گلگت بلتستان

آزادی کے مقاصد کو فروغ دینے کے لیے اساتذہ کرام کو کردار ادا کرنا چاہیے. پروفیسر محمد عالم

گلگت (نیوز رپورٹ :امیرجان حقانی سے) گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج مناور گلگت میں 76 ویں یوم آزادی کے متعلق فیکلٹی ممبران کی ایک مکالماتی تقریب کالج کے پرنسپل پروفیسر محمد عالم کی صدارت میں منعقد ہوئی. تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پرنسپل کالج پروفیسر محمد عالم نے کہا آزادی کے مقاصد کو وسیع پیمانے پر پھیلانے کی ضرورت ہے. ہمیں ان عظیم مقاصد کی افہام و تفہیم پر کھل کر مکالمہ کرنا چاہیے تاکہ مستقبل میں ملکی ترقی میں بہتر حصہ ڈال سکیں.اور یہ کام اساتذہ اور طلبہ بہتر انداز میں کرسکتے ہیں. ہم بنیادی طور پر آسائش پسند اور مراعات یافتہ قوم ہیں اس لیے آزادی کے عظیم مقاصد کو حاصل کرنے میں ناکام ہورہے ہیں. ہمیں اس آسائش پسندی سے نکل کر ملک و ملت کی بہتری کے لیے کام کرنا ہوگا. پروفیسر فضل عباس نے کہا سب سے بڑی آزادی معاشی آزادی ہے.معاشی آزادی اور مساوات کے بغیر آزادی کھوکھلی رہے گی.
وائس پرنسپل پروفیسر اجلال حسین نے کہا ہمیں اھداف آزادی کے لیے اپنے حصہ کا چراغ جلانا چاہیے. کسی پر تنقید کرنے سے بہتر ہے کہ اپنے اپنے حصہ کا کام بہتر انداز میں میں کریں اور اھداف آزادی کے حصول میں اپنا کنٹری بیوشن کریں. احمد سلیم سلیمی نے اپنے تمہیدی کلمات میں کہا کہ آزادی سے بڑی نعمت کوئی نہیں.بدقسمتی سے کچھ طبقات نے اس نعمت کو زحمت بنایا ہے. پروفیسر نجم الدین نے کہا آزادی ملنے پر شکر ادا کرنا ہوگا ورنا اللہ سخت ناراض ہونگے. ہم 76 سال سے ناشکری میں مبتلا ہیں، کہیں اللہ ہم سے یہ نعمت چھین نہ لیں. امیرجان حقانی نے کہا آزادی کے دیگر مقاصد سے ہٹ کر تین بڑے مقاصد تھے جن کے حصول کے لیے ہندوستان کی آزادی اور قیام پاکستان کے لئے تحریکی اور قانونی جدوجہد کی گئی. تہذیبی و تمدنی تشخص کا حصول اور بقا، معاشی تحفظات و مشکلات آزادی اور اسلامی قوانین و احکام کا نفاذ. ان تین بڑے مقاصد کے لئے مسلمانوں نے آزادی اور قیام پاکستان کے لیے قانونی جنگ لڑی . اب سوال یہ ہے کہ کیا ہم مجموعی طور پر ان مقاصد کی تکمیل میں کامیاب ہوئے ہیں؟ یقین جواب میں نفی میں ہے تو ضرورت اس امر کی ہے کہ وہ کونسی بنیادی وجوہات ہیں جن کی وجہ سے ہم آزادی کے ثمرات سے محروم ہوئے ہیں. اور وہ تجاویز و محرکات پر مکالمہ بھی ہونا چاہیے اور انہیں طشت ازبام کرنے کی ضرورت ہے . تقریب جشن آزادی میں کالج کے تمام فیکلٹی ممبران نے شرکت کی، معروف شاعر پروفیسر اشتیاق احمد یاد نے جشن آزادی کے حوالے، نظم پڑھ کر سامعین کو محفوظ کیا

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button