106

پی ٹی ائی رہنماون کا ایم این اے چترال سے استعفی دینے کا مطالبہ انکی غیر جمہوری سوچ اور سیاسی عدم بلوغت کو ظاہر کرتا ہے۔ ترجمان جماعت اسلامی چترال لوئر

مولانا عبد الاکبر چترالی کا سینٹ الیکشن میں ووٹ نہ دینا ظاہر ہے پارٹی کا فیصلہ تھا اور عبدالاکبر اپنی پارٹی فیصلے کے پابند ہیں.اور پارٹی فیصلے کسی ای تبک حلقے کے مفادات کو سامنے رکھ کر نہیں طے پایا کرتے ہیں. چترال کی حد تک اس فیصلے پر تنقید ہو رہی ہے اور حیرت کی بات یہ ہے کہ سب سے زیادہ شور پی ٹی آئی والے مچا رہے ہیں. انھوں نے نہ صرف شور مچا رکھا ہے بلکہ مولانا عبدالاکبر سے سینٹ انتخابات میں حصہ نہ لینے پر مستعفی ہونے کا بھی مطالبہ کیا ہے. پی ٹی آئی والوں کے شور مچانے اور مستعفی ہونے کے مطالبہ سے ایسا لگتا ہے کہ گویا عبدالاکبر کو انھوں نے جتوائے تھے. انھیں اس بات کا ادراک ہونا چاہیے کہ عبدالاکبر آپ کے نہیں، ایم ایم اے کے ووٹوں سے جیتا ہے. آپ کو یہ حق ہرگز نہیں پہنچتا ہے کہ آپ اپنے فریق مخالف ممبر سے کسی کی حمایت یا مخالفت کا تقاضا اور مطالبہ کرنا شروع کردیں. حقیقت یہ ہے کہ پی ٹی آئی والے اس مطالبہ سے اپنی سیاسی عدم بلوغت اور غیر جمہوری سوچ کے حامل ہونے کا کا تاثر دے رہے ہیں. ان لوگوں کو عبدالاکبر سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتے ہوئے ذرا سوچ لینا چاہیے تھا کہ قومی اسمبلی میں ان کے امیدوار کی شکست خود انہی کے ممبران اسمبلی کی دغا بازی، لوٹا کریسی اور بکاو مال بننے کی وجہ سے ہوئی ہے. ایسے لوگوں کو اپنے ممبران سے شکوہ کرنے اور ان کا پتا لگا کر پارٹی سے نکالنے کا مطالبہ کرنے کے بجائے اپوزیشن کے کسی ممبر اسمبلی سے ووٹ نہ ڈالنے پر مستعفی ہونے کا مطالبہ محیر العقل ہے. پی ٹی آئی والوں میں ذرا سی بھی سیاسی بصیرت ہوتی تو وہ فریق مخالف کے ممبر سے اس قسم کا نامعقول مطالبہ ہرگز نہ کرتے.
انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ جماعت اسلامی اپنے فیصلوں میں آزاد ایک مستقل جماعت ہے، جو اپنے نظریہ اور سیاسی رجحان کے مطابق اپنا فیصلہ خود کرتی ہے. پی ٹی آئی والوں کو یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ خود ان کے ممبران نے ان کے امیدوار سے بے وفائی کیوں کی؟ اور کیا ان کے امیدوار کا تعلق بھی واقعی پی ٹی آئی سے ہے یا وہ یہاں اپنی نوکری کرنے آیا ہے؟ سب جانتے ہیں کہ حفیظ شیخ یہاں اپنی نوکری کے سلسلے ہی میں آیا ہے اور خان صاحب اصولی سیاست کے دعویدار ہونے کے باوجود اس طرح کے غیر منتخب لوگوں کو قوم کی گردنوں میں سوار کرنے کے راستے پر گامزن ہے. جس کا شکوہ گاہ گاہ خود پی ٹی آئی کے ممبران بلکہ وزرا تک کرتے نظر آتے ہیں. حفیظ شیخ وہ شخص ہے جسے اسد عمر جیسے نظریاتی کارکن کو ہٹا کر لایا گیا تھا. اور اس کے ذریعے آئی ایم ایف کے مفادات کے تحفظ کام لیا جا رہا ہے. اس شخص نے نہ صرف قوم کو مہنگائی کے پاتال میں سر تا پا ڈبو رکھا ہے اس کے ساتھ ساتھ بیرونی قرضے لے لے کر معاشی اعتبار سے ملک کو تباہی کے دہانے لا کھڑا کر دیا ہے. اب ایسے شخص کی حمایت نہ کرنے اور اپنا فیصلہ آپ کرنے پر پی ٹی آئی کے ٹائگرز باچھیں کھولے واویلا مچانا شروع کردیا ہے. ہمیں ان پر واضح کرنا چاہتے ہیں کہ اگر آپ خود سیاسی معاملات میں اصول، قاعدہ قانوں عاری اور نظریاتی و اخلاقی اعتبار سے دیوالیہ پن کا شکار ہیں تو مہربانی فرماکر سب کو خود پر قیاس کرکے مزید حماقت کا مظاہرہ کرنے سے گریز کریں. کسی کو ووٹ دینا یا غیر جانبدار رہنا پارٹی کی صوابدید پر ہے اس پر مخالفین کا شور مچانا نہایت درجہ غیر سیاسی سوچ کی عکاسی ہے.

Print Friendly, PDF & Email