101

چترال کو محرومیوں سے دوچار کرنے کا سلسلہ ترک نہ کیا گیا تو نہ رکنے والا احتجاج شروع ہو جائے گا،مولانا عبدالشکور

DSC_0335 (1)
پشاور(نادرخواجہ سے) وفاقی و صوبائی حکومت کی جانب سے چترال کو محرومیوں سے دوچار کرنے کا سلسلہ ترک نہ کیا گیا تو نہ رکنے والا احتجاج شروع ہو جائے گا ،ابھی تک چترال کے متاثرین سیلاب نے افغانستا ن میں پناہ نہیں لی،خواتین کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کیلئے کوئی کثر نہیں چھوڑیں گے ،ان خیالات کا اظہار چترال کے نو منتخب نائب ناظم اعلیٰ مولانا عبدالشکور،امیر جے یو آئی قاری عبدالرحمان،تحصیل چترال کے ناظم مولاناالیاس ، مولانا حسین احمد مولانا محمد مراد ، مولانا انعام الحق نے میڈیا سنٹر پشاور میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہؤے کیا مولانا عبدالشکور نے کہاکہ چترال میں سیلاب کے بعد صورتحال انتہائی تشویش ناک ہے جس طرح کام کی ضرورت ہے اس طرح کام نہیں کئے جارہے ہیں فوج نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ریسکیو کیا لیکن اب حکومتوں کی ذمے داری ہے کہ عوام کو ریلیف دیں اور بحالی کا عمل شروع کریں لیکن وفاق اور صوبائی حکومتیں ایسا نہیں کررہی ہیں جس سے چترال کے لوگوں میں محرومیاں بڑھ رہی ہیں ،اسلئے حکومتوں کو خبردار کرتے ہیں کہ محرومیوں کو ختم کیا جائے ورنہ نہ رکنے والا احتجاج شروع ہوجائے گا ،دیگر مقررین نے کہاکہ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کے دورہ چترال کا کوئی فائدہ نہیں ہوا سب کچھ عوام کو دیکھانے کیلئے کیا گیا ،ان کا کہنا تھا کہ تحصیل موڑکہو ، گوہکیر کوشٹ ، سہت کوراغ ، ریشن ، بونی موڑکہو ، تورکہو ، گرم چشمہ کالاش ویلی سمیت چترال کے مختلف علاقے رہنے کے قابل نہیں رہے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے ،ایک سوال کے جواب میں عبدلشکور نے کہا کہ ضلعی حکومتوں کے قیام سے مساہل کا حل ممکن ہے لیکن بڑی تباہی کے بعد بحالی کا کام ضلعی حکومت تو دورکی بات صوبائی و وفاقی حکومت بھی نہیں کر سکتی ،چترال میں سردی کا موسم شروع ہونے والا ہے لیکین بحالی کا کام کی رفتار سست روی کا شکار ہے چنددنوں بعد سردی شروع ہوجائے اور تعمیراتی کام نہیں ہوسکے گا اس وقت حکومت کو چائیے کہ ایمرجنسی طور پر تباہ شدہ مکانات کی تعمیر کے لئے متاثرین کی مدد کریں کیونکہ چترال میں سردی کے موسم میں ٹینٹ میں رہنا ممکن نہیں انہوں نے کہا بجلی کی بحالی کے ساتھ ساتھ سولر متاثرہ علاقوں کو مفت فراہم کیا جائے یا ارزاں نرخوں پر حکومت فراہم کرے انہوں نے اس عزم کیا اعادہ کیا کہ ضلعی حکومت حتیٰ وسعی کوشش کرے گی کہ چترال کی جلد سے جلد بحالی ممکن ہو ۔انہوں نے کہا جے یو آئی ضلع کابینہ کے فیصلوں سے انحراف کرنے والے اراکین کے خلاف پارٹی ڈسپلنری ایکشن لے گی جس کی وجہ سے چترال میں مذہبی جماعتوں کے اتحاد کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں