دادبیداد…..باجا گردی اور یومِ آزادی…… ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

یومِ آزادی کے بعد باجوں کا شور تھم گیا ہے مگر باجے کی وہ کرخت اور کان کو پھاڑنے والی نامناسب آواز اب بھی دل و دماغ پر ہتھوڑے برساتی ہے۔ اس باجے سے نہ گھر محفوظ تھا نہ اسکول، نہ ہسپتال، نہ مسجد، ہر جگہ لاری کا ہارن بجتا رہتا تھا، ہماری مسجد کے استاد نے اس کو دہشت گردی اور پولیس گردی کے وزن پر ”باجا گردی“ کا نام دیا تھا، لوگ گھروں سے باہر نکل کر گلی میں باجا بجانے والے بچوں پر غصہ کرتے تھے مگر بچوں کا کوئی قصور نہیں تھا، باجا بزرگوں نے خرید کر دیا تھا، بعض بزرگوں نے انتظامیہ اور پولیس کو موردِ الزام ٹھہرایا مگر انتظامیہ کیا کرتی؟ آزادی کی خوشی منانے سے کسی کو منع بھی نہیں کر سکتی، کسی کو سزا بھی نہیں دے سکتی، اس آواز میں باجا بجانا جرم ہے لیکن قابلِ دست اندازی پولیس ہرگز نہیں، ایک بزرگ کہہ رہے تھے دکاندار کو جرمانہ کرنا چاہیے، اصل بات یہ ہے کہ دکاندار کو بھی جرمانہ نہیں کیا جا سکتا، باجا بیچنا کوئی جرم نہیں، البتہ جس فیکٹری سے پلاسٹک کے یہ بے ہنگم باجے تیار ہو کر بازار میں آئے، پولیس فیکٹری کو خبردار کر سکتی ہے کہ سیٹھ صاحب باجا ضرور بنائیے، اتنی مہربانی کیجیے کہ اس کا سیلنسر چھوٹا رکھیے 4 انچ یا 6 انچ رکھیے تا کہ باجا بجانے کے کام آئے، بچوں، بوڑھوں اور بیماروں کو ڈرانے کے کام نہ آئے، ویسے سچ پوچھئے تو 2026ء کا یومِ آزادی ملک کے اندر اور ملک سے باہر بے مثال جوش، جذبے اور شوق و ذوق کے ساتھ منایا گیا، سرکاری اور نجی اسکولوں میں شایانِ شان تقریبات منعقد ہوئیں، دینی مدارس میں علماء نے یومِ آزادی کے حوالے سے خصوصی پروگرامات میں طلباء کو شریک کیا، بیرونِ ملک سفارت خانوں کی روایتی تقریبات کے علاوہ برطانیہ، جرمنی، امریکہ اور دیگر ممالک کی یونیورسٹیوں میں زیرِ تعلیم طلباء اور طالبات نے یومِ آزادی کو ملی نغموں کے ساتھ منایا، بھارت اور مقبوضہ کشمیر کے مرکزی شہر سری نگر سے بھی نوجوانوں کی تنظیموں نے پاکستان کا یومِ آزادی منایا، یوں دی ہمیں آزادی کہ دنیا ہوئی حیراں، اےقائد اعظمؒ تیرا احسان ہے تیرا احسان!


