88

ہزراوں سال قدیم کالاش قبیلے کاتین روزہ جوشی فیسٹول کا آغاز ہفتے کے روز کردیا گیا ۔ کالاش وادیوں میں غیر ملکی اور ملکی سیاحوں کا زبردست رش تل دھرنے کو جگہ نہیں ۔

چترال ( محکم الدین ) ہزاروں سال قدیم دنیا بھر میں منفرد تہذیب و ثقافت کے حامل کالاش قبیلے کے تہوارجوشی ( چلم جوشٹ ) کی رسوم ( بشا) گھروں کو پھولوں سے سجانے کی رسم اور چیرک پی پی ( دودھ پینے کی رسم ) ہفتے کے روز کالاش وادی بمبوریت میں ادا کی گئیں۔ صبح سویرے ہی مختلف گاوں میں لڑکے اور لڑکیوں نے پھولوں کو گھروں میں سجانے کا عمل شروع کیا ۔ اور بعد آزان دودھ رشتے داروں میں تقسیم کرنے کی رسم ادا کی گئی ۔ اس دوران لڑکے لڑکیاں تہوار کے گیت گاتے رہے ۔ جس میں ایک دوسرے کے مقابلے میں مختلف مزاحیہ گیت بھی شامل ہوتےہیں۔ وادی میں تہوار کے پہلے روز ہی تل دھرنے کو جگہ نہیں ہے۔ اور وادی کے تمام ہوٹل ، کیمپنگ سائٹس ، گیسٹ ہاوسز فل ہو چکے ہیں ۔ سیاحوں کی بڑی تعداد کو مقامی لوگوں نے اپنے مہمان خانے کرایے پر دے دیے ہیں ۔ اور زیادہ تر مقامی لوگ مہمان نوازی کرتے ہوئے اپنے گھروں میں ٹھہرا لیا ہے ۔ اس کے باوجود لوگوں کو قیام کیلئے جگہ کم پڑ رہی ہے اور لوگ کھلے جگہوں پر قیام کرنے پر مجبور ہیں تاہم سیاح اس کو بھی انجوائے کر رہے ہیں ۔ بڑی تعداد میں صوبے کے مختلف اداروں کے آفیسران چترال میں اپنے دفاتر کی وزٹ کی آڑ میں چلم جوشٹ سے مستفید ہونے اور سفری بل بنا کر ایک ہی دورے دو فائدے حاصل کر نے کیلئے بھی وادی میں تشریف لا چکے ہیں ۔ جن کی خدمت میں متعلقہ اداروں کے مقامی آفیسران اور اسٹاف لگے ہوئے ہیں ۔ کویڈ 19 کے بعد یہ پہلا موقع ہے ۔ کہ بہت بڑی تعداد میں غیر ملکی سیاح فیسٹول میں شرکت کیلئے وادی پہنچ چکے ہیں ۔ جبکہ ملکی سیاحوں کی تعداد لاکھوں میں ہے ۔مشہور کالاش مذہبی تہوار جوشی ( چلم جوشٹ) جو 14مئی بروز ہفتہ بمبوریت میں شروع ہو چکا ہے ۔ پیر 16 مئی کی رات تک جاری رہے گا ۔ اور سیاح ہزاروں سال قدیم انڈیجنس لوگوں کے رسوم ورواج اور تہوار کو اپنی انکھوں کے سامنے انجام پاتے ہوئے دیکھ سکیں گے ۔ اور بھر پور لطف اٹھائیں گے ۔ فیسٹول کیلئے مقامی انتظامیہ اور کالاش کمیونٹی نے انتظامات کر لئے ہیں۔کالاش تہوار کی آخری رسومات 16 مئی کو بتریک ڈانسک پلیس ( چھارسو ) میں ادا کئے جائیں گے ۔ جہاں پوری وادی کے کالاش مردو خواتین اور بچے بچیان تہوار کے گیت گاتے ٹولیوں کی شکل میں اخروٹ کے درخت کی ٹہنیاں ہاتھوں میں لہراتے سیٹیاں بجاتے ڈھول کی تھاپ پر رقص کرتے ہوئے ڈانسنگ پلیس میں داخل ہوں گے ۔ اور باہوں میں باہیں ڈال کر تہوار کے مخصوص رقص کا آغاز کریں گے ۔ جو کہ شام تک جاری رہے گا ۔ جوشی فیسٹول کالاش قبیلے کے موسم بہار کا بڑا تہوار ہے ۔ جو کہ سردیوں کی تکلیف دہ مہینے ختم ہونے اور روز بہہ شروع ہونے کی خوشی میں منایا جاتا ہے ۔ اس تہوار میں نذرو نیاز چڑھائے جاتےہیں ۔ جس کے بعد مال مویشیوں کو گرمائی چراگاہوں کی طرف لے جایا جاتا ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں