73

خیبر پختونخواکو دوسرے صوبوں کیلئے بطور مثال پیش کرنے کی باتیں پاکستان کے عوام کی انکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے ۔کالاش عمائدین

چترال ( محکم الدین محکم ) چترال کے کالاش ویلیز کے لوگوں نے صوبائی حکومت کی طرف سے ویلیز کی سڑکوں پر توجہ نہ دینے پر شدید غم وغصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے ۔ کہ تحریک انصاف کے قائد عمران خان کی طرف سے میڈیا میں خیبر پختونخواکو دوسرے صوبوں کیلئے بطور مثال پیش کرنے کی باتیں پاکستان کے عوام کی انکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے ۔ حقیقت حال یہ ہے ۔ کہ کالاش ویلیز روڈ سمیت چترال کی تمام سڑکیں 2013اور 2015کے سیلاب کی وجہ سے تباہ ہو چکے ہیں ۔ اور اب تک صوبائی حکومت نے بھول کر بھی ان کی طرف دیکھنے کی تکلیف گوارا نہیں کی۔ بار بار مطالبات کے باوجود صوبائی حکومت اب تک لولی پاپ دے کر وادی کے لوگوں کو ٹرخا رہا ہے ۔ کالاش ویلی رمبور کی خاتون موریک بیگم نے ایکسپریس سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ۔ کہ جب سے تحریک انصاف کی حکومت صوبے میں آئی ہے ۔ لوگوں کی سفری مشکلات میں اضافہ ہوا ہے ۔ خاص کر کالاش ویلز کے لوگ انتہائی تکلیف سے دوچار ہیں ، انہوں نے کہا ، کہ ہمارے حکمرانوں کو شرم آنی چاہیے ۔ کہ اس دور میں بھی مقامی لوگ اور سیاح انتہائی خراب سڑکوں کی وجہ سے جانی خطرے کے پیش نظر پیدل چلنے پر مجبور ہیں ۔ جبکہ مہینے بعد نالوں کے پانی میں طغیانی آنے کے بعد کالاش ویلیز رمبور اور بمبوریت کی رہی سہی کھنڈر سڑکیں گذشتہ سال کی طرح بند ہو جائیں گے ۔ اور ان وادیوں کے لوگ اپنے نااہل حکمرانوں کی وجہ سے پہاڑی پگڈنڈیوں پر چل کرپھر خوار ہوں گے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ اب اس محرومی نے کالاش خواتین کو جگا دیا ہے ۔ اور ان سڑکوں کی فوری تعمیر کیلئے اقدامات نہ کرنے کی صورت میں کالاش مردو خواتین پشاور میں صوبائی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے پر مجبور ہوں گے ۔ اور بہت جلد اس پر عمل در آمد کیا جائے گا ۔ ایک اور کالاش خاتون کونسلر ملت گل نے کہا ۔ کہ اقلیتی برادری موجودہ صوبائی حکومت سے مایوس ہو چکی ہے ۔ علاقے میں اب تک کوئی ترقیاتی کام دیکھنے میں نہیں آرہے ۔ لوگوں کے مسائل میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے ۔ انہوں نے وزیر اعلی خیبر پختونخوا سے پُر زور مطالبہ کیا ۔ کہ کالاش وادیوں کی سیلاب سے تباہ شدہ سڑکوں کو مزید سیلاب آنے سے پہلے محفوظ جگہوں سے گزاراجائے ۔ بصورت دیگر ہزاروں آبادی والے یہ علاقے محصور ہو کر رہ جائیں گے ۔ ملت گل نے یہ بھی کہا ۔ کہ ماہ مئی کے آغاز سے کالاش تہوار (جوشی) چلم جوشٹ کی سر گرمیاں شروع ہوں گی ۔اس دوران یہ خدشہ ہے ۔ کہ یہ راستے بند ہو جائیں گے ۔ کیونکہ اُن کو بچانے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی ہے ۔ اور اب وادیوں کے لوگوں کی آمدورفت بالکل ایون نالے کے ساتھ ہے ۔ اور نالے کے پانی میں تھوڑی سی بھی طغیانی آنے پر موجودہ کھنڈر سڑکیں بھی ختم ہو جائیں گی۔انہوں نے کہا ۔ گو کہ وادی کی سڑکیں ایک ہفتے بند رہنے کے بعد گذشتہ روز بحال کی گئی ہیں ۔ لیکن یہ بحالی انتہائی عارضی ہے ۔ جو کہ کسی بھی وقت پھر سے بند ہو سکتی ہے ۔ ناظم ویلج کونسل بمبوریت محمد رفیع نے بھی اس امر پر انتہائی تشویش کا اظہار کیا ہے ۔ کہ اب دوبارہ سیلاب آنے میں بہت کم دن رہ گئے ہیں ۔ اور این ڈی ایم اے نے اس سال مزید سیلاب کی پیشنگوئی کی ہے ۔ لیکن نہ تو بمبوریت میں سیلاب سے وادی کی آبادی کو بچانے کی سنجیدگی سے کوشش کی گئی ۔ اور نہ وادیوں تک رسائی کیلئے سڑکوں پر توجہ دیا گیا ۔ اب خدا نخواستہ سیلاب آگیا ۔ تو وادیوں کے لوگ خوراک سے بھی محروم رہیں گے ۔ کیونکہ گوداموں میں گندم سٹاک نہیں کیا گیا ہے ۔ اس سے کالاش وادیوں میں قحط پڑنے کا خدشہ ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں