جہانِ خیال…….ایک اپیل: مرنے کے بعد بھی کسی کی دنیا روشن کیجیے……….تحریر: عتیق الرحمن

کبھی کسی ایسے انسان کی آنکھوں میں جھانک کر دیکھیے جو دنیا دیکھنے سے محروم ہو۔ آنکھیں کھلی ہوں، مگر سامنے کی دنیا اندھیرے میں ڈوبی ہو۔ ایک باپ اپنے بچے کا چہرہ دیکھنے کو ترس رہا ہو، ایک ماں اپنی اولاد کو صرف آواز سے پہچانتی ہو اور ایک بچہ رنگوں، پھولوں، پہاڑوں اور آسمان کی خوبصورتی صرف دوسروں کے الفاظ سے محسوس کرتا ہو۔
پاکستان میں یہ کوئی افسانہ نہیں، ایک تلخ حقیقت ہے۔ دستیاب اعداد کے مطابق تین لاکھ سے زیادہ پاکستانی قرنیہ کی نابینائی کے باعث نظر بحال کرنے والے ٹرانسپلانٹ کے منتظر ہیں۔ یہ صرف ایک عدد نہیں؛ یہ تین لاکھ انسان، تین لاکھ خاندان اور تین لاکھ امیدیں ہیں۔
ہم روزانہ آنکھ کھولتے ہیں، اپنے بچوں کے چہرے دیکھتے ہیں، کتاب پڑھتے ہیں، آسمان کے رنگ اور دنیا کی رونقیں دیکھتے ہیں۔ ہمیں یہ سب معمولی لگتا ہے، مگر جس شخص کی دنیا اندھیرے میں ہو، اس کے لیے روشنی سب سے بڑی نعمت ہے۔
پاکستان کو بیرونِ ملک سے عطیہ شدہ قرنیوں کی مدد بھی حاصل ہوتی ہے۔ امریکی ادارے Eversight کے مطابق 2024 میں پاکستان کو ایک ہزار سے زیادہ قرنیہ ٹشوز فراہم کیے گئے۔ یہ انسانی ہمدردی کی خوبصورت مثال ہے، مگر ہمارے لیے ایک سوال بھی ہے:
اگر دوسرے ملکوں کے لوگ اپنی وفات کے بعد اپنے قابلِ استعمال قرنیے پاکستانی مریضوں کے لیے عطیہ کر سکتے ہیں تو ہم خود اس نیکی میں اپنا حصہ کیوں نہ ڈالیں؟
اسلام کی نظر میں اعضا کا عطیہ
اسلام انسانی جسم کی حرمت کا درس دیتا ہے، لیکن انسانی جان بچانے اور تکلیف دور کرنے کو بھی بڑی اہمیت دیتا ہے۔ قرآن مجید فرماتا ہے:
وَمَنْ أَحْيَاهَا فَكَأَنَّمَا أَحْيَا النَّاسَ جَمِيعًا
’’اور جس نے ایک جان کو زندگی بخشی، گویا اس نے تمام انسانوں کو زندگی بخشی۔‘‘
(المائدہ: 32)
بین الاقوامی اسلامی فقہ اکیڈمی نے مخصوص شرائط کے ساتھ وفات یافتہ شخص کے اعضا ضرورت مند انسان میں منتقل کرنے کی اجازت دی ہے، خاص طور پر جب مقصد جان بچانا یا بینائی بحال کرنا ہو۔ موت کا یقینی ثبوت، شرعی و قانونی اجازت، انسانی جسم کی حرمت کا احترام اور اعضا کی خرید و فروخت سے اجتناب ضروری ہے۔
اس لیے یہ کہنا درست نہیں کہ اسلام اعضا کے عطیے کو مطلقاً حرام قرار دیتا ہے۔ اس مسئلے میں فقہی اختلاف موجود ہے، لیکن معتبر معاصر فقہی اداروں نے شرائط کے ساتھ اس کی اجازت دی ہے۔
میں خود نابینائی کا شکار نہیں رہا، لیکن نابینائی سے گزرنے والے انسانوں کی تکلیف نے مجھے یہ سوچنے پر مجبور کیا ہے کہ اگر میری وفات کے بعد میرے جسم کا کوئی قابلِ استعمال عضو کسی انسان کی زندگی بہتر بنانے یا اس کی بینائی بحال کرنے کے کام آ سکتا ہے تو اس سے بڑھ کر انسانیت کی خدمت کیا ہوگی؟
اسی لیے میری خواہش ہے کہ میری وفات کے بعد شرعی اور قانونی تقاضوں کے مطابق میرے قابلِ استعمال اعضا اور بافتیں ضرورت مند انسانوں کے علاج کے لیے عطیہ کی جائیں۔
ذرا تصور کیجیے، ایک گھر میں کسی عزیز کی موت پر آنکھیں اشک بار ہیں، جبکہ کسی اسپتال میں ایک ڈاکٹر ایک نابینا مریض سے کہہ رہا ہے:
’’آپ کی بینائی بحال ہونے کی امید ہے۔‘‘
ایک بچہ پہلی مرتبہ اپنی ماں کا چہرہ دیکھتا ہے، ایک باپ اپنے بیٹے کو دیکھ کر مسکراتا ہے اور ایک طالب علم دوبارہ کتاب پڑھتا ہے۔
یہ روشنی ایک ایسے انسان کے بعد آئی جس کی اپنی زندگی ختم ہو چکی تھی۔
ہم سب نے ایک دن مٹی میں لوٹ جانا ہے۔ دولت، عہدہ، شہرت اور آسائشیں یہیں رہ جائیں گی، مگر ہمارے بعد کسی انسان کے لیے چھوڑی ہوئی روشنی شاید ہمیشہ زندہ رہے۔
کیوں نہ ہم آج یہ فیصلہ کریں کہ ہماری زندگی ختم ہونے کے بعد بھی ہماری آنکھیں کسی کی دنیا روشن کرنے کا سبب بنیں؟
اگر آپ کے علم میں کوئی ایسا عظیم انسان ہے جس نے وفات کے بعد اپنا قرنیہ یا کوئی دوسرا قابلِ استعمال عضو عطیہ کیا ہو تو اس کا نام ضرور بتائیے۔ ایسی مثالیں دوسروں کو بھی اس نیکی کی طرف آنے کی ترغیب دے سکتی ہیں۔
موت زندگی کا اختتام ضرور ہے، مگر کسی دوسرے انسان کے لیے امید کی ابتدا بھی بن سکتی ہے۔



