بونی ہسپتال میں 12 سالہ بیٹی کی موت پر غم سے نڈھال ولد عتیق الرحمن نے لاش کو اٹھانے سے رو ک کر 5گھنٹے احتجاج میں رہے

اپرچترال (نامہ نگار)تریچ مولیندور سے ایمرجنسی کی بنیاد پرجمعرات کے روز بارہ سالہ بیٹی الوینہ عتیق کو لیکر ان کی ولد عتیق الرحمٰن صبح قریب سات بجے خصوصی گاڑی پر تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال بونی پہنچا دی۔مریضہ الوینہ کی ولد عتیق الرحمٰن کاکہناہے کہ جہاں ان کے بیٹی کی علاج پر توجہ دینے کے بجائے ہسپتال عملہ لیت و لعل سے کام لیتے رہے۔اور ساتھ انتہائی بد اخلاقی سے پیش آتے ہوئے انتہائی غیر مناسب رویہ اور غیر شائستگی اپناتے رہے۔ ہسپتال میں ڈیوٹی پرموجود عملہ ایمرجنسی میں مریضہ کو داخل کرکے ابتدائی طبی امداد پہنچا کر جان بچانے کی کوشش کرنے کے بجائے روایتی طور پر او پی ڈی رسید لینے اور وارڈ میں داخل کرنے کے طویل مرحلے سے گزارتے رہے۔حالانکہ محصوم مریضہ تڑپتی رہی ۔اس غیر ضروری تاخیر اور مجرمانہ عفلت کے سبب مریضہ کی حالت بگڑتی رہی۔پھر ٹیسٹ کے مرحلے سے مزید گزارنے پر مریضہ انتقال کر گئی جو کہ سراسر ہسپتال اسٹاف کی عفلت اور لاپرواہی ہے ۔افسوس ناک واقعہ پیش آنے کے بعد عتیق الرحمٰن غم سے نڈھال ہوکر جذبات قابو نہ رکھ سکے اور عفلت کے مرتکیب افراد کو قرار واقعی سزا دینے کے مطالبہ کرتے ہوئے بیٹی کے لاش کو اٹھانے نہیں دیا ۔اُن کا کہنا تھا کہ میرے ساتھ یہ ظلم و زیادتی ہوگئی اور میں چاہتا کہ کسی دوسرے کے ساتھ ائیندہ اس طرح کے ظلم نہ ہو ۔اگر میرا دکھ کا مداوا نہ کیاگیا تو تمام لوگوں کو گواہ بنا کر کہتاہوں کہ میں مجبواً خودکشی کرونگا اس کی زمہ داری ہسپتال انتظامیہ پر عائد گی واقعہ کی خبربونی میں آگ کی طرح پھیل گئی ۔اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر مستوج شاہ عدنان ،تحصیل چیرمین مستوج سردار حکیم ،ڈی ایچ او محمد ارشاد۔ایس ایچ او بونی،چیرمین ویلج کونسل بونی 1 مظہرالدین،امیر جماعت اسلامی مولانا جاوید،سیاسی سماجی شخصیت پرویز لال اور دوسروں نے ہسپتال پہنچ کر مسئلے کو سلجھانے میں کردار ادا کیے۔
اس حوالے سے گفتگوکرتے ہوئے ڈسٹرکٹ ہیڈافیسراپرچترال ڈاکٹرارشاداحمد،میڈیکل سپرڈنڈنٹ تحصیل ہیڈکواٹرہسپتال بونی ڈاکٹرفرمان ولی نے 12سالہ الوینہ کی موت پرانتہائی دکھ اورافسوس کااظہارکرتے ہوئے کہاکہ اولاد ہر ایک کے لیے عزیز ہوتی ہے عتیق الرحمٰن کے جذبات اور دکھ کا ہمیں بھر پور احساس ہے ان کے جذبات ہم سمجھتے ہیں۔تاہم الوینہ کو جس حالات میں ہسپتال پہنچائی گئی تھی ۔تقاضا تھا کہ بے غیر ٹیسٹ کے مریضہ کو کوئی دوا نہیں دینا تھا، نہ بے غیر ٹیسٹ کے علاج ممکن تھی۔چند ضروری ٹیسٹ کے بعد ہی مریضہ کو نتائج کے مطابق علاج کیا جاسکتا تھا۔مسئلہ اتنا سادہ اور آسان نہ تھا بلکہ پیچیدہ تھی اس لئے دو بار ٹیسٹ کرنے پڑے ۔ہسپتا ل کی لیبارٹی ٹیسٹ کے بعد مزید اطمینان کے لیے دوبارہ ٹیسٹ کروانے پڑے۔مریضہ کو یورین کی بندش کا مسئلہ تھا ۔ بذریعہ پائپ یورین خارجہ کرانے تھے ۔اس پراسس کے دوران ہی مریضہ انتقال کرگئی جو کہ بہت ہی افسوس ناک ہے۔اسٹاف کی غیر اخلاقی رویے کو انہوں مزمت کرتے ہوئے اسے جرم قرار دی تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس کی وضاحت اور معاملے کی تہہ تک پہنچنے کے لیےکمیٹی بناکر تحقیقات کرائی جائیگی ثابت ہونے پر محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائیگی۔
ڈی ایچ او اورایم ایس نے مزید بتایاکہ واقعے کی شفاف انکوائری کے لئے کمیٹی تشکیل دے رہی ہیں۔ ہسپتالوں میں مریضوں کی دیکھ بھال اور علاج معالجے میں غفلت کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔انکوائری کے بعدغفلت کے ذمہ داروں کاتعین کرکے قانونی کارروائی کی جائے گی ۔ جاں بحق بچی کے لواحقین سے دلی ہمدردی ہے ہیں اور اظہار تعزیت کی۔تاہم مرحومہ بیٹی کی ولد اس سے مطمئن نہ ہوسکی اور انجام کار مذکورہ اسٹاف کرامت خان کی ٹرانسفر پر معاملہ وقتی طورپر رفعہ دفعہ ہوا۔




