مضامین

پاکستان پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی سے تحریک انصاف تک—چترال میں صحت کا بدلتا منظرنامہ……… تحریر: شجاعت علی بہادر

چترال جیسے دور افتادہ ضلع میں صحت کی سہولیات ہمیشہ ایک بڑا چیلنج رہی ہیں۔ مگر ایک وقت تھا جب کم وسائل کے باوجود بنیادی مراکزِ صحت فعال تھے اور عوام کو کم از کم ڈاکٹر کی دستیابی میسر تھی۔

2008 سے 2013 کے دوران، جب پاکستان پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کی حکومت تھی، چترال کے مختلف بی ایچ یوز میں ڈاکٹرز خدمات انجام دے رہے تھے۔

بی ایچ یو بریپ یارخون میں ڈاکٹر نسیم ، بی ایچ یو بروز میں سعد الصباح، بی ایچ یو سنوغر میں ڈاکٹر فرمان، بی ایچ یو بروک لاسپور میں ڈاکٹر صمد، بی ایچ یو ریشن میں ڈاکٹر بشیر، اور بی ایچ یو تریچ میں ڈاکٹر آصف علی شاہ موجود تھے۔

ان مراکز میں سہولیات محدود تھیں، مگر ایک چیز یقینی تھی: مریض کو ڈاکٹر مل جاتا تھا۔
آج چترال میں صورتحال بدل چکی ہے۔ بظاہر صحت کارڈ جیسے بڑے منصوبے موجود ہیں، مگر زمینی حقیقت یہ ہے کہ بی ایچ یوز غیر فعال ہو چکے ہیں اور تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتالوں میں بھی ڈاکٹرز کی کمی شدت اختیار کر چکی ہے۔

یہاں تک کہ ایک پوسٹ مارٹم کے لیے بھی گھنٹوں انتظار کے بعد میت کو دوسرے ہسپتال منتقل کرنا پڑتا ہے۔

چترال اپر کے عوام کے لیے سوال سادہ مگر اہم ہے:
کیا بہتر ہے کہ جیب میں لاکھوں کا صحت کارڈ ہو، یا اپنے علاقے میں ایک ڈاکٹر دستیاب ہو؟

صحت کا نظام نعروں سے نہیں، موجودگی سے چلتا ہے۔
اور چترال آج بھی اسی بنیادی ضرورت کا منتظر ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button