چترال کے دو نامور طالب علموں نے ROSE, Chitral کے پلیٹ فارم سے اپنے تعلیمی سفر کا آغاز کرتے ہوئےحال ہی میں کامیابی سے اسے اختتام کو پہنچایا ہیں۔

چترال (نامہ نگار) ROSE, Chitral کی تاریخ میں ایک یاد گار دن ہے اور ہم یہ اعلان کرتے ہوئے فخر محسوس کرتے ہیں کہ ROSE, Chitral کے بوئے ہوئے پودوں نے اب پھل دینا شرو ع کردیا ہے ۔ ROSE, Chitral نے آج سے لگ بھگ بارہ سال قبل جس یک نکاتی ایجنڈے کہ چترال کا کوئی طالب علم محض مالی مشکلات کی وجہ سے اعلی تعلیم سے محروم نہ رہ جائے کو لیکر ایک مشکل سفر کا آغاز کیا تھااب اسکے ثمرات ملنا شروع ہوگئے ہیں۔
چترال کے دو نامور طالب علموں نے ROSE, Chitral کے پلیٹ فارم سے اپنے تعلیمی سفر کا آغاز کرتے ہوئےحال ہی میں کامیابی سے اسے اختتام کو پہنچایا ہیں۔
ان میں سے ایک چترال کے ایک پسماندہ علاقے اورغوچ سے تعلق رکھنے والے یتیم طالب علم نصیر آحمد انتہائی نا مساعد حالات میں اپنی تعلیم کا سسلسلہ جاری رکھتے ہوئے جب انکا پورا گھر سیلاب میں بہہ گیا تھا میٹرک کے امتحان میں ریکارڈ کامیابی حاصل کی تھی اور پھر ROSE, Chitral کی زیر سایہ UET Peshawarمیں داخلہ لیکر الیکٹریکل انجئیرنگ میں نمایاں نمبرو ں کے ساتھ ڈگری حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔
اورغوچ ہی سے تعلق رکھنے والے اور طالب علم آصف کلان نے CECOS University پشاور سے نمایاں نمبروں سے BBA کا امتحان پاس کرکے اب ایک ملٹی نشنل کمپنی میں ملازمت حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔
چترال بھر میں ایسے کئی ہونہار طلبہ موجود ہیں جو مالی مشکلات کی وجہ سے اعلی تعلیم حاصل کرنے میں دقت محسوس کرتے ہیں اور ہماری مالی مدد کے منتظر ہیں ہم اس پلیٹ فارم سے چترال کے تمام صاحب ثروت خواتین و حضرات سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ آگے آئیں اور ہمارے ساتھ تعاون کریں تاکہ چترال کا کوئی طالب علم محض مالی مشکلات کی وجہ سے تعلیم سے پیچھے نہ رہ جائے بلکہ اعلی تعلیم حاصل کرکے ایک باعزت شہری بن کر ملک وقوم کی خدمت کرنے کے قابل ہوسکے۔
ROSE, Chitral چترال اپنے قیام سے اب تک 500طالب علموں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے میں بھرپور معاونت کی ہے اور یہ سلسلہ بلا تعطل اب تک جاری و ساری ہے۔
یہ تنظیم تمام چترالیوں سے توقع رکھتی ہے کہ وہ اس تنظیم کو own کرے اور آگے اکر اسکا دست وبازوں بنے تاکہ مزید کئی طلبہ جو مالی امداد کے منتطر ہیں ان تک آپ کے تعاون سے مالی مدد پہنچائی جاسکے اور انکی تعلیم کے سلسلے کو آگے بڑھانے میں مدد کی جاسکے۔
ROSE, Chitral تمام مخیر خواتین و حضرات خصوصاً نگہت کائی، انور آمان صاحب اور روزیمن شا ہ صاحب اور دیگر صاحب ثروت اور درد دل رکھنے والے باشندوں سے التماس کرتا ہے کہ آگے آکر اس کارِ خیر میں اپنا حصہ ڈالیں تاکہ چترال کا کوئی طالب علم مالی مشکلات کی وجہ سے تعلیم سے محروم نہ رہ جائے ۔
اللہ تعالی آپ سب کو اس نیک کام میں شامل ہونے کی توفیق دے اور سب کا حامی وناصر ہو!!!



