تازہ ترین

چترال گزشتہ دو ماہ سے تباہ کن سیلابوں کی زد میں

چترال (رپورٹ: کریم اللہ)چترال گزشتہ کم و بیش دو ماہ سے گلیشیر پھٹنے، بارشوں کے سبب آنے والے سیلابوں اور دریا کی کٹائی کے باعث تباہی سے دو چار سے اس دوران لوگوں کے مکانات و گھر بار، کھڑی فصلیں، باغات، کھیت کھیلیاں ، جنگلات، آبپاشی کی نہرین، پائپ لائین اور سڑکیں تباہ ہوچکے ہیں ۔
سال روان میں موسم گرما کےپہلے ماہ شدید سردی رہی جس کے باعث فصلیں اور پھل وغیرہ خراب ہوگئے ، ماہ جون کے اختتامی آیام میں سخت گرمی شروع ہوگئی جس کی وجہ سے گلیشئر پھٹنا شروع ہوگئے اس سلسلے میں پہلا سیلاب 30 جون 2022ء کو آرکاری بہستی گول میں آیا جس میں کوئی جانی نقصا ن نہ ہوا ۔
2جولائی 2022ء کو اپر چترال میں ہرچین گول یعنی ڑاسپور کے مقام پر واقع ہرچین نالے میں گلیشئر پھٹنے سے سیلاب آیا ۔ کئی دنوں تک آنے والی اس سیلاب کے باعث مین چترال شندور شاہراہ بند رہا چونکہ یہ جشن شندور کا موقع تھا اسی وجہ سے شندور سے واپسی پر ہزاروں سیاح پھنس گئے جنہیں ڑاسپور کے لوگوں نے اپنے گھروں میں جگہ دی اور انہیں کھانے پینے کا انتظام کیا۔ اس سیلاب میں ایک خاتون جان بحق ہوگئی جبکہ نالے کو کراس کرتے وقت ایک گاڑی سیلاب برد ہوگیا۔
دوسری تباہی 7 جولائی کو ریشن میں دریا کی کٹائی کی صورت میں شروع ہوئی ۔ اس موقع پر بارشوں کی وجہ سے بالائی علاقوں بالخصوص چوئنج اور یارخون میں میں سیلاب آیا ان سیلابوں کی وجہ سے دریا ؤں میں پانی کا لیول بڑھ گیا اور ریشن شادیر کے مقام پر زمینات کی کٹائی شروع کردی۔
12 جولائی 2022ء کو مین چترال بونی مستوج شاہراہ شادیر ریشن کے مقام پر دریا برد ہوگیا اس کےبعد اپر چترال کا زمینی راستہ بھی ختم ہوگیا ۔ جسے کئی ہفتوں بعد بحال کردیا گیا۔ اس موقع پر 18 گھرانے مکمل طور پر چھت سے محروم ہوگئے ان کے گھر بار، زمینات، فصلیں، باغات سب دریا برد ہوگئے۔
اس کے بعدسے چترال سیلابوں میں ڈوبا ہوا ہے۔ جن میں اپر چترال کے تریچ، تورکھو ، موڑکھو، بونی، چوئنج ، استچ، اور یارخون کے علاقوں جبکہ لوئر چترال میں سید آباد، دنین ، گولدور ، کالاش ویلی وغیرہ میں سیلابوں اور دریا کی کٹائی کی وجہ سے لوگ متاثر ہوتے رہے ۔ مگر بدقسمتی کا مقام یہ ہے کہ ان متاثرین کے لئے وفاقی و صوبائی حکومتوں کی جانب سے کوئی امدادی پیکج کا اعلان نہ ہوا اور نہ ہی کسی ذمہ دار وزیر یا مشیر نے ان علاقوں کا دورہ کرنے کی زحمت گوارہ کی۔
اب پری مون سون کے موسم میں تو پوری چترال ایک مرتبہ پھر تباہی سے دوچار ہے ۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق ان بارشوں اور سیلابوں کی وجہ سے سات کے قریب افراد لقمہ اجل بن گئے ہیں، جبکہ مالی نقصانات کا تخمینہ اربوں میں لگائے جارہے ہیں۔
شیشی کوہ دروس لوئر چترال میں آنے والی تباہ کن سیلاب کے باعث سات افراد لقمہ اجل بن گئے ۔ درجنوں گھر مکمل طور پر تباہ ہوگئے جبکہ جنگلات و فصلوں کو پہنچنے والی نقصانات اس کے علاوہ ہیں۔
اس کے علاوہ اپر چترال کے میراگرام نمبر 1 میں گزشتہ ایک ہفتے سے گلیشئیر پھٹنے کی وجہ سے تسلسل کے ساتھ سیلاب آرہے ہیں جس کی وجہ سے بالائی علاقوں کو جانے والی بجلی کی ٹرانزمیشن لائین کٹ چکی ہے ۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق بجلی مین لائین کے چار سے پانچ کھمبے دریا و سیلاب برد ہوچکے ہیں۔ تین چھوٹے پن بجلی گھر تباہ ہوئے ہیں۔ چار کے قریب پل بہہ گئے ہیں، اور دو آب پاشی کے اور تین آپ نوشی کے پائپ لائین تباہ ہوچکے ہیں۔ جبکہ آوی میراگرام روڈ بھی کئی کلومیٹر تک دریا برد ہو چکے ہیں، ساتھ ہی آوی او رمیراگرام کے بیج بہت بڑا جنگل بھی سیلاب برد ہو کر نام و نشان مٹ گیا ہے۔
اس کے علاوہ مستوج چوئنج کے مقام پر پچھلے مون سون کے وقت میں سیلاب کی وجہ سے کئی گھرانے متاثر ہوگئے تھے اب وہاں پھر سے سیلاب آنے کے باعث لوگوں کے گھر بار سیلاب برد ہوگئے ہیں۔ جبکہ پرکوشپ کے مقام پر تکمیل شدہ پن بجلی گھر بھی دریا برد ہوچکے ہے۔
کھوژ کے مقام پر سیلاب آنے کے باعث 18 گھرانے مکمل طور پر بے گھر ہوچکے ہیں جبکہ دیگر متاثرین کی تعداد چالیس گھرانوں تک پہنچ چکی ہے ۔ اس دوران مال مویشیوں کے علاوہ چار گاڑیاں بھی سیلاب کی ذد میں آکر تباہ ہوچکے ہیں ۔
بریپ کے مقام پر آنے والی سیلاب کی وجہ سے 8 گھرمکمل طور پر تباہ ہوچکے ہیں جبکہ پی ایس او پیڑول پمپ بھی تباہ ہوگئے ہیں۔ اس کے علاوہ یارخون دیو سیر میں تباہ کن سیلاب کے باعث دریا اپنا راستہ تبدیل کرکے پاؤر گاؤں میں داخل ہوگئی اور اب تک کی اطلاعات کے مطابق گورنمنٹ پرائمری سکول کے ساتھ ہی آٹھ گھرانے دریا کی زد میں آکر تباہ ہورہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی جگہ جگہ سیلابوں کی وجہ سے بروغل روڈ میں ٹریفک کے لئے بند ہے ۔
یہ تو ہے اب تک کی صورت حال آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا۔۔؟ اب آنے والے دنوں میں چترال میں پری مون سون بارشوں کا سلسلہ نہ صرف جاری رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے بلکہ اس میں شدت آنے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جارہا ہے ایسے میں علاقے پر اور کیا اثرات مرتب ہوں گے یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا۔ البتہ سب کو احتیاط کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

Related Articles

Back to top button