154

فلاح انسانیت فاونڈیشن نے ریشن میں امدادی سرگرمیاں شروع کردی

چترال( نمائندہ ڈیلی چترال) فلاح انسانیت فاو¿نڈیشن کے رضاکار دشوار گزار پہاڑی راستوں سے گھنٹوں کی پیدل مسافت طے کر کے چترال کے سب سے متاثرہ علاقے ریشن پہنچ گئے۔ریشن کے گاﺅںمیں سیلاب نے دوبارہ تبا ہی مچا دی تھی۔متعدد دکانیں اور مکا نات مکمل تباہ ہو گئے۔ریشن کے مقام پر 107مکانات مکمل تباہ ہو گئے جس میں ایک بجلی گھر ،آغا خان ہیلتھ سنٹر ،شیڈو کالونی اور دیگر کئی ایسے مقامات شامل ہیں ۔فلاح انسانیت فاو¿نڈیشن کے رضاکاروں نے بروقت متاثرہ جگہ پہنچ کر ریسکیو اور امدادی سر گرمیا ں شرو ع کر دیں ۔جماعة الدعوة دیر کے زونل مسﺅل ابو ہا رون اور ترجمان فلاح انسانےت فاﺅنڈےشن ابرار وحےدکا کہنا تھا کہ انہوں نے ان علاقوں کا مکمل سروے کر لیا ہے ۔فلاح انسانیت فاو¿نڈیشن کی طرف سے ان علاقوں میں فری میڈیکل کیمپ بھی لگا دیے جس سے متاثرین کو میڈیکل کی سہولیات اور فری ادویات مہیا کی گئیں۔ان کا کہنا تھا کہ ان علاقوں میں جلد ہی خشک راشن کی تقسیم کا کام شروع کر دیا جا ئے گا۔یاد رہے کہ اب تک فلاح انسانیت فاو¿نڈیشن کی طرف سے متعدد علاقوں میں فری میڈیکل کیمپ کی سہولیات ، صاف پانی کی فراہمی ،پکے پکائے کھانے اور خشک راشن کی تقسیم کا کام کیا جا چکا ہے ۔ابو ہارون کا مزید کہنا تھا کہ فلاح انسانیت فاو¿نڈیشن دکھی انسانیت کی خدمت میں پیش پیش ہے۔

حالیہ سیلاب میں وزیر اعظم پاکستان کا چترال کے لئے اعلانات قابل تحسین ہے۔ارشاد جاوید ایڈوکیٹ
چترال (نمائندہ ڈیلی چترال) ارشاد جاوید ایڈوکیٹ ضلعی قائد پاکستان مسلم لیگ ن نے اپنے ایک اخباری بیان میں کہا ہے کہ حالیہ سیلاب میں وزیر اعظم پاکستان نے چترال میں جو اعلانات کئے ہے وہ قابل تحسین ہے ہم چترال کے عوام دل کی گہرائیوں سے وزیراعظم کا شکریہ ادا کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ سیلاب زدہ گان کو وزیراعظم کی طرف سے جو سامان دینے کا اعلان کیا گیا ہے وہ بذریعہ پاک آرمی متاثرین میں تقسیم کئے جائے اس سے قبل قدرتی آفات کے موقع پر وزیر اعلی پنجاب میاں شہباز شریف نے دل کھول کر چترال کے عوام کی مدد کی لیکن پارٹی کے چند مفاد پرست عناصر نے وہ سامان تقسیم نہیں کئے 2008زلزلے کے وقت بھی پارٹی کی طرف سے چترال کے عوام کی مدد کی گئی لیکن وہ سامان بھی متاثرین تک نہیں پہنچ سکے انہوںنے وزیراعظم پاکستان سے اپیل کی کہ ریلیف کے سامان پاک آرمی کے ذریعے سے متاثرین میں تقسیم کئے جائے تاکے متاثرین کی صحیح معنوں میں خد مت کی جا سکے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں