مضامین

دوسری ہجرتِ حبشہ — ایک روشن باب (38) …. تحریر: مبشرالملک

تاریخِ اسلام میں بعض واقعات محض حادثہ نہیں بلکہ فکر و کردار کی بنیاد بن جاتے ہیں۔ دوسری ہجرتِ حبشہ بھی ایسا ہی ایک درخشاں باب ہے—جب مکہ کی سنگلاخ زمین پر ایمان آزمائش میں تھا، مگر اہلِ ایمان کے قدم متزلزل نہ ہوئے۔
نبوت کے پانچویں سال قریشِ مکہ کے مظالم حد سے بڑھ گئے۔ کمزور مسلمان کوڑے کھاتے، غلام تپتی ریت پر لٹائے جاتے، سماجی بائیکاٹ اور معاشی دباؤ نے زندگی دشوار کر دی۔ ایسے میں رسولِ اکرم ﷺ نے اپنے جان نثار ساتھیوں کو مشورہ دیا کہ وہ حبشہ کی طرف ہجرت کر جائیں، کیونکہ وہاں ایک عادل فرمانروا حکومت کرتا ہے جس کے ہاں کسی پر ظلم نہیں ہوتا۔ وہ فرمانروا تھا نجاشی (اصحمہ بن ابجر) — انصاف پسند اور نرم دل بادشاہ۔
پہلی ہجرت کے بعد جب ظلم کی شدت میں کمی نہ آئی تو دوسری ہجرت کا مرحلہ پیش آیا۔ اس بار قافلہ بڑا تھا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ تقریباً تراسی مرد اور اٹھارہ یا انیس خواتین اس قافلے میں شامل تھیں۔ یہ فیصلہ آسان نہ تھا۔ عرب معاشرے میں وطن اور قبیلہ چھوڑ دینا گویا اپنی شناخت کھو دینے کے مترادف تھا، مگر ایمان کی حفاظت ہر رشتے سے مقدم تھی۔
اس قافلے میں کئی جلیل القدر صحابہؓ شامل تھے۔ حضرت جعفر بن ابی طالبؓ اس جماعت کے نمایاں ترجمان تھے۔ حضرت عثمان بن عفانؓ اپنی زوجہ محترمہ حضرت رقیہ بنت رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اس سفر میں شریک تھے۔ حضرت امِ سلمہؓ جیسی باوقار اور صابرہ خاتون بھی انہی مہاجرین میں شامل تھیں۔ یہ سب اپنے گھروں سے نکلے تو صرف ایک یقین ساتھ تھا—اللہ کی نصرت۔
حبشہ اس وقت سلطنتِ اَکسوم کا مرکز تھا، جو تجارتی اور تہذیبی اعتبار سے ترقی یافتہ خطہ تھا۔
وہاں نہ طنز تھا، نہ تعاقب، نہ کوڑے۔ مسلمانوں نے اپنے اپنے پیشوں کے ذریعے گزر بسر شروع کی۔ کسی نے تجارت کی، کسی نے محنت مزدوری اختیار کی۔ وہ آزادی سے عبادت کرتے، قرآن کی تلاوت کرتے، اور اپنے بچوں کی تربیت ایمان کی روشنی میں کرتے رہے۔ یہ تاریخ کا پہلا واقعہ تھا جب مسلمانوں نے ایک غیر مسلم ریاست میں مکمل مذہبی آزادی کے ساتھ زندگی گزاری۔
تاہم اس ہجرت میں ایک آزمائش بھی سامنے آئی۔ حضرت عبید اللہ بن جحشؓ حبشہ پہنچ کر عیسائیت کی طرف مائل ہو گئے۔ ان کی اہلیہ حضرت امِ حبیبہؓ ایمان پر ثابت قدم رہیں۔ بعد ازاں رسول اللہ ﷺ نے ان سے نکاح فرمایا، اور نجاشی نے ہی ان کا نکاح پڑھایا۔ یوں آزمائش کے پہلو سے بھی اللہ نے خیر کا دروازہ کھول دیا۔
دوسری ہجرتِ حبشہ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ جب زمین تنگ ہو جائے تو اللہ کی زمین وسیع ہے۔ ظلم کے سامنے سر جھکانے کے بجائے ہجرت اختیار کرنا کمزوری نہیں بلکہ ایمان کی بقا کی حکمت ہے۔ چند درجن مظلوم مہاجرین نے اپنے صبر، وقار اور استقامت سے تاریخ کو یہ پیغام دیا کہ نظریات تلوار سے نہیں، کردار سے زندہ رہتے ہیں۔
حوالہ جات:
سیرت ابنِ اسحاق
البدایہ والنہایہ (ابنِ کثیر)
الطبقات الکبریٰ (ابنِ سعد)
طالبِ دعا
حقیرو فقیر

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button