77

حکومت صحت اور تعلیم کو ہنگامی بنیادوں پر ترقی دینا چاہتی ہے۔مظفر سید ایڈوکیٹ

پشاور(نمائندہ ڈیلی چترال)پختونخوا کے وزیر خزانہ مظفر سید ایڈوکیٹ نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت نے برسراقتدار آنے کے ساتھ ہی صحت اور تعلیم کے شعبوں میں ایمرجنسی نافذ کی ہے کیونکہ ہم ان دونوں شعبوں کو ہنگامی بنیادوں پر ترقی دینا اور عوامی توقعات کا آئینہ دار بناناچاہتے ہیں ہم نے طب کے مقدس پیشے سے وابستہ تمام ڈاکٹروں اور اہلکاروں کو سروس سٹرکچر دینے کے علاوہ فراخدلانہ مراعات دی ہیں اور ان سے یہ توقع رکھنے میں بھی حق بجانب ہیں کہ وہ دکھی انسانیت کی خدمت دل و جان سے کرینگے وہ ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے وفد سے باتیں کر رہے تھے جس نے ڈاکٹر نجیب اللہ کی زیرقیادت ان سے انکے دفتر سول سیکرٹریٹ پشاور میں ملاقات کی اور ینگ ڈاکٹرز کو درپیش بعض مسائل بالخصوص ٹرینی میڈیکل آفیسرز کو وزیراعلیٰ کے اعلان کردہ وظیفہ کی عدم فراہمی سے انہیں اگاہ کیا وفد نے جس میںینگ ڈاکٹرز خیبر ٹیچنگ ہسپتال کے صدر ڈاکٹر سراج الاسلام بھی شامل تھے شکایت کی کہ صوبے کے بیشتر تدریسی ہسپتالوں نے وزیراعلیٰ کے اعلان کے باوجود ہاؤس آفیسرز اور ٹرینی میڈیکل آفیسرز کے ماہانہ وظیفہ یا مشاہرہ میں اضافہ کیا اور نہ ہی اسکی تیاری کی حالانکہ اس اعلان کو چار مہینے گزر چکے ہیں انہوں نے اس مقصد کیلئے گرانٹ کی فراہمی کی درخواست کی تاہم وزیر خزانہ نے کہا کہ محکمہ خزانہ گرانٹ کی فراہمی ازخود نہیں کرتا بلکہ ناگزیر صورت میں اداروں کی درخواست پر بطور قرض کرتا ہے جسکی یہاں نوبت نہیں آئے گی کیونکہ تدریسی ہسپتال اپنے دستیاب فنڈز سے ان وظائف کا بندوبست با آسانی کر سکتے ہیں مظفر سید ایڈوکیٹ نے یقین دلایا کہ صوبائی حکومت ان وظائف کے ضمن میں تمام تدریسی ہسپتالوں کی انتظامیہ کو یاددہانی کرائے گی انہوں نے کہا کہ لیڈی ریڈنگ اور خیبر ٹیچنگ ہسپتال کو وظائف کیلئے فنڈز مہیا کر دئیے گئے ہیں اور عنقریب ینگ ڈاکٹرز کو ادائیگی شروع ہو جائے گی وزیراعلیٰ نے ہاؤس آفیسرز کے وظیفہ میں 90فیصد اور ٹرینی میڈیکل آفیسرز کیلئے 40فیصد کا خطیر اضافہ کیا ہے کیونکہ ہمیں مہنگائی کے موجودہ دور میں طبی عملے کی مشکلات کا بخوبی احساس ہے وزیر خزانہ نے کہا کہ نئے بجٹ میں شعبہ صحت کیلئے ساڑھے 38ارب روپے مختص کئے گئے ہیں جو گزشتہ کے مقابلے میں 28فیصد زیادہ ہیں جبکہ سالانہ ترقیاتی پروگرام میں اس شعبہ کے 93منصوبوں کیلئے 10ارب 54کروڑ روپے مختص ہیں صوبے بھر میں مراکز صحت کی اپ گریڈیشن کے علاوہ طبی معیار کو بہتر بنایا جا رہا ہے عوام بالخصوص نادار طبقوں کو ہیلتھ انشورنس کی سہولت دی جا رہی ہے تاکہ کسی بھی ناگہانی یا عمومی مرض لاحق ہونے کی صورت میں وہ دوسروں کی محتاجی سے بے نیاز ہو سکیں اصلاحات کا عمل بھی جاری رہے گا انہوں نے امید ظاہر کی کہ طبی عملہ اپنے فرائض پوری جانفشانی سے انجام دینے کے علاوہ عوام کے علاج اور امراض سے بچاؤ کیلئے صحت عامہ کے سلسلے میں شعور اجاگر کرینگے تاکہ ہماری نئی نسل امراض سے محفوظ رہ سکے اور قومی صحت یقینی بنے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں