139

داد بیداد۔۔اپوزیشن لیڈر کا مثبت کردار ۔۔۔۔۔ڈاکٹر عنایت اللہ فیضیؔ

قومی اسمبلی میں لیڈر آف دی اپوزیشن اور پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر لیڈر سید خورشید شاہ نے سیلاب زدہ علاقوں کا درہ کر کے حز ب اختلاف اور قائد حز ب اختلاف کے مثبت کردار کواُجار کیا انہوں نے سیلاب زدہ ضلع میں ریلیف اور بحالی کے کاموں کے لئے سندھ حکومت کی طرف سے 5 کروڑ ررپے کا چیک ضلعی انتظامیہ کے حوالے کیا اجتماعات اور پر یس کانفرنس کے موقع پر انہوں نے جو تقریریں کیں وہ مقامی حالات اور مصبیت زدہ عوام کے جذبات کی ترجمانی کے زمرے میںآتی ہیں دیگر لیڈروں کی طرح انہوں نے کراچی اور لاہور یا اسلام آباد والی پرانی تقریر چترال میں نہیں دہرائی سید خورشید شاہ اپنے اطوار اور اسلوب میں اسلامی تہذیب اور سندھی ثقافت کی مکمل تصویر دکھائی دیتے ہیں ان کا نرم لہجہ دل کو متاثر کرتاہے انکی ہربات ’’ از دل خیز د بردل ریزد‘‘ کی تصویر ہے دورے میں ان کے ہمراہ وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کی صاحبزادی نفیسہ شاہ ایم این اے پشاور کی سینیٹر روبینہ خالد ، سویٹ ہوم کے ذریعے شہرت پانے والے سابق ایم این اے زمرد خان اور سابق وفاقی وزیر نجم الدین خان بھی تھے 15 جولائی کے تباہ کن سیلاب سے اب تک دو چار لیڈروں نے چترال کے دورے کئے ان میں سب سے زیادہ متاثرکن دورہ قائد حز ب اختلاف کادورہ تھا وہ سیلاب زدہ لوگوں سے بھی ملے پارٹی ورکروں سے بھی ملے میڈیا کے نمائیندوں سے بھی ملے انہوں سے سیلاب زدہ لوگوں کے حقیقی مسائل معلوم کئے ان مسائل کے حل پرتوجہ دی انہوں نے تین اہم امور کا ذکر کیا انہوں نے بتایا کہ چترال کی 32 پہاڑی ودیوں میں سیلاب سے جن کے گھر میلا میٹ ہوئے فصلیں تباہ ہوئیں باغات برباد ہوئے وہ بھی متاثر ہوئے ساتھ ساتھ جن کے گھر ،کھیت اور باغات سیلاب سے محفوظ رہے وہ سڑکوں کی وجہ سے ،نہروں کیوجہ سے بجل گھروں کی وجہ سے ،آبنوشی سکیموں کی وجہ سے دریا کے کٹاؤ کی وجہ سے متاثر ہوئے چند مہینوں تک کاروبار بند رہے گا معاشی سرگر میاں اگلے 5 سالوں تک بحال نہیں ہوسکینگی اس کو قومی آفت ، نیشنل ڈیزاسٹر قرار دینا وقت کا تقاضا ہے 4 لاکھ کی آبادی میں صرف ڈھائی تین لاکھ متاثر نہیں ہوئے 4 لاکھ کی پوری آبادی متاثرہ ہوئی دوسری اہم بات جوانہوں نے صرف ایک دن میں نوٹ کی وجہ یہ تھی کہ چترال کی سول سوسائیٹی بہت فعال اور قابل اعتبار ہے لوگ اپنی مدد آپ کے تحت سڑکیں کھول رہے ہیں نہریں بحال کرنے واٹر سپلائی سکیموں اوربجلی گھروں کی بحالی پر کام کر رہے ہیں سول سول سوسائیٹی کا کام بہت نمایاں ہے تیسری اہم بات جو انہوں نے نوٹ کی وہ یہ ہے کہ سیلاب زدہ عوام کی خدمت میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کا کردار نظر نہیں آرہا ایک جمہوری حکومت میں قدرتی آفت کے موقع پر جمہوری قیادت کا منظر سے غائب ہونا بہت افسوناک ہے انہوں نے اعلان کیا کہ سندھ حکومت کی طرف سے چترال میں ریلیف اور بحالی کے لئے 5 کروڑ روپے کی جو حقیر امداد بھیجی گئی ہے یہ امدار چترال کے دو ایم پی ایز کی مشاورت سے ضلعی انتظامیہ مقامی کمیونیٹی کے ذریعے خرچ کریگی اس طرح 50 لاکھ روپے کی سکیم صرف 15 لاکھ روپے میں مکمل ہوگی اور اس کا براہ راست فائد ہ عوام کو ہوگا عوام پر ہمارا اعتبار نظر آئے گا سیاسی رہنماؤں اور سیاسی کارکنون کا کردار نظر آئے گا سیاستدانوں پرعوام کا اعتماد بڑھے گا اس موقع پر ’’سویٹ ہوم ‘‘ کے سر براہ زمرد خان نے چترال کے 300 بچوں کے لئے پرائیمری سے لیکر یونیورسٹی کی سطح تک مفت رہائش ،مفت خوراک پوشاک اور مفت تعلیم کے منصوبے کا اعلان کیا اور کہا کہ سویٹ ہوم چترالیوں کا ہے اس پر چترال کے عوام کا اتنا ہی حق ہے جتنا دوسرے پاکستانیوں کا حق بنتاہے 300 بچوں کا انتخاب ضلعی انتظامیہ ایم پی ا یز کی مشاورت سے کریگی بچوں کی عمریں 6 سال سے لیکر 10 سال تک کے درمیاں ہونی چاہیں لیڈر آف دی اپوزیشن نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے تجویز دی کہ چترال کے عوام کو تھرکی 9 لاکھ آبادی کی طرح مفت گندم فراہم کی جائے انہوں نے یہ بھی تجویز دی کہ بڑے پیمانے پر تباہی کو مد نظر رکھ کر چترال کے عوام کو بینکوں کے ہر طرح کے قرضے ہاؤ س بلڈنگ فنانس ، کاروباری قرضے اور مائیکروفنائس ،زرعی قرضے سمیت معاف کئے جائیں تاکہ متاثرہ ضلع کے عوام جلد از جلد اپنے پاؤں پر کھڑی ہوئے کے قابل ہوجائیں لوگ غلط طور پر یہ سمجھتے تھے کہ لیڈر آف دی اپوزیشن کا کام محض تنقید کرنا ہے سید خورشاہ نے چترال کے سیلاب زدہ ضلع کا دورہ کر کے لوگوں کے حقیقی مسائل سے آگاہی حاصل کرکے اور لوگوں کے لئے ریلیف اور بحالی کے کاموں کی غرض سے 5 کروڑ روپے کا چیک ایم پی ایز اور ضلعی انتظامیہ کے ہاتھوں میں دیکر ثابت کیا ہے کہ لیڈر آف اپوزیشن مصیبت کی اس مشکل گھڑی میں عوام کے زخموں پر مرہم رکھ سکتا ہے سید خورشید شاہ کا یہ مثبت کردار تاریخ میں یاد رکھا جائے گا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں