مضامین

دادبیدار..بے زبانوں کی زبانی..ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

عربی میں ہر جاندار کو حیوان کہا جاتا ہے دوسرے جانداروں سے الگ شناخت رکھنے والے انسان کو “حیوانِ ناطق” یعنی بولنے والا جاندار کہتے ہیں انسانی بستیوں میں انسانوں کے ساتھ ساتھ جانوروں کے لئے بھی شفا خانے ہوتے ہیں انسان خود چل کر شفا خانہ جاتا ہے جانور کو اُس کا مالک بانک کر شفا خانہ لے جاتا ہے ترقی یافتہ اقوام کے ہاں جانوروں کا شفا خانہ بھی انسانوں کے ہسپتال کی برابری کرتا ہے ، ٹیسٹ ، ایکسیرے ، الٹرا ساؤنڈ اور آپریشن کی جو سہولیات انسانوں کو میسر ہیں وہی سہولیات جانوروں کو بھی میسر ہوتی ہیں لیکن پاکستان اور افغانستان جیسے ترقی پذیر یا ترقی سے کوسوں دور ممالک میں جانوروں کو علاج معالجہ کی کوئی سہولت میسر نہیں ہوتی یہاں جانور کی بیماری کا مطلب ہوتا ہے موت ، موت کے سوا کچھ نہیں ، وجہ یہ ہے کہ جانور کو حیوانِ ناطق کا درجہ حاصل نہیں۔
​وہ بے زبان مخلوق ہے اور بے زبانوں کی زبانی حالِ دل کا کچھ پتہ نہیں ہوتا چترال کے دونوں اضلاع میں قیامِ پاکستان کے بعد شفا خانہ حیوانات کے کئی مراکز کھولے گئے اور مال مویشیوں کے علاج کا باقاعدہ آغاز کیا گیا مگر ان مراکز کو وہ اہمیت نہیں ملی جو انسانوں کے شفاخانوں کو حاصل ہوئی وجہ یہ ہے کہ انسان بولتا ہے، مطالبہ کرتا ہے فریاد کرتا ہے، دہائی دیتا ہے، بے زبان مخلوق اپنا دکھ درد کسی کو نہیں سنا سکتی ہمدم دیرینہ ڈاکٹر سفیر اللہ کا شمار ہمارے حلقہ احباب کے قابل ڈاکٹروں میں ہوتا ہے انہوں نے پہلے ویٹرنری میڈیسن میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری لی اس کے بعد انہوں نے ویٹرنری سائنسز میں پی ایچ ڈی کی اعلیٰ ترین ڈگری حاصل کی، چنانچہ بے زبانوں کے علاج کی جگہ بے زبانوں کے علاج پر تحقیق اور تجربات کا میدان چن لیا اب اس میدان میں اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھا رہے ہیں ۔ اور چار دانگِ عالم میں اپنا لوہا منوا رہے ہیں ڈاکٹر سفیر اللہ صاحب کے ساتھ ایک نشست میں اس مضمون کے کئی پہلوؤں پر گفتگو ہوئی بے زبانوں کی زبان میں ویٹرنری سائنس کے کئی شعبے ہیں بار برداری اور سواری کے جانوروں کا شعبہ الگ ہے ، پرندوں کا شعبہ الگ ہے ، گوشت کھانے والے جنگلی اور پالتو جانوروں کا الگ شعبہ ہے دودھ اور گوشت کے لئے جو جانور پالے جاتے ہیں ان کا شعبہ الگ ہے خیبر پختونخوا میں جانوروں کے علاج کا جو شعبہ ہے اس کو توسیعی شعبہ کہا جاتا ہے اس کا سرکاری نام ڈائریکٹوریٹ آف لائیو سٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ یعنی مال مویشیوں کے علاج اور دودھ کی پیداوار میں ترقی کا توسیعی شعبہ ہے ، دوسرے درجے میں تحقیق اور سائنسی تجربات کا ذکر آتا ہے اس کا نام ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ریسرچ ہے ۔ اُس کے تحت جانوروں کی بیماریوں پر تحقیق ہوتی ہے، گوشت اور دودھ کی بہتر پیداوار دینے والے جانوروں کی افزائشِ نسل کے ساتھ ساتھ نسلیاتی اختلاط نیو بریڈ یا کراس بریڈ پر تحقیق ہوتی ہے اس سلسلے میں ہندوکش ، قراقرم اور ہمالیائی پہاڑوں میں پائی جانے والی منفرد چوپائے یعنی خوشگاو(Yak)کی افزائش نسل پر کام ہورہا ہے یہ عجیب اتفاق ہے کہ خیبر پختونخوا کے اندر اپر چترال واحد ضلع ہے جہاں خوشگاؤ (Yak) کو پالتو جانور (Domesticated animal) کے طور پر گھروں میں رکھا جاتا ہے۔ بروغل کی وادی میں یاک سے بار برداری کا کام بھی لیا جاتا ہے کھوت ، مہڑپ اور لاسپور میں صرف دودھ اور گوشت کے لئے پالا جاتا ہے ڈاکٹر سفیر اللہ نے یاک پر تحقیق کے حوالے سے کئی بین الاقوامی کانفرنسوں میں شرکت کی جہاں چین، تبت اور نیپال کے محققین کے ساتھ تبادلہ خیالات کے مواقع ملے اپر چترال کے علاوہ لوئر چترال میں بھی یاک کی افزائشِ نسل کے وسیع امکانات موجود ہیں اس طرح چترال میں گائے اور بھیڑ کی مقامی نسلیں پائی جاتی ہیں جن کی افزائش سے بہت تھوڑے خرچ پر دودھ اور گوشت کی بہتر پیداوار حاصل کی جاسکتی ہے خیبر پختونخوا کی حکومت نے اس مقصد کے لئے سٹیٹ آف دی آرٹ لیبارٹری چترال میں قائم کی ہے۔خوشگوار(Yak)کی افزائش نسل پر تحقیقی تجربات کے لیے ایک ریسرچ سنٹر کا جامع منصوبہ سالانہ ترقیاتی پروگرام میں رکھا گیا ہے

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button