تازہ ترین

وفاقی حکومت کی جانب سے ایک بار پھر پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کر کے عوام پر مہنگائی کا مزید بوجھ ڈال دیا گیا ہے /وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی

صوبائی کابینہ کا 50واں اجلاس وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زر صدارت جمعہ کے روز بذریعہ ویڈیو لنک منقد ہوا۔ صوبائی اراکین کابینہ کے علاوہ چیف سیکریٹری، ایڈشنل چیف سیکریٹری اور متعلقہ سیکریٹریوں نے اجلاس میں شرکت کی۔وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے صوبائی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے ایک بار پھر پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کر کے عوام پر مہنگائی کا مزید بوجھ ڈال دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تقریباً 45 فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے جا چکی ہے جو کہ 10 کروڑ سے زائد افراد بنتی ہے، اور مہنگائی کا سب سے زیادہ اثر اسی طبقے پر پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ مہنگائی کا بوجھ صرف غریب طبقے تک محدود نہیں بلکہ مڈل کلاس اور اپر مڈل کلاس بھی اس دباؤ کو برداشت نہیں کر پا رہی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ وقتی اور نمائشی اقدامات کے بجائے مستقل اور دیرپا پالیسی سازی کی ضرورت ہے کیونکہ قومیں اسی وقت ترقی کرتی ہیں جب قیادت واضح اور مؤثر پالیسیوں کے ساتھ آگے بڑھتی ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ عمران خان کے دور حکومت میں عالمی سطح پر کورونا وبا اور مہنگائی کے باوجود پاکستان کی معیشت 6.1 فیصد شرح سے ترقی کر رہی تھی۔ اس وقت عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں زیادہ ہونے کے باوجود عوام کو ریلیف فراہم کیا گیا اور پیٹرول کی قیمت کو 150 روپے تک محدود رکھا گیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں پیٹرول کی قیمت 450 روپے سے تجاوز کر چکی ہے جو حکومتی پالیسیوں کی ناکامی کا واضح ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلط شدہ حکمرانوں کے پاس نہ کوئی واضح پالیسی ہے اور نہ ہی اصلاحات کا کوئی ایجنڈا، جبکہ عوامی مسائل کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت عوام کے ووٹ سے اقتدار میں آئی ہے اور عوام کی خدمت ہماری اولین ذمہ داری ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت نے موٹر سائیکل سواروں اور کسانوں کے لیے ریلیف پالیسی متعارف کروائی ہے جسے قومی سطح پر بھی سراہا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی سطح کے بحران کے باوجود خیبر پختونخوا حکومت پاکستان کے مفاد میں اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاق کی جانب سے صوبائی وسائل میں کٹوتی کی کوشش کی گئی تاہم صوبائی حکومت نے مؤثر انداز میں اپنا مقدمہ پیش کرتے ہوئے ان کٹوتیوں کو کم سے کم سطح تک محدود کر دیا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبہ حالیہ سیلابوں اور کلاؤڈ برسٹ سے ہونے والے نقصانات کا بوجھ خود برداشت کر رہا ہے جبکہ این ایف سی کے تحت صوبے کا حصہ مکمل طور پر ادا نہیں کیا جا رہا۔ انہوں نے کہا کہ قبائلی اضلاع کو انتظامی طور پر صوبے میں ضم کیا گیا ہے مگر مالی انضمام تاحال مکمل نہیں ہوا اور ان علاقوں کے اخراجات صوبائی حکومت اپنی جیب سے ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ناکام قومی پالیسیوں کے باعث دہشتگردی نے دوبارہ سر اٹھایا، عوام کو گھروں سے جبری انخلا پر مجبور کیا گیا اور دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بھی صوبہ اپنے وسائل استعمال کر رہا ہے جبکہ وفاق سے امداد نہیں مل رہی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ملک میں بڑھتے ہوئے تجارتی خسارے، بڑھتی درآمدات اور کم ہوتی برآمدات کے باعث ڈالر کے اخراج میں اضافہ ہو رہا ہے جس سے روپے کی قدر میں کمی اور مہنگائی میں مزید اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے بجلی مہنگی ہوگی جس کے نتیجے میں مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی دباؤ میں مزید اضافہ ہوگا۔ انہوں نے وفاقی حکومت پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر واضح اور جامع معاشی پالیسی سامنے لائے اور فائر فائٹنگ کے بجائے طویل المدتی حکمت عملی اختیار کرے۔ وزیراعلیٰ نے اعلان کیا کہ خیبر پختونخوا حکومت صوبائی سطح پر ایک جامع کرائسس مینجمنٹ پالیسی ترتیب دے رہی ہے تاکہ قدرتی آفات اور قومی بحرانوں کے دوران عوام کو فوری اور مؤثر ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ موٹر سائیکل سواروں اور کسانوں کے بعد دیگر متاثرہ طبقات کے لیے بھی ریلیف پیکیج پر کام جاری ہے جس کا جلد اعلان کیا جائے گا۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صوبائی حکومت مہنگائی کے اس دور میں عوام کو ہر ممکن ریلیف فراہم کرے گی اور انہیں مہنگائی کے بوجھ تلے دبنے نہیں دے گی۔
اجلاس میں کئے گئے فیصلوں کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے وزیر اعلی کے معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان نے بتایا کہ کابینہ نے ضم شدہ اضلاع کے لئے یونیورسٹی آف ایپلائیڈ اینڈ ماڈرن سائنسز کے قیام کی منظوری دیدی جبکہ اس اسٹیٹ آف دی آرٹ یونیورسٹی کے قیام کے لئے جزئیات کو حتمی شکل دینے کے لئے صوبائی وزیر بلدیات کی سربراہی میں کمیٹی کے قیام کا فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس میں صوبائی حکومت کی کفایت شعاری پالیسی کے تحت زرعی یونیورسٹی میں معاون عملے کے 55 خالی آسامیوں کو ختم کرنے کی منظوری دیدی، اس فیصلے سے صوبائی حکومت کو ماہانہ 90 لاکھ روپے کی بچت ہوگی۔ شفیع جان نے بتایا کہ صوبائی کابینہ نے اعلی تعلیم کے شعبے میں ایک اہم اقدام کے طور پر پوسٹنگ ٹرانسفرز گائیڈ لائنز کی اصولی منظوری دیدی، ان گائیڈ لائنز پر عملدرآمد سے دور افتادہ علاقوں کے کالجوں میں تدریسی اور انتظامی عملے کی کمی کو پوری کرنے میں مدد ملے گی۔ اسی طرح کابینہ نے بعض ضروری اخراجات کی مد میں محکمہ اوقاف کے لئے 229 ملین روپے گرانٹ ان ایڈ کی مشروط منظوری دیدی، کابینہ نے موجودہ بحرانی صورتحال کے پیش نظر گریڈ 20 اور اسے اوپر کے سرکاری افسران کی دو دن کی بنیادی تنخواہوں میں رضاکارانہ کٹوتی کی تجویز سے اصولی اتفاق کرتے ہوئے محکمہ خزانہ کو ان افسران کی رضامندی حاصل کرنے کے لئے طریقہ کار وضع کرنے کی ہدایت کی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ خیبر پختونخوا کی گزشتہ اور موجودہ حکومت نے کفایت شعاری پالیسی کے تحت اب تک سرکاری گاڑیوں کے پی او ایل پر مجموعی طور پر 60 فیصد کٹوتی کی ہے۔ معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ صوبائی کابینہ نے خیبر پختونخوا میڈیکل ٹیچنگ انسٹیٹیوشنز ایپلیٹ ٹریبیونل رولز 2020 میں ضروری ترامیم کی منظوری جبکہ سیدو گروپ آف ٹیچنگ ہاسپٹل کو ایم ٹی آئی کا درجہ دینے کی منظوری دیدی۔ مزید برآں کابینہ نے تھیلیسمیا کے مرض میں مبتلا نادار بچوں کے علاج کے سلسلے میں فاطمید فاونڈیشن کے لئے ایک کروڑ روپے گرانٹ ان ایڈ، صوبے کے مختلف ہسپتالوں میں 598 پیڈ انٹرنی نرسوں کے آسامیوں کی تخلیق اور تیمرگرہ میڈیکل کالج کو فعال بنانے اور وہاں پر جلد کلاسوں کے اجراء کو یقینی بنانے کے لئے 993 ملین روپے گرانٹ ان ایڈ کی منظوری دیدی۔ انہوں نے بتایا کہ کابینہ نے خیبر پختونخوا ہیلتھ کیئر کمیشن کے سات نئے نن آفیشل ممبرز کی تعیناتی کی بھی منظوری دیدی۔
شفیع جان نے بتایا کہ کابینہ نے پاروا ڈی آئی خان میں تحصیل اسپورٹس کمپلیکس کے قیام کے سلسلے میں زمین کی خریداری کے لئے نن اے ڈی پی اسکیم، پاک افعان سیریز 2025 اور ایشیا کپ 24-2023 میں شرکت کرنے والے خیبر پختونخوا کے ویل چئیر کرکٹ کھلاڑیوں کے لئے مالی معاونت جبکہ حال ہی میں پشاور میں منعقدہ ہونے والے نیشنل باڈی بلڈنگ چیمپئن شپ کی سپانسرشپ کے لئے خصوصی گرانٹ ان ایڈ کی منظوری دیدی۔
انہوں نے اگاہ کیا کہ اجلاس میں خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ پشاور کے دو نئے ممبران کی تعیناتی جبکہ رواں مالی سال کے دوراں مفتی محمود کالج ڈی آئی خان کے لئے 80 ملین روپے گرانٹ ان ایڈ کی منظوری دیدی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اجلاس میں بطور پائلیٹ پراجیکٹ بعض سرکاری سکولوں میں میٹرک ٹیک اور انٹر ٹیک پروگرامز متعارف کرانے کی منظوری دیدی گئی، اس دو سالہ منصوبے پر 450 ملین روپے لاگت آئے گی، منصوبے کے تحت صوبے کے 70 سرکاری اسکولوں کو سینٹر آف ایکسیلنس کا درجہ دیا جائے گا جبکہ مجوزہ منصوبے کے تحت جدید عصری تقاضوں سے ہم تکنیکی مہارت حاصل کرنے کے لئے 1650 طلباء کو سکالر شپس فراہم کئے جائیں گے۔ کابینہ نے صوبائی چیف سیکرٹری آفس کے سروس ڈیلیوری یونٹس میں مارکیٹ بیسڈ سیلری پالیسی کے تحت سات عملے کی تعیناتی کی منظوری دیدی۔ اجلاس میں الیکٹریسٹی رولز 1937 کے تحت مختلف فیسوں کی ادائیگیوں کے لئے ڈیجیٹل پلیٹ فارم استعمال کرنے، مدائن ہائیڈرو پاور اسٹیشن کے منصوبے کو ورلڈ بینک کے پروگرام سے نکالنے اور اس منصوبے پر عملدرآمد کے لئے دیگر قابل عمل آپشنز کی طرف جانے کی منظوری دیدی گئی۔ اجلاس میں خیبر پختونخوا ایکسائز ڈیوٹی آن منرلز لیبر ویلفیئر ایکٹ 2021 میں بعض ضروری ترامیم کی منظوری دیدی گئی۔ شفیع جان نے بتایا کہ کابینہ نے معربی سرحدوں پر جاری تناو کے نتیجے میں ضلع لوئر چترال کے سرحدی علاقہ ارندو کے اندرونی طور پر نقل مکانی کرنے والے خاندانوں کے لئے قائم کیمپ میں سہولیات کی فراہمی کے سلسلے میں ضلعی انتظامیہ کو مزید 20 ملین روپے کی فراہمی اور دیگر ریلیف اقدامات کی منظوری دیدی۔
اجلاس میں رواں مون سون سیزن میں کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنے کے لئے پیشگی اقدامات کے طور پر کشتیوں اور دیگر ضروری سامان اور آلات کی خریداری کے لئے محکمہ ریلیف کو 785 ملین روپے جاری کرنے، آنے والے مالی سال کے بجٹ کی تیاری کے لئے بجٹ اسٹریٹجی پیپر 27-2026 کی بھی منظوری دیدی گئی جبکہ پیچیدہ بیماریوں میں مبتلا 27 مستحق مریضوں کے علاج معالجے کے لئے مالی معاونت کی منظوری دیدی گئی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button