چترال بازاروں اور مویشی منڈیوں میں عید خریداری جاری، مہنگائی نے عوام کو پریشان کر دیا

چترال (نمائندہ ) عیدالاضحیٰ کی آمد کے ساتھ ہی چترال کے بازاروں میں خریداری کا سلسلہ زور و شور سے جاری ہے۔ مختلف بازاروں میں شہریوں کا رش دیکھنے میں آرہا ہے، تاہم مہنگائی کے باعث خریداری کا رجحان ماضی کی نسبت کم دکھائی دے رہا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اشیائے ضروریہ، کپڑوں اور دیگر سامان کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے نے عام آدمی کی قوتِ خرید کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
دوسری جانب چترال کے مختلف علاقوں میں مویشی منڈیاں بھی سج گئی ہیں، مگر جانوروں کی بلند قیمتوں کے باعث وہاں خریداروں کا رش کم نظر آرہا ہے۔ بیوپاریوں کے مطابق دو سالہ چھوٹے جانوروں کی قیمت ایک لاکھ بیس ہزار سے دو لاکھ روپے تک طلب کی جارہی ہے، جبکہ بڑے جانوروں کی قیمتیں دو لاکھ تیس ہزار سے بڑھ کر ساڑھے تین لاکھ روپے تک پہنچ گئی ہیں۔
اسی طرح چھوٹے بکرے 30 ہزار سے 40 ہزار روپے جبکہ بڑے بکرے 50 ہزار سے 70 ہزار روپے تک فروخت کیے جارہے ہیں، جو متوسط اور سفید پوش طبقے کی قوتِ خرید سے باہر ہوتے جارہے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال کی نسبت اس سال قربانی کے جانوروں کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
مقامی افراد کے مطابق بعض فلاحی اداروں اور ٹرسٹوں کی جانب سے بڑی تعداد میں جانور خریدنے کے باعث بیوپاری منہ مانگے دام وصول کررہے ہیں۔ بڑھتی مہنگائی کے پیشِ نظر اکثر متوسط طبقے کے لوگ انفرادی قربانی کے بجائے اجتماعی اور مشترکہ قربانی کو ترجیح دینے پر غور کررہے ہیں تاکہ سنتِ ابراہیمی بھی ادا ہو اور مالی بوجھ بھی کم پڑے۔



