مضامین

داد بیداد..بنو قابل..ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

بنو قابل الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان کے 12 بڑے بڑے فلاحی اور رفاہی پروگراموں میں سے ایک پروگرام ہے جس کے تحت ملک کے طول و عرض میں نوجوانوں کو ایک مربوط اور مسلسل تربیتی مرحلوں سے گزار کر جدید دور کے تقاضوں کے عین مطابق کمپیوٹر ہارڈ ویئر، سافٹ ویئر اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے 15 شعبوں میں مفت تعلیم دی جاتی ہے۔ سرٹیفیکیٹ، ڈپلومہ اور ڈگری کے مختلف درجوں میں اس تعلیم و تربیت کا مقصد نوجوانوں کو مارکیٹ کی ڈیمانڈ کے عین مطابق ہنرمند بنا کر خود انحصاری کی راہ پر ڈالنا ہے۔ مثال کے طور پر ڈیجیٹل مارکیٹنگ، آرٹیفیشل انٹیلی جنس، ویب ڈیولپمنٹ، گرافک ڈیزائننگ، ای کامرس وغیرہ میں ہنرمندی کی قابل قبول سند حاصل کرنے والے نوجوان عالمی مارکیٹ میں آسانی سے اپنی جگہ بنا سکیں گے۔

بڑے شہروں میں ”بنو قابل“ کے اہم منصوبوں پر کام پہلے ہی نظر آرہا تھا۔ اس پروگرام میں نیا موڑ گزشتہ روز آیا جب لوئر چترال کے پہاڑی ضلع میں 12 ہزار طلباء و طالبات کا ٹیسٹ لیا گیا۔ اس ٹیسٹ کے دو پہلو پورے ملک کے لیے سبق اور نمونے کا درجہ رکھتے ہیں۔ پہلا سبق یہ ہے کہ چترال ٹاؤن کے جڑواں پولو گراؤنڈز میں شندور پولو ٹورنامنٹ میں شرکت کرنے والی 65 ٹیموں کے میچ جاری تھے، چترال پولو ایسوسی ایشن اور ضلعی انتظامیہ نے جاری میچوں میں ایک دن کا وقفہ کرکے دونوں پولو گراؤنڈ ”بنو قابل“ ٹیسٹ کے لیے خالی کر دیے۔ اس خیر سگالی کا مثبت جواب دیتے ہوئے الخدمت فاؤنڈیشن کی ٹیم نے 16 گھنٹوں کے اندر پولو گراؤنڈ کو صاف اور شفاف حالت میں پولو ایسوسی ایشن اور ضلعی انتظامیہ کے حوالے کر دیا۔ دونوں مثالوں کا ملنا آسان نہیں بلکہ بے حد مشکل ہے۔

Travel Guides & Travelogues

ٹیسٹ میں شریک طلباء و طالبات سے خطاب کرتے ہوئے الخدمت فاؤنڈیشن کے ضلعی سرپرست سابق ضلع ناظم حاجی معفرت شاہ نے کہا کہ جدید تعلیم اور ہنر کے شوقین نوجوانوں کا اتنی بڑی تعداد میں ”بنو قابل“ پروگرام کے پہلے ٹیسٹ میں شامل ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ چترال کی نئی نسل صدیوں پرانے روایتی کھیلوں میں اپنی مہارت کا لوہا منوانے کے ساتھ ساتھ جدید تعلیم کے ساتھ منسلک مہارتوں کو سیکھنے میں بھی کمال درجے کا شوق و ذوق رکھتی ہے۔ ہماری نئی نسل صرف ماضی کے خوابوں میں جینا نہیں چاہتی بلکہ مستقبل کے سہانے خوابوں کو اپنی اعلیٰ مہارتوں کے ذریعے شرمندۂ تعبیر کرنا بھی چاہتی ہے۔ تم اس نسل کے سچے نمائندے ہو جو ستاروں پہ کمند ڈالنا جانتی ہے اور کائنات کی تسخیر کے سفر کو حقیقت کا روپ دینا چاہتی ہے۔

”بنو قابل“ کے سرپرستِ اعلیٰ حافظ نعیم الرحمن، امیر جماعت اسلامی پاکستان، اس روز خصوصی طور پر لاہور سے چترال پہنچے تھے۔ انہوں نے چترال کے لوگوں کی علم دوستی، امن پسندی، رواداری اور حب الوطنی کے ساتھ اسلامی تعلیمات سے گہری وابستگی کو سراہتے ہوئے ”بنو قابل“ کے ٹیسٹ میں شرکت کرنے والے طلباء و طالبات کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ نصف صدی کے اندر عصری تعلیم کے میدان میں نئے انقلابات، رجحانات اور میلانات متعارف ہوئے۔ کمپیوٹر سائنس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی 15 اعلیٰ مہارتوں کو آنے والے دور کی مارکیٹ کے لیے ناگزیر ضرورت کا درجہ دیا جا رہا ہے۔ پاکستان کا متوسط اور سفید پوش طبقہ اپنے وسائل کے بل بوتے پر ان مہارتوں میں قابل قبول سند لینے کی استطاعت نہیں رکھتا، اس لیے الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان نے نئی نسل کے لیے مطلوبہ مہارتوں میں مفت تعلیم و تربیت کا ملک گیر منصوبہ شروع کیا ہے۔

اس منصوبے کے تحت جس سطح کی تعلیم و تربیت بڑے شہروں میں بڑے بڑے سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کی اولاد کو ملتی ہے، اسی سطح کی تعلیم و تربیت شہروں سے لے کر دیہات تک، کراچی سے لے کر چترال تک متوسط اور سفید پوش طبقے کی اولاد کو میسر کی جا رہی ہے۔ امیروں کو جو سہولت ان کی دولت کی وجہ سے حاصل ہے، غریبوں کو وہ سہولت الخدمت فاؤنڈیشن کے ”بنو قابل“ منصوبے کے تحت حاصل ہوگی اور آپ لوگ ان سہولتوں سے فائدہ اٹھانے والوں کی پہلی صف میں ہوں گے۔

انہوں نے الخدمت فاؤنڈیشن کے لوئر چترال چیپٹر کو کامیاب ٹیسٹ کے انعقاد پر مبارکباد دی، ”بنو قابل“ کی مقامی ٹیم کے کوآرڈینیٹر عبد الحق، ٹیسٹ منعقد کرنے والی ٹیم اور رجسٹریشن مکمل کرنے والے رضاکاروں کو شاباش دی۔ امید ہے کہ سال کے آخر تک اپر چترال کے ضلع میں بھی ”بنو قابل“ کے تعلیمی اور تربیتی مراکز قائم کیے جائیں گے اور ان مراکز میں داخلے کے لیے ٹیسٹ کا انعقاد کیا جائے گا۔

یاد رہے کہ الخدمت فاؤنڈیشن نے ”بنو قابل“ منصوبے کے لیے چترال میں 17 ہزار طلباء و طالبات کی رجسٹریشن کی تھی، ان میں سے 12 ہزار کو پہلے ٹیسٹ میں شامل کیا گیا۔ ملک کے علمی، سماجی اور کاروباری حلقوں نے ”بنو قابل“ منصوبے کو گیم چینجر قرار دیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت تربیت پا کر سند حاصل کرنے والے نوجوان ملک کے اندر مارکیٹ میں افرادی قوت کی کمی کو پورا کرنے کے علاوہ بیرونِ ملک بھی روزگار حاصل کر سکیں گے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button