646

دل کے بہلانے کو غالب یہ خیال اچھا ہے۔۔۔۔۔ حمزہ گلگتی

یہ پیپلز پارٹی کا دورِ حکومت تھا۔۔ابھی ابھی گلگت بلتستان امپاورمنٹ آرڈیننس 2009 ؁ء کا تحفہ دے کر اقتدار میں آنے والوں کو نوازا گیا تھا۔وہ اس بے آئین دیس کے سیاہ و سفید کا مالک بن بیٹھے تھے۔ان کے ہاتھ میں سرکاری نوکریاں من پسند افراد میں بانٹنے کی کنجیاں تھما دی گئیں تھیں۔۔ایک طرف نوکریاں بانٹی اور بھیجی جا رہی تھی تو دوسری طرف علاق�ۂ جنت نظیر بد امنی کا دھکتا کوئلہ بن گیا تھا۔آئے روز کی بد امنی اور اس دیس کی واحد اعلیٰ تعلیمی ادارے قراقرم یونیورسٹی میں روز کوئی نا کوئی واقعہ مکینوں کو پریشانی کے سمندر میں دھکیل دیا کرتا تھا۔۔۔ان حالات میں دیس سے دور مایوس ہوکر پریشان دل کو بہلانے کے لئے میں یاداشتی ڈائری میں کچھ نہ کچھ لکھا کرتا تھا اور کہتا کہ
؂ ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن
دل کے بہلانے کوغالب یہ خیال اچھا ہے۔
آج جب تھوڑی سی فراغت ملی تو کھول کر پڑھنا شروع ہوا تب یہ چند صفحات دل کو بھائے ۔آپ بھی پڑھئیے
یہ کونسا دیس ہے۔۔؟؟اجنبی سا۔۔؟؟لوگوں میں ایک خوف وہراس۔۔چہرے بجھے ہوئے۔۔حالات کی آندھی۔۔۔بے رحم آندھی۔۔ان سے جینے کا حق بھی چھین لیا گیا ہے۔۔جس دیس میں زندگی کے بہترین دن گزرے۔۔جہاں کے باسی محبت کے طوفان تھے۔۔اور ہر وقت جہاں محبت کے زمزمے بہتے تھے۔۔ہمدردی،غمگساری ،ہم آہنگی،دلداری اور اشک شوئی کے چشمے جہاں پھوٹتے تھے۔۔۔جن اوصاف کی گواہی پرائے دیس سے آنے والے بھی دیتے تھے آج وہاں نہ تھمنے والے خوف کی پر چھائیاں ہر طرف پھیلی ہیں ۔۔محبت کے وہ زمزمے ٹوٹ پھوٹ گئے ہیں اور ہمدردی و غمگساری کے وہ چشمے خشک ہو گئے ہیں۔۔پرائے باسیوں کی دلجوئی وہاں ہو کیسے جہاں آپس میں اس قدر غیر یقینی کی کیفیت پیدا ہوئی ہواور اعتماد کے پتے سوکھ گئے ہوں۔۔قتل کا نہ رکنے والا سلسلہ جہاں شروع ہوا ہو۔۔دیس کے اپنے باشندے گھر بار چھوڑ کر پرائے دیس جانے لگے ہوں لیکن کیفیاتِ بد میں کمی نہ آئی ہوں وہاں کوئی پرائے دیس سے آئے بھی تو کیسے۔۔۔؟؟ اور محبت کے نغمے گائے تو کیسے ۔۔۔؟؟مجھے وہ دیس ۔۔جسے سوہنی گلگت کہا گیا تھا۔۔۔آج حالات کے بے رحم آندھی میں پھنسانظر آرہاہے ۔۔تلاطم خیز بھنور میں کسی ناخدا کے بغیر بے آسرا ہچکولے کھا تا نظر آرہا ہے۔۔یوں لگ رہا ہے ۔جیسے کسی ہلاکت خیز طوفان میں سمندر کے بیج کوئی کشتی اپنا وجود کھو رہا ہو۔۔جس کے ناخدا ساحل سے محض تماشا دیکھتے ہوں اور ان کی مثال ان دشمن نما نا خداؤں جیسے ہوں جو کشتی کو بے رحم آندھیوں کے رحم و کرم پہ چھوڑ کے ڈوبنے کا نظارہ کرتے لطف اٹھا رہے ہوں۔۔ہاں میرے دیس کے نا اہل ناخدا لوٹنے کسوٹنے میں مگن ہیں ۔۔ہاتھ سے نکلتے اقتدار کے لئے وہ ضمیر فروشی تک اتر آتے ہیں۔۔ان کے ہاں اصولوں کے لئے کوئی جگہ نہیں،وہ اپنے من میں جس چیز کو صحیح سمجھے وہ ان کا اصول،ان کا دین اورمذہب بنتے دیر نہیں لگتا ۔۔جہاں ضرورت پڑیں انہوں نے اصولوں پر سودے بازی کیں۔۔ان کے آنگن مین ہر چیز کی فراوانی ہے وہ ہر جائز ناجائز کام کر سکتے ہیں مگر نہیں کرتے تو اس دیسِ بے اماں میں فراہمئی امن کے لئے ادا کردار۔۔۔لوگوں کے بجھے چہروں پر خوشیاں بکھیرنے کے لئے اقدامات،غریبوں کے بجھتے چولہوں کودوبارہ گرم کرنے کے لئے منصوبہ بندی،بے رزگاری کے ہاتھوں مایوسی کے شکار نوجوانوں کے لئے صاف وشفاف طریقے سے ملازمتوں کی فراہمی۔۔۔مگر کیا کیا جائے اب تو یہ زبان زَدِ عام ہے کہ گلگت۔بلتستان کے اندر سرکاری پوسٹیں خطیر رقم کے عوض بیجدی گئیں اور۔۔۔ اور من پسند افراد کو جی بھر کے نوازا گیا۔۔کھلے معاشرے میں جاکر ذرا اہلِ اقتدار یا اونچے مسند نشینوں کے ہاتھوں ستائے ان بے درماں نوجوانوں کی کھَتا تو سن لیں تب پتہ چلے گا کہ ہمارے معاشرے میں کس قدر ذلت امیز رویہ بھرتا جارہا ہے اور کن کن نہنگوں سے ،جو منہ کھولے سرِ راہ بیٹھے ہیں،معاشرہ بھراپڑا ہے۔۔پھر ڈھٹائی اوپر سے یہ کہ ہر کام میرٹ کے مطابق ہوتا ہے اورعوام کو نوازنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کی گئیں ہے۔۔اپنوں کونوازنے کے لئے پھرتیاں مگر اصل حقداروں کو دینے کے لئے پھوڑی کوڑی بھی نہیں۔میرٹ کی پامالی کا قصہ ہر خاص وعام کی زبان پر ہیں۔اپنوں پر نوازشات کی گواہی نیب کے نمائندے بھی دے رہے ہیں۔مگر یہ اصول ہے کہ تحقیقاتی ادروں کے راستے میں روڑے وہ اٹکائے جن کے معاملات ٹیڑھے ہوں ۔۔جن کے ہاتھ شفاف ہوں ان کو ایسے معاملات میں زبان ہلانے کی ضرورت ہی کیوں پڑے؟کھلے آنکھوں دیکھ کے فیصلہ کیا جائے کہ ان اداروں کے راستے کا پتھر کون بن رہے ہیں اور کیوں؟؟
قارئین! یہ تو ان دنوں کی کھتا ہیں جب یہاں آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا تھا۔۔مگر آج کے حالات میں بھی سب کچھ اُسی سسٹم کے تحت چل رہے ہیں لیکن سب اچھا کی خوشخبری سنائی جا رہی ہے۔سب کچھ اچھا بھی تو نہیں۔ہاں البتہ اُس پیمانے پر وہ خورد برد آج نہیں جو پہلے تھا ۔باقی سب جوں کا توں ہیں۔ہمیں سمجھایا کچھ اور جا رہا تھا مگر ہو کچھ اور رہا ہے۔اب بھی ہم اسی امید میں ہیں کہ شاید کچھ وقتوں میں وہ دعوے سچ کر دکھا دے۔بجلی کا نظام وہی کچھ اگرتبدیلی آئی ہے تو وقت کا۔جوٹیال میں پانی کے مسائل کو حل کرنے کی اُمید افزا خبریں میڈیا میں آئیں مگر وہاں آج بھی ویسے ہی لوگ بوند بوند کو ترس رہے ہیں جیسے پہلے ترستے تھے۔کوئی پوچھنے والا نہیں۔زلزلے سے متاثرہ افراد کے لئے دو دو لاکھ امداد کا دعویٰ کیا گیا مگر با نٹا گیا صرف ایک لاکھ چالیس ہزار روپے۔۔یہ کیوں نہ پوچھا جائے کہ وہ ساٹھ ہزار روپے کس کھاتے میں کا ٹا گیاہے؟کس کے حکم پر کاٹا گیا ہے؟پٹرول کی قیمتیں کم ہوکر باسٹھ روپے تک پہنچ گئیں مگر کرائے جوں کے توں ہیں انہیں کنٹرول کون کرے؟اخباری بیانات سے کام نہیں چلتا عملی اقدامات کو دیکھا جاتا ہے۔آج وہ دور نہیں کہ بیانات پڑھ کے لوگ خوش ہوں ۔یہ اکیسوی صدی ہے یہاں عملی کام کو دیکھنے کے بعد ہی فیصلہ کیا جاتا ہے۔اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ اخباری بیانات سے مسائل کو حل کیا جاسکتا ہیں تو یہ صرف پھرتیاں ہیں،ان پھرتیوں پر جی بھر کے آنسو بہایا جائے یا قہقہے لگائی جائے۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں