تازہ ترین

17ارب روپے کی ریلیز کرانے کا دعویٰ کرنا صرف کریڈیٹ کی بیماری میں مبتلا وہ نا اہل لو گ لگا سکتے ہیں جو انگلی کٹا کر شہیدوں میں نا م لکھوا نا چا ہتے ہیں پی ٹی آئی رہنما عبد اللطیف

چترال (نمائندہ ) تحریک انصاف چترال کے سینئر رہنما اور قو می اسمبلی کے سابق امیدوار عبد اللطیف نے کہا ہے کہ ایک ارب روپے مختص رقم میں سے 17ارب روپے کی ریلیز کرانے کا دعویٰ کرنا صرف کریڈیٹ کی بیماری میں مبتلا وہ نا اہل لو گ لگا سکتے ہیں جو انگلی کٹا کر شہیدوں میں نا م لکھوا نا چا ہتے ہیں جو چار سال خواب خر گوش میں رہنے کے بعد اب اگر بول بھی پڑے ہیں تو سر پیٹنے کو جی کر تا ہے۔ جے یو آئی چترال کے رہنماؤں کی طرف سے شندور روڈ پر بیان بازی کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ روڈ دراصل پی ٹی آئی کی حکومت کا فلیک شپ منصو بہ ہے لیکن ان نا اہل افراد کو منصو بے کی بنیا د کا ہی علم نہیں اس کے با ؤ جود غلط پرو پیگینڈہ کر کے خود کو عوام کے سامنے مزید رسوا کر نے پر تلے ہوئے ہیں۔ انہوں کہا کہ یہ منصو بہ تحریک انصاف کی حکومت میں منظور ہو ا تھا اس وقت اس کی تعمیر کا تخمینہ 16ارب 75اکروڑ 50لا کھ روپے لگا یا گیا تھا اور اسی لا گت پر اس کو ٹینڈر کیا گیا اور کا م کا باقاعدہ آغا ز بھی کیا گیا۔ لیکن چو نکہ اس وقت تک روڈ کی تعمیر میں استعمال ہو نے والی نجی زمینات کا پی سی ون تیا ر نہیں ہوا تھا جو بعد میں تیار کر کے منصو بے کو دوبارہ نظر ثا نی کے لئے ایکنک بھجوا یا گیا جس میں زمینات کی خریداری کے لئے چار ارب 88کروڑ 90لا کھ روپے کی رقم بھی شا مل کی گئی اس طرح اس منصو بے کا کلی تخمینہ 21ارب روپے سے تجاوز کر گیا جو سات مہینوں سے ایکنک میں منظوری کے لئے پڑا رہا اب جب کہ اس پی سی ون کی منظوری دے دی گئی ہے تو اس میں صر ف زمینوں کی لا گت کا اضا فہ کیا جا چکا ہے لیکن دوسری طرف بنیا دی قواعد سے نا بلد نا م نہاد لیڈران یہ پرو پیگینڈہ کر تے ہوئے نظر آتے ہیں کہ شندور روڈ کے لئے 17ارب روپے ریلیز کر دئیے گئے ہیں۔ ان عقل پر ما تم ہی کیا جا سکتا ہے کہ جس منصو بے کے لئے ما لی سال 2022-23کے لئے ایک ارب روپے مختص کئے گئے ہیں اس کے مقا بلے میں وہ 17ارب روپے ریلیز کرنے کا ڈنڈورہ پیٹ رہے ہیں۔ سیا سی بد د یا نتی کا اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہو سکتا ہے کہ تحریک انصاف کے اتنے بڑے منصو بے کے حوالے سے عوام کو گمراہ کرنے کا ایک ایسا بھونڈا طریقہ اختیار کیا گیا ہے جس سے ان کو تو شرم نہ آئے لیکن چترالی قوم شرم محسوس کر رہی ہیں۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ اس طرح کا کوئی پروپیگینڈہ کرنے سے پہلے امپورٹڈ حکومت کے کارندے اپنے سیا سی گورو شوباز شریف سے تھوڑی مشاورت بھی کر لیں تو ان کے حق میں بہتر ہو گا۔ ورنہ کوے کی چال چل کر خود کو مزید رسوا کر یں گے۔

Related Articles

Back to top button