تازہ ترین
حادثہ بہت بڑا قومی المیہ ہے جو کہ پی آئی اے کی ناقص کار گردگی اور لا پرواہی کی وجہ سے پیش آیا ہے،ایم پی اے سلیم خان اینڈسردارحسین شاہ


باپ کواسلام آباد بلایا گیا ہے ۔انہوں نے کہاکہ ہم اسلام آباد پہنچ کرپمزہسپتال کے سربراہ سے بات چیت کی جس نے کہاکہ ہم قانونی کارروائی پوراکرکے لاشین لواحقین کوحوالہ کیاجائے گا جس میں چارسے پانچ دن لگ سکتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ڈی این اے حکام کا کہنا ہے کہ لاشوں کی بائیومیٹرک سسٹم کے ذریعے شناخت کی جائے گی جس کے لیے نادرا کا موبائل بائیو میٹرک سسٹم ہسپتال پہنچایا جائے گا تاہم لاشوں کی شناخت نہ ہوئی تو ان کا ڈی این اے کرایا جائے گا ۔انہوں نے کہاکہ حادثہ بہت بڑا قومی المیہ ہے جو کہ پی آئی اے کی ناقص کار گردگی اور لا پرواہی کی وجہ سے پیش آیا ہے۔ یہ حادثہ پاکستان میں پہلی بار نہیں ہوا کہ بلکہ ہماری بے شمار قیمتی جانیں اسی بے حس ادارے کی غیر زمہ دارانہ رویوں کی وجہ سے اس سے پہلے بھی کئی مرتبہ ضائع
ہوچکی ہیں۔ اس ادارے کی ناقص کارکردگی کی وجہ سے نہ صرف ملک کو قومی نقصان کا سامنا ہوا ہے بلکہ ہماری قیمتی جانیں بھی گئی ہیں جن کا اذالہ مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے۔ اس بے حس ادارے کو چاہیئے کہ مسافروں کی جانوں سے کھیلنے سے باز رہے۔ذرائع یہ بتاتی ہیں کہ ان جہازوں کی طبعی عمریں پوری چکی ہیں اور ادارہ محض پیسہ بٹور نے کے چکروں میں ہماری جانوں سے کھیل رہا ہے اس سے بڑھ کر بد عنوانی کی کوئی اور مثال دنیا میں کہیں بھی نہیں ملتی۔ایم پی اے سلیم خان اورسید سردار حسین شاہ نے وقافی حکومت سے مطالبہ کیاہے طیارے حادثے کی سختی سے نوٹس لیاجائے اورغفلت برتنے والے اہلکاروں کے خلاف قانونی کارروائی کیاجائے۔انہوں نے پی آئی اے حکام سے مطالبہ کرتے ہوئے کہاہے کہ چترال کوفوری نئی طیارے مقررکیاجائے تاکہ مسافروں کومشکلات پیش نہ ہو۔ دریں اثناء اے این پی کے ملاکنڈ ڈویژن کے جائنٹ سیکرٹری خدیجہ سردار نے بھی طیارے کے حادثے کو پی آئی اے انتظامیہ کی نااہلی قرار دیتے ہوئے اعلیٰ پیمانے پر تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔