257

جون 2017تک لواری ٹنل مکمل ہو گا ۔ اور میں چترال کے عوام کو لے کر اس کا افتتاح کرں گا۔وزیراعظم میاں محمدنوازشریف

چتر ال ( نمایندہ اُمت) وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے ۔ کہ میں چترال کے لوگوں سے دلی محبت رکھتا ہوں ، میں اپنے گذشتہ دور حکومت میں بطور وزیر اعظم چترال کا دورہ کیا ، اب بھی وزیراعظم کی حیثیت چترال آیا ہوں اور 2018کے بعد بھی چترال آؤں گا ۔ میں چترال والوں کو خوشخبری یونیورسٹی کے قیام کی خوشخبری سناتا ہوں ۔ جہاں پڑھ کر چترال کے لوگ بھی ملک IMG_4800کے دوسرے شہروں کے اعلی تعلیم یافتہ لوگوں کی صف میں شامل ہوں گے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کے روز اپنے دورۂ چترال کے موقع پر چترال پولوگراؤنڈ میں ایک بڑے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ ااس موقع پر اُن کے ہمراہ سابق گورنر خیبر پختونخوا مہتاب عباسی ، مشیر وزیر اعظم امیر مقام ، وزیر مملکت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی انو شا رحمن ، ایم این اے اپر دیر صاحبزادہ طارق اللہ ، اقلیتی ایم این اے اسفن یار بھنڈارا ، ایم اینا ے چترال شہزادہ افتخارالدین ، ضلع ناظم چترال حاجی 21مغفرت شاہ اور صدر پاکستان مسلم لیگ چترال سید احمد موجود تھے ۔ وزیر اعظم نواز شریف کا جلسہ چترال کی تاریخ میں سب سے عظیم الشان جلسہ تھا ۔ جس میں چترال کے بتمام پارٹیوں نے مل کر اُن کا والہانہ استقبال کیا ۔ وزیر اعظم نے کہا ۔ مجھے خوشی ہے کہ چترال کے تمام لوگ علم سے دلچسپی رکھتے ہیں ۔ اور قومی زبان اُردو اچھی طرح جانتے ہیں ، اس لئے میں نے چترال کے لوگوں کی تعلیم سے دلچسپی کو پیش نظر رکھتے ہوئے کئی دن پہلے سے چترال میں یونیورسٹی کے قیام کا فیصلہ کیا ہے ۔ اور آج میں اس کا اعلان کرتا ہوں ۔ اور اپنی نگرانی میں یہ بناؤں گا ، انہوں نے کہا ۔ کہ چترال کے نوجوانوں کیلئے کچھ نہیں کیا گیا ۔ صرف ظفل تسلیاں دی گئیں ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ میں لواری ٹنل دیکھنے کیلئے آیا ہوں ۔ اور انشاللہ جون 2017تک لواری ٹنل مکمل ہو گا ۔ اور میں چترال کے عوام کو لے کر اس کا افتتاح کرں گا ۔ یہ وہ منصوبہ ہے ۔ جو 55سالوں سے جاری ہے ۔ چترال کے لوگوں کے ساتھ بہت ظلم ہوا یہ نہیں ہونا چاہیے تھا ۔ لیکن میں اسے مکمل کروں گا ۔ لواری ٹنل پر 27ارب روپے کی لاگت آرہی ہے ۔ موجودہ حکومت نے 10ارب روپے اُس پر خرچ کئے ہیں اور مزید 8ارب روپے اُس پر خرچ کئے جائیں گے ، 111111انہوں نے کہا ۔ کہ لواری ٹنل کے علاوہ چترال گرم چشمہ روڈ ، ایون بموریت روڈ اور چترال شندور روڈ تعمیر کئے جائیں گے دسمبر تک فزیبلٹی رپورٹ کی تیاری کے بعد کام شروع کیا جائے گا ۔ جبکہ چکدرہ چترال سڑک جسے چترال موٹروے بھی کہ سکتے ہیں مزید 17ارب روپے خرچ کئے جائیں گے ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ میرے دل میں کسی کیلئے کوئی بُغض نہیں ہے ۔ اگر بُغض ہوتا ۔ تو خیبر پختونخوا میں اپنی حکومت بنا لیتے ۔ لیکن ہم نے دوسروں کو حکومت بنانے کا موقع دیا ۔اور مزید تعاون کیلئے تیار ہیں ۔ لیکن بعض لوگ ایسے ہیں جو روز میرے خلاف بیان داغ دیتے ہیں ۔ اور یہ اُن کا وطیرہ بن گیا ہے ۔ مجھے اُن کے بیانات کے جوابات دینے کی کوئی ضرورت نہیں ۔ اُس کا جواب عوام دے رہے ہیں ، اللہ ایسے لوگوں کو ہدایت دے اور عوام کی خدمت کی توفیق عطا فرمائے ۔ اانہوں 132کے وی اے ٹرانسمیشن لائن کی تنصیب اور 108میگاواٹ گولین بجلی گھر کو اگلے سال مکمل ہونے کا اعلان کیا ۔ اور کہا ۔ کہ اس سے کم سے کم ایک سو دیہات کو بجلی دی جائے گی ۔ وزیر اعظم نے چترال میں لوگوں صحت کے حوالے سے درپیش مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے کہا ۔ کہ چترال میں لوگوں کے بروقت علاج معالجے کیلئے ہسپتال کی ضرورت ہے ۔ اور میں وزیر اعظم ہیلتھ پروگرام کے تحت 250بستروں کے جدید ہسپتال کا اعلان کرتا ہوں ۔ اور اس پر فوری طور پر کام شروع ہوگا ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ میں دل سے سچائی کے ساتھ اعلان کرتا ہوں ۔ اور نواز شریف جو اعلان کرتا ہے اُسے پورا کرتا ہے ۔ اس لئے اعلان کردہ منصوبے 2018تک مکمل ہوں گے ۔ اور باقی بعد میں تکمیل کو پہنچا دیے جائیں گے ۔ انہوں ڈسٹرکٹ گورنمنٹ چترال کیلئے 20کروڑ روپے کا اعلان کیا ۔ اور کہا ۔ کہ اس سے گلیاں ، بازار اور سنیٹیشن کے منصوبے مکمل کئے جائیں ۔ انہوں نے ایم این اے کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ۔ کہ ان کے ساتھ میرا تعلق پرویز مشرف کی وجہ سے نہیں ۔ بلکہ ان کے والد شزادہ محی الدین کی وجہ سے ہے ۔ جو کہ ہمارے دوست رہے ہیں ۔ اور میں نے اُن کو اسمبلی سے استعفی دینے سے منع کیا ۔ کہ اپنی نشست ہی میں چترال کی خدمت پر توجہ دو ۔ میں آپ کی مدد کروں گا ۔ اور میں نے اپنے وعدے کے مطابق اس کے ساتھ تعاون کیا ہے ۔ وزیرا عظم نے سابق گورنر مہتاب عباسی ، انجنئیرمقام کی تعریف کی ۔ جبکہ ضلع 3222ناظم چترال مغفرت شاہ کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا ۔ کہ انہوں نے جماعت اسلامی سے تعلق کے باوجود سیاست سے بالا تر ہوکر ہماری مہمان نوازی کی ۔ جو کہ قابل تعریف ہے ۔ وزیر اعظم نے بعد آزان ڈپٹی کمشنر آفس چترال میں تورکہو روڈ کا افتتاح کیا ۔ وزیر اعظم اس کے بعد گہریت میں اپنے ایک ذاتی ملازم کی شادی پر گہریت پہنچے ۔ اور ولیمہ میں شریک ہوئے ۔ اس موقع پر ایم این اے شہزادہ افتخارالدین ، ضلع ناظم مغفرت شاہ ، مشیر وزیر اعظم امیر مقام اور صدر پی ایم ایل سید احمد نے خطاب کیا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں