95

گزشتہ سال پاکستان میں پیش آنے والے اہم واقعات

اسلام آباد (نامہ نگار ) 2015ء میں پاکستان مختلف نشیب و فراز سے گزارا، کچھ خبریں ایسی تھیں جس نے عوام کی توجہ اپنی طرف کھینچ لی اور بہت سے دلخراش واقعات بھی سامنے آئے۔سال 2015 میں پہلی بڑی سیاسی خبر تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اور ریحام خان کی 8 جنوری کو شروع ہونے والی ازدواجی زندگی کی تھی۔ شروع سے ہی منفی خبریں بھی آتی رہیں جو 9 ماہ 22 دن بعدطلاق کی صورت میں حقیقت کا روپ دھار گئیں۔دوسری اہم سیاسی پیشرفت 10 سال بعد ہونے والے بلدیاتی انتخابات تھے جس میں خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی ، پنجاب اور اسلام آباد میں مسلم لیگ( ن) ، سندھ میں پیپلز پارٹی اور کراچی میں ایم کیو ایم نے بھاری اکثریت حاصل کی۔اس سال بھی دہشتگردی نے پاکستان کا پیچھا نہ چھوڑا ، مارچ میں لاہورکے علاقے یوحنا آباد میں چرچ پر دھماکوں میں 15 افراد ہلاک اور 78 سے زائد زخمی ہو گئے جس کے بعد مشتعل افراد نے دو راہ گیروں کو تشدد کا نشانہ بنایا اور آگ لگا دی۔13 مئی کو کراچی کے علاقے صفورا گوٹھ کے قریب دہشتگردوں نے اسماعیلی کمیونٹی کی بس پر فائرنگ کر کے خواتین سمیت 45 افراد کو جاں بحق کر دیا تھا۔18 ستمبرکو پشاور میں پاک فضائیہ کے بڈھ بیر کیمپ اور ملحقہ مسجد پر دہشتگردوں کے حملے میں فوج کے جوانوں اور نمازیوں سمیت 29 افراد شہید ہوئے ، جوابی کارروائی میں تمام 13 حملہ آور مارے گئے۔سال کے اختتام پر 13 دسمبر کو پارا چنار کے عید گاہ بازار میں دھماکے سے 24 افراد جاں بحق اور 50 سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔ضرب عضب اس سال بھی کامیابی سے جاری رہا جس کا دائرہ پورے ملک میں پھیلا کر شہروں میں بھی دہشتگردوں کے خلاف کاروائیاں کی گئیں۔کراچی میں سوا 2 سال سے جاری رینجرز آپریشن میں کافی کامیابیاں ملیں لیکن ڈاکٹر عاصم کی گرفتاری اور آدھی سندھ کابینہ کی ضمانت قبل از گرفتاری نے رینجرز اختیارات کے معاملے پر وفاقی اور سندھ حکومت کو آمنے سامنے لا کھڑا کیا۔اس کے علاوہ ایم کیو ایم کے رہنماعمران فاروق کے قتل میں گرفتاریا ں ہوئیں اور کیس کا مقدمہ پاکستان میں بھی درج کر لیا گیا۔14 مارچ کو ماڈل ایان علی کو اسلام آباد ایئر پورٹ سے 5 لاکھ امریکی ڈالر اسمگل کرتے ہوئے حراست میں لیا گیا اور سارا سال ان کی پیشیوں پر عدالت میں گہما گہمی رہی۔ملکی تاریخ کا ایک شرمناک اسکینڈل جی ہاں قصور کے نواحی علاقے میں ایک گروپ کی طرف سے 280 سے زائد بچوں کو ہوس کا نشانہ بنانے اور ان کی ویڈیوز ریکارڈ کرنے کا بھی انکشاف ہوا اسی سال کئی حادثات اور قدرتی آفات بھی پاکستان میں رونما ہوئیں۔نومبر میں لاہور سندر انڈسٹریل اسٹیٹ میں فیکٹری کی عمارت 45 افراد کی جان لے گئی ، سال میں ہونے والے تین ہوائی حادثات میں خاتون پائلٹ مریم مختارسمیت 18 افراد شہید ہوئے اور 4 غیر ملکی سفیروں اور ان کی بیگمات بھی جاں بحق ہوئیں۔بلوچستان کے شہر آب گم اور پنجاب کے شہر گوجرانولہ کے قریب ہونے والے ٹرین حادثوں میں 44 افراد جہان فانی سے کوچ کر گئے۔رمضان کے شروع میں ہی موسمی تبدیلیوں سے سندھ میں درجہ حرارت 40 ڈگری سے تجاوز کر گیا اور کراچی سمیت سندھ بھر میں ہیٹ اسٹروک سے تقریبا 1300 سے زائد افراد اللہ کو پیارے ہو گئے۔27 اکتوبر کو پاکستان میں زمین ایک بار پھر لرز اٹھی، 7.5 کی شدت کے زلزلے سے 279 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔اس سال کئی بڑے نام بھی ہم سے بچھڑ گئے جن میں آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ حمید گل ، پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما مخدوم امین فہیم ، جاسوسی ادب اور انسپکٹر جمشید جیسے کردار کے تخلیق کار اشتیاق احمد ، نامور شاعر اور ادیب جمیل الدین عالی اور الف نون کے مشہور کردار کمال احمد رضوی یعنی الن شامل ہیں۔کاروبار کی دنیا پر نظر ڈالیں تو پاکستان اور چین کے درمیان 45.6 ارب ڈالر کے 51 منصوبوں پر دستخط کئے گئے جن میں پاک چین قتصادی راہداری اور توانائی کے اہم منصوبے شامل ہیں۔اس کے علاوہ جہاں ڈالر کی قدر میں اضافہ ہوا تو وہیں پٹرول کی قیمت بھی انٹر نیشنل مارکیٹ کی طرح کم ہوئیں ، 21 جنوری کو کراچی اسٹاک مارکیٹ کا ہنڈرڈ انڈیکس 35 ہزار پوائنٹس کی سطح عبور کر کے تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں