مضامین

گوداموں میں گندم سڑ رہی ہے، عوام آٹے کو ترس رہی ہے…..تحریر:ظفراحمد


حکومت ہر سال اربوں روپے خرچ کر کے مہنگے داموں گندم خریدتی ہے، مگر وہی گندم گوداموں میں سڑ جاتی ہے کیونکہ نہ عوام تک اس کی رسائی ممکن ہوتی ہے، نہ ہی قیمت عوام کی استطاعت میں ہوتی ہے۔ پرائیویٹ مارکیٹ میں سستا اور بظاہر آسانی سے دستیاب آٹا ہونے کے باعث عوام سرکاری گندم خریدنے میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ اگر کچھ لوگ دلچسپی رکھتے بھی ہیں تو انہیں بروقت گندم دستیاب نہیں ہوتی۔

حقائق کے مطابق، چترال سمیت کئی علاقوں میں گوداموں میں سالوں سے پڑی گندم فروخت ہی نہیں ہو سکی۔ بعض گوداموں میں تو ایک بوری بھی نہیں بکی۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ سرکاری نرخ زیادہ ہیں اور گوداموں تک عوام کی رسائی محدود ہے۔ اکثر جگہوں پر گوداموں میں گندم موجود ہی نہیں ہوتی اور جہاں ہوتی بھی ہے وہاں قیمت عوام کی استطاعت سے باہر ہوتی ہے۔

عوام سستا آٹا بازار سے خریدتی ہے، کیونکہ گوداموں میں 2300 روپے کا جو تھیلا ہے وہ مارکیٹ میں کچھ عرصہ پہلے تک اٹے کی صورت میں 1500 روپے میں دستیاب تھا۔ تاہم اب وہی آٹا مہنگائی کے باعث 2000 روپے تک پہنچ چکا ہے، جس سے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ اگرچہ مارکیٹ کا آٹا بظاہر آسانی سے دستیاب ہے مگر اس میں سے اکثر میدہ، بیسن اور دیگر اجزاء نکال دیے جاتے ہیں تاکہ علیحدہ بیچ کر منافع کمایا جا سکے۔ نتیجتاً جو آٹا بچتا ہے وہ کم غذائیت والا اور ناقص معیار کا ہوتا ہے۔ سرکاری گندم اپنی اصل حالت میں زیادہ متوازن اور غذائیت بخش ہے مگر اس کی قیمت اور رسائی عوامی استطاعت سے باہر ہے۔ یوں حکومت کی مہنگی گندم گوداموں میں بیکار پڑی ہے اور عوام غذائیت سے خالی مہنگا آٹا خریدنے پر مجبور ہیں۔

گرمی، نمی اور ناقص اسٹوریج کی وجہ سے گندم خراب ہو رہی ہے اور یہ مسئلہ نیا نہیں۔ ماضی میں بھی جب گندم فروخت نہ ہوئی تو وہ سڑ گئی، کیڑے لگ گئے، اور نقصان عوامی پیسے کا ہوا۔ ۔

اب بھی اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو لاکھوں من گندم ضائع ہو جائے گی قومی خزانے کو اربوں کا نقصان ہوگا اور عوام مہنگائی تلے دبتی رہے گی۔

حکومت کو چاہیے کہ سرکاری گندم کے نرخ فوری طور پر مارکیٹ سے کم کرے تاکہ عوام کی رسائی ممکن ہو۔ پرانے اسٹاک کی نکاسی کے لیے رعایتی اسکیم شروع کی جائے اور ناقص پالیسی بنانے والے افسران کا اعلیٰ سطح پر احتساب کیا جائے۔ گوداموں کے نظام کو ڈیجیٹل اور شفاف بنایا جائے اور عوامی خریداری کو سہل اور قابل رسائی بنایا جائے۔ یہ اقدامات صرف خوراک کے ضیاع سے نہیں بچائیں گے بلکہ عوامی اعتماد کی بحالی، مہنگائی میں کمی، اور خزانے کے تحفظ کی بنیاد بن سکتے ہیں۔

کیونکہ جس طرح نقصان ہوتا آ رہا ہے اگر اب بھی کچھ نہ کیا گیا تو یہ صرف گندم کی تباہی نہیں رہے گی بلکہ یہ ایک مکمل حکومتی، معاشی اور انسانی ناکامی کی علامت بن جائے گی

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button