تازہ ترین
انجمن ترقی کھوار کے زیراہتمام چترال میں مادری زبانوں کاعالمی دن منایاگیا


گجرزبان کی طرف سے خالق فراق عندلیب نے مقالہ پیش کرتے ہوئے کہاکہ ایشیاء کی بڑی زبان مانی جاتی ہے ۔اس تقریب میں پلولہ زبان کی نمائندگی کرتے ہوئے اپنے مقالے میں صلاح الدین طوفان نے پلولہ زبان کی تاریخی پس منظرکااحاطہ پیش کیا انہوں نے کہاکہ پلولہ زبان چترال کے مختلف دیہات بشمول بیوڑ اورعشریت کے ساتھ افغانستان کے صوبے کنڑمیں بھی بولی جاتی ہے ۔انہوں نے مزید کہاکہ کھوار میں بولی جانے والی زبانوں کی ترقی کے لئے چترال میں موجود ادبی نتظیموں کاکردار مثبت ہوناچاہیے ۔تقریب میں شیربڑانگ خان گداز ،محمدشریف عروج اوردوسروں نے زبان کی اہمیت پرنظم پیش کئے ۔اس موقع پرمہمان خصوصی صلاح الدین طوفان نے اپنے خطاب میں کہاکہ چترال میں لسانیاتی گروہ کی موجودگی ایک ثقافتی ورثے کی اہمیت کواجاگر کرتاہے۔انہوں نے کہاکہ اراندوسے لیکرگبوراورعشریت سے لیکر بروغل تک 14زبانوں کاتحفظ اورترقی ہم سب کی مشترکہ زمہ داری ہے ۔ اس موقع پر انجمن ترقی کہوار چترال کے مرکزی صدر شہزادہ تنویرالملک نے شرکاء کی طرف سے متفقہ قرارداد پیش کیا جن میں حکومت سے مطالبہ کیاگیا کہ چترال می بولی جانے والی زبانوں کی ترقی اورترویح کیلئے کردار ادا کیاجائے ۔چترال میں آرٹ کونسل کے قیام اورسرکاری ٹی وی اوریڈیو سے کھوار اورچترال میں بولی جانے والی دوسری زبانوں کوبھی نمائندگی دی جائے اورکھوار نصاب سازی کومکمل کرکے نصاب میں شامل کیاجائے۔آخرمیں صدرمجلس محمدیوسف شہزاد نے اپنے صدارتی خطبے میں کہاکہ صوبہ خیبرپختونخوا اورگلگت بلتستان میں ملاکے 35زبانیں موجود ہیں اوران کی ترقی تروبیع ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے چترال میں زبان کی ترقی کے لئے انجمن کھوار کاکردار مثالی ہے اوراب تک 70سے زائد کتابوں کی چھپائی انجمن ترقی کھوار نے کی ہے