79

سب ڈویژن مستوج کے مختلف علاقوں ، کوشٹ، گہکیر ، لون ،تورکہو ، کُشم ، موڑکہو ، مدک ، بونی ،چرون ، کوراغ اور ریشن کے ہزاروں افراد نے پیر کے روز زبردست مظاہرہ

چترال ( محکم الدین محکم)سب ڈویژن مستوج کے مختلف علاقوں ، کوشٹ، گہکیر ، لون ،تورکہو ، کُشم ، موڑکہو ، مدک ، بونی ،چرون ، کوراغ اور ریشن کے ہزاروں افراد نے پیر کے روز زبردست مظاہرہ کیا ۔ اور چرون کے مقام پر چترال مستوج روڈ بند کردی ۔ مظاہرین نے روڈ پر دھرنا دیا اور سارا دن جلسے سے مختلف مقررین کا خطاب جاری رہا ۔ احتجاجی مظاہرے میں خواتین کی بڑی تعداد نے بھی شرکت کی۔ روڈ کی بندش کی وجہ سے بالائی چترال سے آنے والے اور چترال شہر سے سب ڈویژن مستوج جانے والے مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔ خواتین ،بچے بوڑھے اور بیمار گھنٹوں سے سڑک کے کھلنے کا انتظار کرتے رہے ۔ احتجاجی جلسے سے مختلف علاقوں کے لوگوں نے خطاب کرتے ہوئے کہا ۔ کہ زلزلہ اور سیلاب میں سب ڈویژن مستوج میں تباہی آئی ۔ لوگوں کے رہائشی مکانات ، پلیں ، سڑکیں آبپاشی نہریں آبنوشی سکیمیں اور آراضی کو شدید طور پر نقصان پہنچا ۔ خصوصا زلزلے کے بعدمکانات کے منہدم ہونے سے لوگ انتہائی مشکل زندگی گزار رہے ہیں ۔ مگر حکومت کی طرف سے درجن بھر مرتبہ ویریفیکیشن کے باوجود آج بھی ہزاروں خاندان امدادی چیکوں اور ریلیف کے سامان سے محروم ہیں ۔ جبکہ دوسری طرف متاثرہ نہروں ، پلوں اور آبنوشی سکیموں کی بحالی تاحال نہیں ہوئی ۔او ر تمام علاقے انتہائی زبوں حالی کا شکار ہیں ، لیکن ضلعی انتظامیہ اور صوبائی حکومت کے کانوں تک جوں نہیں رینگتی ۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ اسسٹنٹ کمشنر مستوج لوگوں کے ساتھ دشمنوں جیسا سلوک کرتے ہیں ۔ اس لئے اُن کے ہوتے ہوئے علاقے کے لوگوں کی بہتری کا کوئی بھی کام ہونا ممکن نہیں ۔ ۔زلزلے کے بعد مکانات کی وریریفیکیشن کے نام سے کئی مرتبہ چادر اور چاردیواری کے تقدس کو پامال کیا گیا ۔ اس کے باوجود دانستہ طور پر امداد سے محروم رکھا گیا ۔انہوں نے کہا ۔ کہ زلزلے کے چار مہینے بعد مکانات کی ویریفیکیشن کرنا کہاں کا انصاف ہے ۔ کیا چار پانچ مہینوں تک لوگ اپنے ٹوٹے ہوئے مکانات کو جوڑے بغیر ویریفیکیشن کے انتظار میں بیٹھے رہیں ؟ احتجاجی جلسے سے بلبل خان ایوبی ، قاضی انور ،انعام اللہ ، یونس ، عبد اللہ سید سردار حسین شاہ ،سید تورکہو وغیرہ نے خطاب کرتے ہوئے یہ مطالبہ کیا ۔ کہ متاثرین کو امدادی چیک بلاتاخیر دیے جائیں ، بمباغ نہر اور کوشٹ پُل کی تعمیر کے علاوہ علاقے کے سیلاب سے متاثرہ آبنوشی سکیموں کی بحالی فوری طور پر کئے جائیں ۔ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا دوبارہ سروے کرکے حقداروں کو دیا جائے ۔ اور اپر چترال کے مسائل پر توجہ دیا جائے ۔ درین اثنا ڈپٹی کمشنر چترال عبد الغفار اور تحصیل ناظم مستوج مولانا یوسف نے شام پانچ بجے احتجاجی مظاہرین سے مذاکرات کا آغاز کردیا ہے ۔ اس سے قبل ایم پی اے چترال سلیم خان کی طرف سے مذاکرات کی اطلاع تھی ۔ تاہم نامعلوم وجوہات کی وجہ سے وہ مذاکرات میں شامل نہیں ہوئے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں