46

ملک کے دوسرے حصوں کی طرح چترال میں بھی عید الاضحی انتہائی عقیدت و احترام سے منایا گیا ۔

چترال ( محکم الدین ) ملک کے دوسرے حصوں کی طرح چترال میں بھی عید الاضحی انتہائی عقیدت و احترام سے منایا گیا ۔ اپر چترال میں مستوج ، بونی ، موڑکہو و تورکہو اور لوئر چترال میں چترال شاہی مسجد ، چترال چھاونی ، بروز ، گرم چشمہ ، دروش اور مضافات کے جامع مساجد اور عیدگاہوں میں بڑے. بڑے اجتماعات ہوئے ۔ جن میں ہزاروں فرزندان توحید نے نماز عید ادا کی ۔ چترال میں عید الاضحی کا سب سے بڑا اجتماع ایون عید گاہ میں ہوا ۔ جس میں ایون ، بروز ، بمبوریت ، رمبور اور قریبی مقامات سے مسلمانوں کی بہت بڑی تعداد شامل ہوئی ۔ عید گاہ ایون کےخطیب معروف عالم دین مولانا کمال الدین نے نماز عید پڑھائی ۔ اور خطبہ دیا ۔ اس موقع پر انہوں نے کہا ۔ کہ پوری دنیا ایک انتہائی اضطرابی کیفیت سے دوچار ہے ۔ مسلم اور غیر مسلم دونوں وبائی امراض کی لپیٹ میں ہیں ۔ ایسے میں مسلمانوں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے ۔ کہ اپنے رب کے حضور سجدہ ریز ہوکر اپنی کوتاہیوں اور کمزوریوں کی معافی مانگیں ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ مسلمان اللہ پاک کا غلام ہے ۔ یہ مادر پدر آزاد نہیں ہے ۔ چترال کے لوگ اپنی حیا کی بدولت مشہور تھے ۔ لیکن اب افسوس سے کہنا پڑتا ہے ۔ کہ دن بدن پردے کی اہمیت ختم ہوتی جارہی ہے ۔ اور چترال کی خواتین بھی دوسرے شہروں کی طرح شاپنگ کیلئے بازاروں تک پہنچ گئی ہیں ۔ مردوں میں اتنی غیرت تو ہونی چاہئیے ۔ کہ وہ اپنے خاندان کے افراد کو کنٹرول کریں ۔ انہوں نے عیدگاہ ایون کیلئے شہزادہ مقصودالملک کی طرف سے مفت زمین کی فراہمی پر انہیں دعا دی ۔ اور کہا ان کے والد مرحوم شہزادہ ایون خوش احمد الملک نے بھی عیدگاہ ایون کیلئے وسیع جگہ فی سبیل اللہ فراہم کیا تھا ۔ جس کی بدولت ایون میں استاد محترم مولانا محمد مستجاب المعروف اویرو مولائی کی سرپرستی میں عیدگاہ تعمیر کرکے سنت کی بنیاد رکھی گئی ۔ تب سے بلا تعطل نماز عیدین ادا کی جارہی ہیں ۔ خطیب مولانا کمال الدین نے عید گاہ کی موجودہ تعمیری کام کیلئے فنڈ منظور کرانے پر معاون خصوصی وزیر اعلی خیبر پختونخوا وزیر زادہ کی کوششوں کی تعریف کی ۔ اور اس حوالے سے علاقے کے عمائدین اور نوجوانوں کے کردار کو بھی سراہا ۔

Print Friendly, PDF & Email

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں