تازہ ترین
لواری ٹنل چترال کا ملک سے رابطے کیلئے انتہائی اہم منصوبہ ہے ۔ کیونکہ چترال کی چھ لاکھ کی آبادی کا انحصار اس پر ہے، اسٹینڈنگ کمیٹی برائے مواصلات وکمیونیکیشن


تمام سفارشات مرتب کرکے وفاقی حکومت کو پیش کریں گے ۔ انہوں کہا ۔کہ کالاش ویلی روڈ اور گرم چشمہ روڈ کی تعمیر ہوگی ۔جس کے بعد مقامی لوگوں کو بہت سہولت ملے گی ، چترال پر بہت مشکل وقت آیا ہے ۔ اور ہم نے پوری تفصیل کے ساتھ اس کے مسائل کی جانچ کی ہے ۔ چترال میں بہت کچھ ہے ۔ اور پوری دُنیا چترال کو دیکھنا چاہتی ہے ۔ لیکن بد قسمتی یہ ہے ۔ کہ اس کی سڑکیں خراب ہیں ۔ اور لوگ خواہش رکھنے کے باوجود خراب سڑکوں کی وجہ سے یہاں آنے سے ہچکچاتے ہیں ۔ تاہم لواری ک ٹنل ی تعمیر کے بعد یہ مسئلہ حل ہو جائے گا ۔ حکومت نے تقریبا آٹھ ارب روپے اس کیلئے مختص کر دیے ہیں ۔انہوں نے کہا ۔ کہ ہم اپنے صوبائی حکومت کو بھی بتائیں گے ۔ کہ چترال میں تباہ شدہ نہروں سڑکوں ، آبنوشی سکیموں کی وجہ سے لوگوں کن مصائب کا سامنا ہے ۔ اور حکومت اپنی بساط کے مطابق فنڈ فراہم کرے ۔ ایم این شہزادہ افتخارالدین نے اس موقع پر اسٹینڈنگ کمیٹی کے تمام ممبران کا شکریہ ادا کیا ۔ کہ انہوں نے وزٹ کی اور عوام کی مشکلات کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ کا لاش ویلی میں ایسی سڑک کی ضرورت ہے ۔ جو تینوں وادیوں کو ٹچ کرے ۔ تاکہ مستقبل میں سیاحت کو فروغ دیا جا سکے ۔ انہوں نے ا س بات کا شدت سے ذکر کیا ۔ کہ روڈز کی تعمیر میں مقامی کمیونٹی کے نالج سے استفادہ نہیں کیا جاتا ۔ جس کی وجہ سے سڑکیں پائیدار نہیں ہوتیں ۔ انہوں نے سیکرٹری کمیونیکینشن اور ڈائریکٹر این ایچ اے سے پُر زور مطالبہ کیا ۔ کہ ان سڑکوں کی تعمیر میں تیزی لائی جائے ۔ قبل ازین ایم این اے شہزادہ افتخارالد پر ین کی قیادت میں اسٹینڈنگ کمیٹی کے ممبران نے کراکال گاؤں میں دہشت گردوں کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے نوجوانوں کی تعزیت کیلئے اُن کے گھر گئے ۔ اور اُن سے اظہار ہمدردی کی ۔ اس موقع پرسوگوار خاندانوں نے مطالبہ کیا ۔ کہ اُن کے ایک ایک بیٹے کو ملازمت دلوایا جائے ۔ جس پر اسٹینڈنگ کمیٹی نے اُنہیں ملازمت دلوانے کی یقین دھانی کی ۔ وادی کے مقامی عمائدین نے بھی مہمانوں اور ایم این اے سے ملاقات کی ۔ اور وادی کے مسائل سے انہیں آگاہ کیا ۔ درین اثنا اسٹینڈنگ کمیٹی کی نو رکنی ٹیم جو ہیلی کاپٹر پر لواری ٹنل کا دورہ کرنے گئی تھی ۔ پناہ کوٹ دیر میں لینڈ کرنے کیلئے مناسب جگہ نہ ملنے کے سبب لواری ٹنل کا دورہ نہ کر سکی ۔ اسی طرح گرم شمہ کا دورہ بھی نہ ہو سکا ۔