واپس لینے پر کام شروع کرتے ہیں بلدیاتی ادارے اگر فعال ہوں تو سول آمریت مطلوبہ فوائد حاصل نہیں کرسکتی ایک سیاستدان نے وژن پر آکر بیانگ دہل کہا تھا کہ مجھے سال میں 10 کروڑ کا فنڈ ملتا ہے جبکہ میرے حلقے میں تحصیل چیرمین کے پاس پچاس کروڑ روپے سے زیادہ کا بجٹ ہے جو میرا حق تھا 2021ء میں بلدیاتی انتخابات ہوئے، منتخب نمائندوں کی حلف برداری کے دن حکومت نے بلدیاتی ایکٹ میں ترمیم کرکے ناظمین کے اختیارات ختم کر دیے اس کے بعد 5 سال تک ناظمین اپنے کونسلروں کو ساتھ لیکراحتجاج اور بھوک ہڑتال یا استعفیٰ دینے کی دھمکیوں سے کام لیتے رہے ان کی بات کسی نے نہیں سنی ناظمین کو عوام کا سامنا کرنے سے بچنے کے لئے دفتروں کو تالا لگا کر چھپتے چھپاتے وقت گزارنا پڑا، بعض ناظمین نے غیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملک چھوڑنے کا فیصلہ کرکے نظامت کا “ندامت بھرا” دور دبئی، سعودی عرب، امریکہ، برطانیہ اور کینیڈا میں گزار دیا۔ اب پھر بلدیاتی انتخابات کی بات آگئی ہے تو لوگ کانوں کو ہاتھ لگا کر توبہ کررہے ہیں کہ نظامت کی “خجالت” سے خدا بچائے۔ محب وطن لوگوں کا سنجیدہ حلقہ الیکشن یا سلیکشن کمیشن سے مطالبہ کرتا ہے کہ بلدیاتی انتخابات کا نام نہ لو جب ملک میں ڈھنگ اور قانون، قاعدے کی کوئی اچھی حکومت آئیگی تو بلدیاتی اداروں کے اختیارات بحال کرکے انتخابات کرائے گی تب تک اس بیجا اور خواہ مخواہ تکلف کی ضرورت نہیں۔

