153

بے یار ومددگار چترال تحریر(بشیر حسین آزاد)

خیبر پختونخواہ کا سب سے بڑا ضلع چترال سیلاب کی زد میں ہے سیلاب میں600کلومیٹر سڑکیں بہہ گئی ہیں۔ڈھائی لاکھ کی آبادی بمبوریت،گرم چشمہ،موڑکہو،تورکہو،بونی اورمستوج میں محصور ہوکر رہ گئی ہے۔چار ہزار چکوارم زمین پر کھڑی فصلیں تباہ ہوگئی ہیں۔باغات اور جنگلات کا بڑا رقبہ سیلاب سے متاثرہوا ہے۔کوراغ کے مقام پر سڑک بند ہونے کی وجہ سے سب ڈویژن مستوج کی ڈھائی لاکھ آبادی کو اشیائے صرف کی شدید قلت کا سامنا ہے۔پیٹرول اور ڈیزل کا اسٹاک ختم ہوا ہے۔ریشن کا بجلی گھر سیلاب میں بہہ جانے کی وجہ سے بجلی چلی گئی ہے۔اور تاریکی چھاگئی ہے۔32قیمتی جانوں کے ضیاع نے کئی انسانی المیوں کو جنم دیا ہے۔اس تباہ کن سیلاب کے نتیجے میں ہونے والی تباہی کا اندازہ وہ لوگ نہیں لگاسکتے جنہوں نے پنجاب اور پشاو ر کا سیلاب دیکھا ہے۔یہ”سیلِ آب“کہلاتا ہے مگر چترال سمیت پہاڑی علاقوں میں سیلِ آب نہیں آتا مٹی ،پتھر اور کیچڑ کا سیلاب آتا ہے۔جس کو”سیل خاک وسنگ وآب “کہنا زیادہ مناسب ہے۔پنجاب اور پشاور کا سیلاب اترتے ہی گھر،کھیت اور باغات اپنی جگہ کھڑے رہتے ہیں۔جبکہ چترال کا سیلاب گھروں،کھیتوں،درختوں اور دیواروں کو اپنے ساتھ بہاکر دوکلومیٹر دور لے جاتا ہے آبادی اور بستی کو کیچڑ اور پتھروں کے ڈھیر میں تبدیل کردیتا ہے۔وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اور وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کے دورﺅ چترال کے باوجود گذشتہ 15دنوں میں سیلاب کے متاثرین کی امداد اور بحالی پر کوئی کام نہیں ہوا۔متاثرین دربدر ٹھوکریں کھارہے ہیں۔سول انتظامیہ کے اختیارات واپس لئے گئے ہیں۔موقع پر موجود مجسٹریٹ اور ریونیو افیسر متاثرین کی بحالی پر ایک ہزار روپے خرچ نہیں کرسکتا۔فوجی حکام ،این ڈی ایم اور پی ڈی ایم اے کے ساتھ عوام کا رابطہ نہیں ہے۔اس لئے چترال کے متاثرین سیلاب کوبے یارومددگار چھوڑدیا ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ متاثرین کی امدادکاکام ایمرجنسی بنیادوں پر شروع کرایا جائے۔ٹاون کے لوگ بون بوند پانی کو ترستے ہیں۔مستوج سب ڈویژن میں بجلی نہیں ہے۔پیٹرول اور ڈیزل کی قلت ہے۔راستے بند ہیں۔پاک فوج ،اے کے آر ایس پی ،ایس ار ایس پی ،فیف، الخدمت اور دیگر چھوٹے بڑے فلاحی اداروں کے علاوہ بحالی پرکسی نے کام نہیں کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں