دھڑکنوں کی زبان۔۔۔۔۔۔”امتحان کا خوف”۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ محمدجاوید حیات

عربی میں ایک مقولہ ہے کہ امتحان یا تو شرمندگی کا باعث ہے یا سرخروئی کا ..امتحان وہ واحد مکینیزم ہے جو انسان کی صلاحیت ، ہنر ، قابلیت جانچنے کا پیمانہ ہے .امتحان کی کئی صورتیں ہوتی ہیں .کھلاڑی کا کھیل اس کا امتحان ہے ڈرائیور کی ڈرائیونگ اس کا امتحان ہے .سیاستدان کی سیاست ، کاروباری کا کاروبار ،عالم دین کا عمل اور کردار ،افسر کی فرض شناسی ،حاکم کی دیانت صداقت اور انصاف ، قاضی کا عدل، سپاہی کی سرفروشی بچوں کی تابعداری ، ماں باپ کی دعا ان کا امتحاں ہے ..دنیا میں کوئی بھی امتحاں سے خالی نہیں .رب نے اعمال کی کسھوٹی مقرر کی اوردنیا کودارالامتحان کہا .قیامت کے حساب کتاب کا خوف دلایا ..رب سے اور اعمال کے حساب کتاب کا خوف دلایا ..یہ معیار ہے .دنیا میں ہر کامیابی کی کنجی محنت کو قرار دیا گیا ..امتحان کا خوف محنت کا معیار ہے .انسان جب بھی کامیابی کا خواب دیکھتا ہے وہ محنت کو اہمیت دیتا ہے اور امتحان سے خوف زادہ رہتا ہے ..یہ خوف سوز درون ہے یہی ٹائیگر بننے کا معیار ہے .اللہ کے نبی صل اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حق کی روشنی پھیلانے کے لیے جو محنت کی جو مصائب سہے دنیا کی تاریخ اس کا گواہ ہے .محنت مسلماں کا شعار ہے .اسی محنت کےبل بوتے دنیا آگے بڑھ رہی ہے .سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی کے پیچھے لیبارٹری کےاندر انسانوں(سائسدانوں ) کی وہ سالوں کی جانفشانی ہے جو انسانوں کی زندگی ہی بدل دی ہے مگر وہ حقیقی محنت ہے .دنیا کی ترقی یافتہ قوموں میں سیکھنے کے عمل میں محنت و شاقہ کارفرما ہے بچے کلاس روم ، تعلیمی ادارے کی چار دیواری اور لیبارٹریز میں سیکھتے ہیں .اساتذہ سے سیکھتے ہیں لیکن ہماری بد قسمتی یہ ہے کہ معلم کو فکر نہیں ہے کہ اس نے کچھ سیکھایا بھی ہے کہ نہیں اور نہ متعلم کو غم ہے کہ اس نے سیکھا کیا ہے بہت کم لوگوں کو یہ فکر لاحق ہوتی ہے اور کامیاب بھی وہی لوگ ہیں …ہمارا تعلیمی نظام سیکھنے کے عمل کی حقیقت سے کوسوں دور ہے ہماری سب یونیورسٹیوں نے اپنا معیار کھو دیا ہے ہمارے سرکاری سکولوں کے اندر تعلیمی سرگرمیاں سوالیہ نشان ہے .ہمارے سکولوں میں سائنس کے مضامین کے اساتذہ کتابوں سے عبارت پڑھاتے ہیں .سال کے آخر میں بورڈ امتحانات کے دوران پریکٹیکل کی کاپیاں خرید کر بچے کاپیوں میں عبارتیں نقل کرکے پریکٹیکل کے امتحان میں لے کے جاتے ہیں .سکول سے یونیورسٹی سطح تک کاپی کلچر چل رہا ہے .ایم فل اور پی ایچ ڈی کی تھیسس کاپی کی جارہی ہیں .سکولوں میں ادب پڑھاتے ہوئے زبان کے بنیادی اصولوں گرائمر اور بیک گراونڈ نالج سے معلم اور متعلم دونوں نابلد لگتے ہیں .امتحان سرپر ہو تب بھی کسی طالب علم کو احساس تک نہیں ہوتا کہ کل مجھے امتحان ہال میں بیٹھنا ہوگا .اس کو پتہ ہے کہ امتحان ہال میں امتحانی عملہ امتحان لینے نہیں دینے آئینگے .وہ یاتو مافیا ہوں گے یا کرپشن کو اخلاقی جواز سمجھیں گے .نقل کرنے کو مدد کہیں گے اور نقل کرکے پاس ہونے کو کامیابی کہیں گے .باصلاحیت بچہ اس طوفان بدتمیزی میں عرق ہو جائے گا اور اگلی بار گھوڑا بھیج کر پاؤں پھیلا کر سوجائے گا ادارے کا نتیجہ سوفیصد أئے گا سربراہ اور اساتذہ کو انعامات سے نوازا جائے گا .قوم کو نا اہلوں کی کھیپ مل جائے گی .یہی نقل کی پیداوار کسی پیشے کو اختیار کریں گے تو ادارہ نا اہلوں سے بھر جائے گا ..امتحان کا خوف امتحان کی حرمت ہے اہلیت کا معیار ہے .جتنا خوف بڑھے گا اتنا کامیابی میں مزہ أئے گا دنیا میں انسان امتحانات اور أزمائشوں سے گزر کر ہی کندن بن جاتا ہے اور دنیا کی تاریخ کو چھوڑ کر امت مسلمہ کی تاریخ کا مطالعہ کریں تو اللہ کے نبی صل اللہ علیہ و آلہ وسلم کی موجودگی کے باوجود جن کھٹن امتحانات سے امت گزری ہے یہ نا قابل یقین ہے .ہمارے تعلیمی اداروں میں نقل ناسور بن گئی ہے کنسر کا مرض ہے ٹیومر ہے جو صلاحیتوں کو کھا رہی ہے ساتھ أئی ٹی کے چکا چوند میں AI .chat GPT وغیرہ رہی سہی تخلیقی سرگرمیاں کھا گئی ہیں امتحانی بوڈرز کی ناقص پالیسیاں اور کارکردگی نہلے پہ دھلا ہے .طالب علم ایک ہزار میں سے نو سو اسی نمبر لیتا ہے اگر حقیقت میں اسی پرچے کو چیک کیا جائے تو کل نمبر 500 بنتے ہیں .اسی سکورنگ کے لیے ایڑھی چوٹی کا زور لگایا جاتا ہے .تب امتحان کا خوف کہاں رہے امتحان ایک انجائمنٹ بن گیا ہے بچے امتحان ہال کی طرف ایسے جارہے ہیں جیسے کوئی کہیں تفریح کو جائیں ..



