116

لیٹرین جتنا بھی خوبصورت بناؤ ۔ کر نا پیشاب ہی ہو تا ہے ۔۔۔۔تحریر۔ ثاقب عمر گلگتی

logo
جب قانون کی کتا بوں کو ٹٹولا جا ئے یا آئین پاکستان کو پڑھا جا ئے تو اس میں کہی بھی اس قسم کا ذکر نہیں ہے کہ کسی بھی صو بے میں سپریم اپیلٹ کورٹ ہو تا ہے (کچھ دوستوں نے گلگت بلتستان میں موجود اعلیٰ عدالت کو سپریم کورٹ بھی لکھا ہے ) یہ عجیب بات ہے یا نا عاقبت اندیشی ہے یا عوام کے ساتھ مذاق ہے اس بات کا بھی وکلاء ذکر نہیں کر تے ہیں صرف اپنی بے بسی کا اظہار کر تے ہیں ہم قطعی طور پر قانونی وآئینی عدالتوں کے خلاف نہیں ہیں لیکن جہاں قانونی اداروں کی بات ہو تو ان کا بھی وجود قانونی اور آئینی ہو نا لازم ہو تا ہے ۔ کسی بھی صو بے میں سپریم اپیلٹ کورٹ یا سپریم کورٹ نہیں ہو تا ہے بلکہ ہا ئی کورٹ ہو تا ہے اور کسی بھی ریا ست میں سپریم کورٹ ایک ہی ہو تا ہے اس بات کو آئین اور قانون ہی واضح کر تا ہے ۔ جب ہماری نظر آزاد کشمیر پہ جا تی ہیں تو وہاں حکومت پاکستان نے ریاست کو ما نتے ہو ئے سپریم کورٹ دیا ہے چا ہیئے وہ ڈمی ہو لیکن ریاست کو تسلیم کیا گیا ہے لیکن گلگت بلتستان کو صو بے کے نام پہ نہ ہی ہا ئی کورٹ دیا گیا ہے اور نہ ہی ریاست کے طور پر سپریم کورٹ دیا گیا ہے ۔ اور سب سے برا مذاق امپاورمنٹ آرڈر2009 کے تحت ایک ایسا عدالتی نظام دیا ہے جس کو خود آئین پاکستان تحفظ فراہم نہیں کر تا ہے اور اس کا وجود ہی مشکوک ہے کہ آیا ہم صو بہ ہیں یا ریاست ؟ نام تو صو بے کا دیا جاتا ہے لیکن صو بے میں تو ہائی کورٹ ہو تا ہے لیکن ہا ئی کو رٹ کا وجود ہی نہیں ہے اور نہ ہی دیگر عدا لتوں کے پاس آئینی ہائی کورٹ کے اختیارات ہیں ۔ جہاں تک قانون کا تقا ضہ ہے تو سپریم اپیلٹ کورٹ کا وجود مکمل طور پر غیر قانونی ہے اور غیر آئینی ہے آئین پاکستان میں اس قسم کے کورٹ کا کہیں بھی ذکر نہیں ہے یہ محض ایک ایسی لٹکی ہو ئی تلوار ہے جو کہ صرف غریب ، محکوم و مظلوم عوام پہ چلانے کے لیئے قائم کیا گیا ہے ۔ گذ شتہ دنوں بار اور بنچ کا مسئلہ پیدا ہو ا جس پہ بار اور بنچ آمنے سامنے ہو ئے وہاں سب سے پہلے سپریم اپیلٹ کورٹ کے صدر نے بنچ کے خلاف پریس کانفرنس کی جس پہ تما م وکلاء نے ہڑتال کر دیا ۔ ہڑتال کر نا اور اپنے مطا لبات منوانا بار کے افراد کا حق ہے لیکن یہاں یہ اہم سوال ہے کہ جس عدالت کا وجود ہی غیر آئینی ہو اور غیر قانونی ہو اس عدالت کے بار کے صدر(سپریم اپلٹ کورٹ بار ) کے نام سے احتجاج کر نے سے پہلے یہ بتا یا جا ئے کہ وہ جس نام سے احتجاج کر رہے ہیں وہ نام کیا کسی صو بے میں ہے ؟ ہا ئی کورٹ بار کے صدر نے بھی احتجاج کیا وہ یہ تو بتا دیں کہ گلگت بلتستان میں کونسا مکمل آئینی ہا ئی کورٹ ہے اور وہ اس بار کا صدر بنا اور احتجاج کیا ۔ احتجاج اپنی جگہ لیکن ایک فراڈ نام اور ڈمی سسٹم کے ساتھ مل کر کام کر کے عوام کو دھو کہ دیکر ان عدالتوں کو قانونی اور آئینی بتا کر تسلیم کر نے کے بجا ئے آج تک وکلاء نے کو نسا ایسا احتجا کیا ہے کہ ان کو دیگر صو بوں کی طر ح ہا ئی کورٹ دیا جائے جس کو آئین پاکستان بھی تسلیم کر تا ہو اگر جی بی متنا زعہ علاقہ ہے تو یہ بھی تو بتا یا جا ئے کہ ایک ریاست میں ہو نے والے سپریم کورٹ کے لیئے کہا احتجا ج ہوا ہے ۔ جس طر ح یہ نام کے عدالت ہیں اور غیر قانونی اور غیر آئینی ہیں اسی طر ح انہی عدالتو ں کے بار کے صدور بھی غیر قانونی ہیں جو کہ ان کو معلوم ہے بس اپنے پیٹ کی پو جا کے لیئے سب کوقبول کیا ہوا ہے اور اپنے کالے کوٹ کے اندر اپنے اندر کے انسان کو مار کر اس مذاق کا حصہ بن کر صر ف غریب عوام کا خون چو سا جا تا ہے اس کے علاوہ کچھ بھی نہیں ۔ جب بھی گلگت بلتستان کے عدالتوں کے چکر ہوتے ہیں وہاں پہ صر ف غریب ، لاچار افراد کے علاوہ کو ئی بھی امیرشخص نظر نہیں آتا ہے اور ان لاچاروں کو عدالت تو گھسیٹتا تو ہے ہی ساتھ میں وکلا ء اسی نظام کا حصہ بن کر مزید ان مظلوم ، غریب عوام کو خون چو ستے ہیں ۔خلا صہ یہ ہے کہ ان عدالتوں کے اندر جو چہرے ہیں ان کے خلاف احتجاج کر نے کے بجائے وکلاء کو اس نظام کے خلاف احتجا ج کر نا ہو گا چہروں کی تبدیلی سے کسی کو کو ئی انصاف فراہم نہیں ہو گا وکلا ء جو کہ سب کچھ جانتے ہیں وہ اس ظالم نظام کے خلاف احتجاج کریں کسی چہرے کی تبدیلی سے کو ئی بھی اہم تبدیلی نہیں آئی گی آج ایک پنجا بی ہے تو کل کو ئی پٹھان ، سندھی ، بلوچی آئے گا اس سے مزید اس ظالم نظام کو تقویت ملے گی اور غریب عوام کا استحصال ہو گا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں