مضامین

چترال میں عملی اخوت…… چترال کی سرزمین ہمیشہ محبت، غیرت، وفاداری اور انسان

دوستی کی علامت رہی ہے۔ یہاں کے لوگ خوشیوں میں بھی ایک دوسرے کے شریک ہوتے ہیں اور غم کے لمحوں میں بھی ایک جسم کی مانند دکھائی دیتے ہیں۔ گزشتہ دنوں وطنِ عزیز پاکستان کی خدمت کے دوران چترال کے چند نوجوانوں کی شہادت نے پورے علاقے کو سوگوار کر دیا۔ یہ صرف چند گھروں کا غم نہیں تھا بلکہ پورے چترال کے دل زخمی تھے۔ ہر آنکھ اشکبار، ہر دل غمزدہ اور ہر گھر ماتم کناں دکھائی دے رہا تھا۔

ایسے نازک اور درد بھرے ماحول میں چترال پولو گراؤنڈ میں فائنل میچ کا انعقاد یقیناً ایک حساس معاملہ تھا۔ کھیل اپنی جگہ اہم سہی، مگر جب قوم کے بہادر بیٹے وطن پر قربان ہو جائیں تو انسانیت اور اجتماعی احساس سب سے مقدم ہو جاتا ہے۔ سوگ کی اس فضا میں جشن اور تماشے کا انعقاد اہلِ دل کے لیے باعثِ تکلیف محسوس ہو رہا تھا۔

یہ چترال کی خوش نصیبی ہے کہ یہاں ایسے درد مند اور باشعور لوگ موجود ہیں جو قوم کے جذبات کی صحیح ترجمانی کرتے ہیں۔ معروف کالم نگار ، کئی عربی کتابوں کے مصنف۔ کامیاب بزنس مین مولانا عبد الحی صاحب نے بروقت اپنی آواز بلند کی اور شہداء کے خاندانوں کے غم کو محسوس کرتے ہوئے اس حساس معاملے کی طرف توجہ دلائی۔ ان کی تحریر دراصل اہلِ چترال کے دلوں کی آواز تھی۔

اسی طرح امیر جمعیت علمائے اسلام چترال مولانا عبد الرحمن نے نہایت ذمہ داری، حکمت اور درد مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کوششیں کیں کہ غمزدہ خاندانوں کے جذبات کا احترام کیا جائے۔ ان کی کوششوں کے نتیجے میں پولو فائنل ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا گیا، جو یقیناً ایک قابلِ تحسین اور دانشمندانہ اقدام ہے۔
یہ فیصلہ محض ایک کھیل کگا التوا نہیں بلکہ انسانیت، ہمدردی، قومی یکجہتی اور شہداء کے احترام کا عملی اظہار ہے۔ اس اقدام نے ثابت کر دیا کہ چترال کے لوگ صرف روایات کے امین نہیں بلکہ اعلیٰ انسانی اقدار کے بھی محافظ ہیں۔

ہم تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں ڈپٹی کمشنر چترال کا، جنہوں نے عوامی جذبات کا احترام کرتے ہوئے دانشمندانہ فیصلہ کیا۔
شکریہ مولانا عبد الحی صاحب کا جنہوں نے قلم کی حرمت کو نبھاتے ہوئے قوم کے احساسات کی ترجمانی کی۔
اور خصوصی شکریہ مولانا عبد الرحمن،صاحب کا،جنہوں نے
غمزدہ خاندانوں کے ساتھ یکجہتی کا عملی ثبوت پیش کیا۔

شہداء قوم کا سرمایہ ہوتے ہیں۔ ان کی قربانیاں صرف یاد رکھنے کے لیے نہیں بلکہ ان کے اہلِ خانہ کے دکھ درد کو اپنا دکھ سمجھنے کے لیے ہوتی ہیں۔ چترال نے آج ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ یہاں انسانیت زندہ ہے، احساس زندہ ہے، اور شہداء کے احترام کی روایت بھی زندہ ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button