عالمی یومِ نرسز — انسانیت کے خاموش محافظوں کو خراجِ تحسین تحریر: ظفراحمد

ہر سال 12 مئی کو دنیا بھر میں International Nurses Day منایا جاتا ہے تاکہ نرسز کی بے لوث خدمات، قربانیوں اور انسانی جانوں کو بچانے کے لیے ان کی انتھک جدوجہد کو خراجِ تحسین پیش کیا جا سکے۔۔ یہ دن Florence Nightingale کی سالگرہ کے موقع پر منایا جاتا ہے جنہیں جدید نرسنگ کی بنیاد رکھنے کا اعزاز حاصل ہے۔
نرسز کسی بھی معاشرے کے نظام صحت کا سب سے مضبوط ستون سمجھی جاتی ہیں ۔وہ صرف مریضوں کی دیکھ بھال نہیں کرتیں بلکہ اپنے نرم رویے، ہمدردی اور پیشہ ورانہ مہارت سے مریضوں اور ان کے اہلِ خانہ کو امید اور حوصلہ بھی فراہم کرتی ہیں ہسپتالوں کے مصروف وارڈز ہوں، ایمرجنسی کی صورتحال ہو یا دور دراز علاقوں کے مراکز صحت، نرسز ہر جگہ خاموشی کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں نبھاتی نظر آتی ہیں۔۔
نرسنگ محض ایک ملازمت نہیں بلکہ انسانیت کی خدمت کا ایک عظیم مشن ہے۔ ایک نرس مریض کے درد کو محسوس کرتی ہے اس کی تکلیف میں اس کا سہارا بنتی ہے اور مشکل ترین حالات میں بھی اپنی ذمہ داری سے پیچھے نہیں ہٹتی۔ وباؤں، حادثات اور ہنگامی حالات میں نرسز نے ہمیشہ فرنٹ لائن پر رہ کر اپنی جانوں کی پروا کیے بغیر انسانیت کی خدمت کی مثال قائم کی ہے۔
پاکستان میں نرسز شعبہ صحت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں۔ محدود وسائل، طویل ڈیوٹی اوقات اور شدید ذہنی دباؤ کے باوجود پاکستانی نرسز اپنی خدمات نہایت محنت، صبر اور ذمہ داری کے ساتھ انجام دے رہی ہیں۔۔ ان کی خدمات یقیناً معاشرے کی عزت، اعتراف اور بہتر سہولیات کی مستحق ہیں۔
خصوصاً چترال سے تعلق رکھنے والی نرسز قابل فخر ہیں جو ملک کے مختلف حصوں میں اپنی قابلیت، محنت اور خدمتِ خلق کے جذبے کے تحت نمایاں خدمات سرانجام دے رہے ہیں ۔چترال جیسے دور افتادہ علاقے سے تعلق رکھنے کے باوجود انہوں نے ثابت کیا ہے کہ جذبہ، محنت اور لگن انسان کو ہر میدان میں کامیاب بنا سکتی ہے۔ ان کی خدمات نہ صرف شعبۂ صحت بلکہ پورے معاشرے کے لیے باعثِ افتخار ہیں۔
عالمی یومِ نرسز ہمیں یہ احساس دلاتا ہے کہ ایک صحت مند معاشرہ نرسز کی انتھک محنت کے بغیر ممکن نہیں۔ یہی وہ خاموش محافظ ہیں جو اپنی شفقت، خدمت اور قربانیوں سے بے شمار زندگیوں میں امید اور زندگی کا چراغ روشن رکھے ہوئے ہیں



